قومی زبان

عدالت سے یہاں روتا ہوا ہر مدعی نکلا

عدالت سے یہاں روتا ہوا ہر مدعی نکلا کرم فرمائی سے منصف کی ہر مجرم بری نکلا جو ہوتا عارضی صدمہ تو سہہ کر جی لیے ہوتے مگر کیا کیجئے داغ جدائی دائمی نکلا امیر شہر تیری بخششوں کا ہے پتہ ہم کو ملا جو تجھ سے اپنی آنکھ میں لے کر نمی نکلا یقیں ہوتا نہ تھا حیرت سے ہم سب کو رہے تکتے حمام ...

مزید پڑھیے

زیر لب آپ گنگنائے ہیں

زیر لب آپ گنگنائے ہیں دل میں لاکھوں خیال آئے ہیں سوچتا ہوں ترے زمانے میں کیا کبھی ہم بھی مسکرائے ہیں موسم گل کی تنگ دامانی پھول مانگے تھے خار پائے ہیں تیری محفل میں روشنی کے لئے آنسوؤں کے دیے جلائے ہیں

مزید پڑھیے

جس کی صفات قہر و غضب کے سوا نہیں

جس کی صفات قہر و غضب کے سوا نہیں واعظ کا وہ خدا ہے ہمارا خدا نہیں چارہ گری کا کرتے تھے دعویٰ بہت مگر تم سے علاج درد محبت ہوا نہیں کیا جانے اب کے آئی ہے کیسی یہ فصل گل پہلی سی وہ چمن کی معطر فضا نہیں اے چرخ تو نے سارے جہاں کو کیا تباہ افسوس تیرے ہاتھوں سے کوئی بچا نہیں بحر الم میں ...

مزید پڑھیے

بہار باغ مہماں دو گھڑی ہے

بہار باغ مہماں دو گھڑی ہے اسی سے اوس غنچوں پر پڑی ہے انہیں جان چمن کیونکر نہ سمجھوں ہے چہرہ پھول تو لب پنکھڑی ہے رخ گل گوں عرق آلود ہے یوں کہ جیسے اوس پھولوں پر پڑی ہے کوئی پرسان حال دل ہو کیونکر یہاں ہر ایک کو اپنی پڑی ہے ریاضؔ آواز آتی ہے جرس سے رہ تسلیم کی منزل کڑی ہے

مزید پڑھیے

مصحف رخسار پر زلف پریشاں دیکھ کر

مصحف رخسار پر زلف پریشاں دیکھ کر ہوں پریشاں کفر کے سائے میں ایماں دیکھ کر اے ستم ایجاد اے غارت گر صبر و سکوں دل پریشاں ہے تری زلف پریشاں دیکھ کر جوش وحشت میں جو آ نکلا میں گلشن کی طرف ہنس پڑے ہیں گل مرا چاک گریباں دیکھ کر موج بحر غم سے کھیلیں کیوں نہ آشفتہ مزاج ہمت دل اور بڑھ ...

مزید پڑھیے

اس شوخ کا ہم نے جو کبھی نام لیا ہے

اس شوخ کا ہم نے جو کبھی نام لیا ہے وہ ہوک اٹھی ہے کہ جگر تھام لیا ہے لہراتے ہوئے شمع کے شعلے کی زباں سے پروانوں نے جل جانے کا پیغام لیا ہے محفل سے تری جب کیا اٹھنے کا ارادہ نظروں نے تری دامن دل تھام لیا ہے اب دیکھیے اس شوق کا انجام بھی کیا ہو ساقی سے چھلکتا ہوا اک جام لیا ...

مزید پڑھیے

جو حسن تجھ میں ہے وہ اختر و قمر میں نہیں

جو حسن تجھ میں ہے وہ اختر و قمر میں نہیں تری مثال کا کوئی مری نظر میں نہیں یہ مانا رات ہوئی ختم صبح تو آئی سحر کا حسن مگر آج کیوں سحر میں نہیں سبب جو بات بنی اس کی سرفرازی کا وہ بات ذرہ برابر بھی راہبر میں نہیں متاع درد عطا کر اے ناوک مژگاں چبھن وہ پہلی سی میرے دل و جگر میں ...

مزید پڑھیے

تسلی دے کے بہلایا گیا ہوں

تسلی دے کے بہلایا گیا ہوں سکوں کی راہ پر لایا گیا ہوں عدم سے جانب گلزار ہستی میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں کڑی منزل عدم کی ہے اسی سے یہاں دم بھر کو ٹھہرایا گیا ہوں حقیقت کا ہوا ہے بول بالا میں جب سولی پہ لٹکایا گیا ہوں حقیقت سے میں افسانہ بنا کر ہر اک محفل میں دہرایا گیا ...

مزید پڑھیے

ابھی درد دل میں کمی کہاں ابھی چارہ گر کی تلاش ہے

ابھی درد دل میں کمی کہاں ابھی چارہ گر کی تلاش ہے مری زندگی ہے وہ شام غم کہ جسے سحر کی تلاش ہے یہی شوق ہے یہی مدعا یہی التجا یہی آرزو مری زندگی جو سنوار دے مجھے اس نظر کی تلاش ہے مجھے رہ گزار حیات میں پئے رہبری پئے بندگی ترے نقش پا کی تلاش ہے ترے سنگ در کی تلاش ہے جو بھٹک رہا ہے دل ...

مزید پڑھیے

وہ ظلم تو کرتے ہیں سزا سے نہیں ڈرتے

وہ ظلم تو کرتے ہیں سزا سے نہیں ڈرتے اس دور کے انسان خدا سے نہیں ڈرتے ایسے بھی ہیں کچھ لوگ جو دولت کے نشے میں مظلوم کی آہوں سے دعا سے نہیں ڈرتے ہر حال میں جینے کی قسم کھائی ہے ہم نے ہم اہل محبت ہیں جفا سے نہیں ڈرتے ہم زہر بھی پی لیں گے بڑے شوق سے لیکن ڈرتے ہیں مسیحا سے دوا سے نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1521 سے 6203