جب بھی آپ مجھے یاد آئے
جب بھی آپ مجھے یاد آئے پھول نگاہوں میں لہرائے آپ ملے تو آنکھ بھر آئی آپ گئے تو غم گھر آئے دیوانوں کی بات ہی کیا ہے ایک ہنسائے ایک رلائے دل کو پھر بھی چین نہ آیا ہم نے یوں ہی غم اپنائے ایسا وقت بھی آیا اکثر اپنی باتوں سے شرمائے
جب بھی آپ مجھے یاد آئے پھول نگاہوں میں لہرائے آپ ملے تو آنکھ بھر آئی آپ گئے تو غم گھر آئے دیوانوں کی بات ہی کیا ہے ایک ہنسائے ایک رلائے دل کو پھر بھی چین نہ آیا ہم نے یوں ہی غم اپنائے ایسا وقت بھی آیا اکثر اپنی باتوں سے شرمائے
نظر میں مدتوں عبرت کا منظر بیٹھ جاتا ہے صف فقرا میں جب کوئی تونگر بیٹھ جاتا ہے تضاد باہمی ہو بھائیوں میں اک تباہی ہے ہوں دیواریں اگر کچی تو پھر گھر بیٹھ جاتا ہے پرائے ہو گئے بیٹے نہ پوچھیں لاغری میں اب پریشاں باپ بوڑھا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے ضمیر و آبرو خودداریاں سب بیچی جاتی ...
ابھی تو زخم پرانے نہ بھول پائے ہیں حضور پھر مری وحشت پہ مسکرائے ہیں یہ حسن ابر رواں شعلہ ہائے لالہ و گل ترے جمال کی رعنائیوں کے سائے ہیں وہیں وہیں پہ سنبھالا ترے تصور نے جہاں جہاں بھی قدم میرے ڈگمگائے ہیں سنا چکی ہے مجھے بھی خزاں کی خاموشی جو گیت تو نے بہاروں کے ساتھ گائے ہیں
موسم سرما کی یہ ویران اور مغموم شام کہر کی چادر میں لپٹی ہے سسکتی کائنات گیت خوابوں کی طرح لرزاں سلگتی ہے حیات برف میں ڈوبی ہوا کی سیٹیاں چیل کے جنگل کی میٹھی لوریاں ڈگمگاتے ہیں پریشاں مضمحل لمحوں کے گام چار سو آواز دے کر پوچھتا پھرتا ہوں میں ان ہواؤں کی جبین ناز پر کیا کہیں لکھا ...
تو نیلے آکاش کی رانی سندر تیرا بھیس بیٹھ کے اڑن کھٹولے پر تو گھومے دیس بدیس تیرے ہونٹوں کے پھولوں سے مہکے یہ سنسار تیرے میٹھے بول کہ جیسے پائل کی جھنکار تیری زلفوں کی خوشبو اپنی باہیں پھیلائے ساون کی بدلی کی صورت نگری نگری جائے تیری چال میں مست پون کا البیلا لہراؤ یا جیسے ...
میرے دل کے یہ داغ سارے ہیں آسماں پر جو چاند تارے ہیں کیا نرالے ہیں کھیل الفت کے جیتنے والے کھیل ہارے ہیں وہی سمجھیں گے کچھ مصیبت کو جس نے رو رو کے دن گزارے ہیں جن کو غیروں کے ساتھ دیکھا ہے کیسے کہہ دیں کہ وہ ہمارے ہیں ہر طرح جو وطن کے کام آئیں وہ وطن میں ہی بے سہارے ہیں کل جہاں ...
اہل دل کیونکر رہیں رہنے کے یہ قابل نہیں اس جگہ پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں المدد موج تلاطم المدد دریائے عشق کشتئ دل کس طرف جائے کہیں ساحل نہیں اور بڑھنا ہے ابھی آگے حد ادراک سے جس کو میں سمجھا تھا منزل وہ مری منزل نہیں کیا سناؤں آپ کو میں داستان زندگی میرے قابو میں زبان شوق ...
اس ستم گر نے یہ طرفہ ستم ایجاد کیا ایک کو شاد کیا ایک کو ناشاد کیا تم سے شکوہ ہے نہ غیروں سے گلہ ہے کوئی وحشت دل نے مجھے عشق میں برباد کیا زندگی میں تو کسی سے نہ ملی داد وفا بعد میرے مجھے دنیا نے بہت یاد کیا بس اسی بات پہ اب تک وہ خفا ہیں مجھ سے اتنا پوچھا تھا کہ کس نے ستم ایجاد ...
جھوٹا یہ پیار اوپری چاہت نہیں قبول اس باب میں کوئی بھی وضاحت نہیں قبول سادہ ہوں میں ہے دل کو مرے سادگی عزیز دونوں کو خود نمائی کی عادت نہیں قبول اپنا ضمیر بیچ کے شہرت اگر ملے بیٹھے گی جھاگ بن کے وہ شہرت نہیں قبول جو چاہے نام اپنا لکھے آب زر کے ساتھ مجھ کو یہ آب زر کی عبارت نہیں ...
زندگی جاں بہ لب تماشائی ڈس رہا ہے سکوت تنہائی چار سو آنسوؤں کے جلتے دیپ شام غربت مجھے کہاں لائی دور تک اک مہیب سناٹا نوحۂ غم نہ کوئی شہنائی کتنے دار و رسن سے گزرے ہیں تیرے در تک ترے تمنائی