خلش
تیری تصویر ترے حسن کا یہ عکس جمیل تیرے ہونٹوں کا تبسم تری آنکھوں کا سرور تیرے اس نقرئی ماتھے پہ طلائی جھومر چاند کی کرنوں میں بہتا ہوا اک موجۂ نور یہ ترے مرمریں بازو پہ گھنیری زلفیں آج ساکت ہیں پس پردۂ تصویر مگر چند مبہم سے نقوش اور یہ دھندلے خاکے تو نے بھیجے ہیں کہ ہو جائے گی ...