قومی زبان

میں چہرے پر وصیت لکھ رہا ہوں

میں چہرے پر وصیت لکھ رہا ہوں پسینے سے مشقت لکھ رہا ہوں ملی ہے آج فرصت لکھ رہا ہوں بہت تاخیر سے خط لکھ رہا ہوں سمے کی دھوپ سے چہرے پر اپنے ہر اک پل کی اذیت لکھ رہا ہوں کئی دن کے میں فاقوں سے گزر کر بس اک ٹکڑا غنیمت لکھ رہا ہوں یہاں پر کچھ شناساؤں سے مل کر یہ دور اجنبیت لکھ رہا ...

مزید پڑھیے

اے خدائے پاک رب ذو الجلال

اے خدائے پاک رب ذو الجلال زندگی کو موت کے ڈر سے نکال چھوڑ اے نیکی زدہ پچھلی مثال جذبۂ نیکی بھی اب دریا میں ڈال اک عجب سی کیفیت ہے ان دنوں نہ خوشی ہے اور نہ کوئی ملال زندگی تیرا مقدر موت ہے روز ہم کرتے ہیں تیری دیکھ بھال اک تو یہ دوزخ ملا ایندھن طلب اور اس پر جستجو رزق حلال جس ...

مزید پڑھیے

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے اسی جگہ تو ملا تھا وہ پہلی بار مجھے بساط زیست پہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے ترا نصیب جو مل جائے مستعار مجھے اسی نے مجھ کو بنا کر سپرد تیرے کیا ذرا سلیقے سے اے زندگی گزار مجھے بنا لگام کے بیٹھا دیا ہے مالک نے تو خواہ مخواہ سمجھتا ہے شہسوار ...

مزید پڑھیے

لوگوں کے پاس درد کی دولت نہیں رہی

لوگوں کے پاس درد کی دولت نہیں رہی یعنی کسی کو کوئی ضرورت نہیں رہی مصروف اس قدر کیا اس کی تلاش نے مجھ کو تو خود سے ملنے کی فرصت نہیں رہی دنیا نے حرف حرف میں تقسیم کر دیا اب زندگی کسی سے عبارت نہیں رہی اچھا ہوا کہ ترک تعلق ہی کر لیا آنکھوں کو انتظار کی زحمت نہیں رہی میں کیا کروں ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے

یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے خزاں ہے آخری موسم بتا رہی ہے مجھے ہنسا رہی ہے کبھی یہ رلا رہی ہے مجھے غزل مری ہی کہانی سنا رہی ہے مجھے وہ ایک شے جو کہ سینے میں ہے کہیں موجود کسی کے حکم پہ پل پل چلا رہی ہے مجھے یہ اتفاق نہیں ہیں کوئی دعا ہے جو یوں حادثوں سے مسلسل بچا رہی ہے ...

مزید پڑھیے

اب ہاتھوں میں پیار ہے صاحب

اب ہاتھوں میں پیار ہے صاحب اور دل میں تلوار ہے صاحب الٹی الٹی رسمیں لے کر یہ الٹا سنسار ہے صاحب مجبوری کی زنجیریں ہیں عشرت کا بازار ہے صاحب سب دریا میں ڈوب رہے ہیں سب کی نیا پار ہے صاحب بھوکے بچے جاگ رہے ہیں ماں گھر میں بیمار ہے صاحب ہم سب ہی دریوزہ گر ہیں روٹی کا بیوپار ہے ...

مزید پڑھیے

ہم انہیں یوں ہی آزمائیں گے

ہم انہیں یوں ہی آزمائیں گے پیار میں شرط کیوں لگائیں گے یہ پرندے ہیں آشیانے کو پر نکلتے ہی بھول جائیں گے یاد رکھنا تمہاری آنکھوں میں ہم بہت جلد جھلملائیں گے کیا تمہیں تب یقین آئے گا لوگ جب انگلیاں اٹھائیں گے درمیاں اپنے آ گئی جو خلیج اس پر اک روز پل بنائیں گے بے وفا زندگی کے ...

مزید پڑھیے

اپنا عہد وفا نبھاتا ہوں

اپنا عہد وفا نبھاتا ہوں اب اسے روز گنگناتا ہوں میری ہمت نہ پوچھئے صاحب ریت پر کشتیاں چلاتا ہوں دو فریقوں کے درمیاں اکثر میں محبت کے پل بناتا ہوں میری امداد اور کچھ بھی نہیں میں فقط حوصلے بڑھاتا ہوں آج کل پنسلوں سے کاغذ پر دھوپ میں روٹیاں بناتا ہوں میں کبھی دشمنی نہیں ...

مزید پڑھیے

لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے

لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے بس وہی قابل دستار ہوا کرتے تھے یہ الگ بات وہ تھا دور جہالت لیکن لوگ ان پڑھ بھی سمجھ دار ہوا کرتے تھے سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے جن قبیلوں میں یہاں آج دئے ہیں روشن ان قبیلوں کے تو سردار ہوا کرتے تھے تب ...

مزید پڑھیے

طفل نے کچھ بھی نہیں سوچا ملا کر لکھ دیا

طفل نے کچھ بھی نہیں سوچا ملا کر لکھ دیا زندگی اور موت کو بالکل برابر لکھ دیا پہلے تو اک کاغذی کشتی بنائی اور پھر پار جانے کے لئے اس پر مقدر لکھ دیا کل جہاں پر دل لکھا تھا وہ جگہ کمزور تھی میں نے دل کاٹا وہاں سے اور پتھر لکھ دیا میرے ہاتھوں میں مشقت کی لکیریں کھینچ کر جانے کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1515 سے 6203