قومی زبان

کھو گئی غیرت دل ذوق طلب باقی ہے

کھو گئی غیرت دل ذوق طلب باقی ہے کیسے مر جاؤں کہ جینے کا سبب باقی ہے جلوۂ صبح کا منظر ہے گلستاں میں تو کیا آشیانوں میں ابھی ظلمت شب باقی ہے نشر ہو جائے گی خود کلفت دوراں کی حدیث تیرے شاعر میں اگر جرأت لب باقی ہے حسن اور عشق میں اک خاص ہے ربط الفت دل سلامت ہے تو پھر چشم غضب باقی ...

مزید پڑھیے

بے نام ساعتوں کا سفر ختم ہو چلا

بے نام ساعتوں کا سفر ختم ہو چلا لو امتحان فکر و نظر ختم ہو چلا واں تیرگیٔ محفل یاراں نہ مٹ سکی یاں روغن چراغ ہنر ختم ہو چلا احسان ہے مشیت پروردگار کا ہنگامۂ حیات بشر ختم ہو چلا میخانۂ حیات سے رندو نکل چلو پیمانۂ دعا کا اثر ختم ہو چلا اے جان انتظار نیا زخم دے مجھے لطف بہار ...

مزید پڑھیے

نظر کے سرخ ڈورے دل میں اترے

نظر کے سرخ ڈورے دل میں اترے مسافر دامن ساحل میں اترے فضاؤں میں اڑانیں بھرنے والے پتنگے گوشۂ محفل میں اترے کھنکتے نقرئی سکوں کے طائر طلائی کاسۂ سائل میں اترے کئی خنجر نگاہ خشمگیں کے بہ یک لمحہ دل بسمل میں اترے کفن بر دوش تھے اہل محبت بقا کی جاوداں منزل میں اترے نہ بھولے عہد ...

مزید پڑھیے

پیر مے خانہ پہ مرتے ہیں مریدوں کی طرح

پیر مے خانہ پہ مرتے ہیں مریدوں کی طرح جان دیتے ہیں محبت میں شہیدوں کی طرح انہیں کلیوں کا لہو زیب بہاراں تو نہیں مل گئیں خاک میں جو میری امیدوں کی طرح ہم نے دیکھے ہیں کچھ ایسے بھی قرابت والے پیش آتے ہیں جو اپنوں سے یزیدوں کی طرح ہائے وہ کیف میں ڈوبی ہوئی بیتی گھڑیاں یاد آتی ہیں ...

مزید پڑھیے

قلم سے رابطۂ رنگ و آب ٹوٹ گیا

قلم سے رابطۂ رنگ و آب ٹوٹ گیا کسی مصور فطرت کا خواب ٹوٹ گیا یہ دل کہ سنگ نہ تھا ایک آبگینہ تھا نہ لا سکا ترے جلووں کی تاب ٹوٹ گیا سوال یہ ہے کہ میں نے کسی سے کیا پایا جواب یہ ہے کہ برسوں کا خواب ٹوٹ گیا ہوا وہ مجھ سے مخاطب تو یوں لگا جیسے کوئی ستارۂ گردوں رکاب ٹوٹ گیا اصول آمد و ...

مزید پڑھیے

نم ہوئی چشم وفا راز محبت کھل گیا

نم ہوئی چشم وفا راز محبت کھل گیا آخرش بند قبا ئے ضبط الفت کھل گیا جب دل وحشی نگاہ ناز کا مرکز بنا حال دنیا پر ترا اے جذب وحشت کھل گیا شاہ راہ آرزو پر دو قدم چلنے کے بعد حسن قسمت سے در زندان الفت کھل گیا جھک گیا فرط ندامت سے گنہ گاروں کا سر ہو گئی چشم عنایت باب رحمت کھل ...

مزید پڑھیے

نغمہ زن ہے نظر بے آواز

نغمہ زن ہے نظر بے آواز کیوں مرے دل اثر بے آواز میرے دل سے انہیں اپنے دل کی مل رہی ہے خبر بے آواز لاکھ کرنوں کی زباں رکھتا ہے ایک نور سحر بے آواز ہوئی برباد پس بے ہنراں سعیٔ عرض ہنر بے آواز پئے ہنگامۂ ہستیٔ بشر موت ہے چارہ گر بے آواز ہے وہ بے پاؤں گزرنے کی دلیل ارتقا کا سفر بے ...

مزید پڑھیے

لب خموش کو ارمان گفتگو ہی سہی

لب خموش کو ارمان گفتگو ہی سہی جگر میں حوصلۂ عرض آرزو ہی سہی اثر قبول ہے مجھ کو بدلتی قدروں کا رگ حیات میں اسلاف کا لہو ہی سہی نماز عشق ادا ہو رہی ہے مقتل میں یہ پرخلوص عبادت ہے بے وضو ہی سہی اسے بھی خوف ہے گلشن میں زرد موسم کا وہ سرخ پھول کی مانند شعلہ رو ہی سہی جنون عشق کے ...

مزید پڑھیے

افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہے

افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہے یا وقت کے پیچیدہ سوالات کا حل ہے یہ سنگ کی بنیاد پہ تعمیر نہ ہوگا یہ میرے تخیل کا حسیں شیش محل ہے میں اپنی محبت کا بدل ڈھونڈ رہا ہوں وہ کون ہے جو میری محبت کا بدل ہے اے تار نفس ٹوٹ بھی جا دیر نہ کر اب احساس کی بالیں پہ کھڑی کب سے اجل ہے جو ...

مزید پڑھیے

دل مضطر کو سمجھا لوں بہت ہے

دل مضطر کو سمجھا لوں بہت ہے میں خود سے اپنا گھر چھالوں بہت ہے میں اپنی زندگی بے وفا کو وفا کے جام میں ڈھالوں بہت ہے بھگو کر آنسوؤں سے اپنا چہرہ سفر کی گرد دھو ڈالوں بہت ہے سکوت انجمن ٹوٹے نہ ٹوٹے بہ شوق زمزمہ گا لوں بہت ہے نواح زندگی میں اک ذرا سا فریب دوستی کھا لوں بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1472 سے 6203