قومی زبان

میری جب اس سے آشنائی تھی

میری جب اس سے آشنائی تھی میرے ہم راہ اک خدائی تھی گردش وقت اس کی شاہد ہے آسماں تک مری رسائی تھی یاد کر میرا ساتھ دینے کی تو نے میری قسم اٹھائی تھی کیسا لمحہ تھا جب غزل میری زیر لب تو نے گنگنائی تھی سچ تو یہ ہے سبینؔ گھر میں مرے آگ اپنوں نے ہی لگائی تھی

مزید پڑھیے

یاد تیری دلا رہے ہیں مجھے

یاد تیری دلا رہے ہیں مجھے چاند تارے جلا رہے ہیں مجھے پہلے دنیا ستا رہی تھی مجھے آپ بھی اب ستا رہے ہیں مجھے دیکھیے پھر سے بے خیالی میں آپ پھر گنگنا رہے ہیں مجھے روتے دیکھا تھا ماں کو بچپن میں اب وہ آنسو رلا رہے ہیں مجھے سنتے رہتے تھے جو مجھے گھنٹوں کتنی باتیں سنا رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

میں بدلتے موسموں کے رنگ سے بیزار ہوں

میں بدلتے موسموں کے رنگ سے بیزار ہوں ہر نئی رت سے چمن میں برسر پیکار ہوں حسن یوسف کے خریدارو بڑھو میری طرف میں ادب کے دائرے میں مصر کا بازار ہوں وقت کے ہاتھوں بگڑتا ہوں سنورنے کے لئے میں سمندر کے کنارے ریت کی دیوار ہوں کون سا ہے مرحلہ جو مجھ سے طے پاتا نہیں میں خود اپنے راستے ...

مزید پڑھیے

زندگی جھول رہی ہے بہ صلیب دوراں

زندگی جھول رہی ہے بہ صلیب دوراں کیوں نہ انگشت بدنداں ہو طبیب دوراں جوہر صبر نے دیکھا بہ نگاہ تحسیں منظر عام پہ آیا جو غریب دوراں بے ادب لگتا ہے دنیائے ادب کا ماحول شاعر عصر سے الجھا ہے ادیب دوراں چہرۂ وقت تری پردہ کشائی کر کے ہم نے ہر دور میں پلٹا ہے نصیب دوراں ترجمان غم ہستی ...

مزید پڑھیے

اشکوں سے جو نہائیں لہو سے وضو کریں

اشکوں سے جو نہائیں لہو سے وضو کریں قربان گاہ فرض کی وہ گفتگو کریں صحن چمن میں ڈھونڈ چکے حسن ارتقا صحرا میں اب تجسس جوش نمو کریں اس شہر بے اماں میں جو صد چاک ہو گیا اس دامن حیات کو کیسے رفو کریں جب حسن کی اساس دل بے یقیں پہ ہے پھر کس لئے ہم اپنے جگر کو لہو کریں پیمانۂ خلوص نہیں ...

مزید پڑھیے

تمام عمر ہو نہ پائی وہ نظر اپنی

تمام عمر ہو نہ پائی وہ نظر اپنی رہ حیات میں بنتی جو ہم سفر اپنی ہزار سنگ‌ راں زندگی کی راہ میں تھے نہ جانے کیسے جہاں میں ہوئی بسر اپنی زمیں پہ ضبط فغاں سعیٔ رائیگاں ٹھہرا فلک پہ جا کے ہوئی آہ بے اثر اپنی کسی رسالے میں شائع ہو جیسے کوئی غزل کچھ اس طرح سے ہوئی بات مشتہر ...

مزید پڑھیے

جان اس دل کی بچانے کے لیے

جان اس دل کی بچانے کے لیے یاد آ بس یاد آنے کے لیے بوجھ دن کا پتلیوں میں رہ گیا طنز راتوں کے اٹھانے کے لیے دیکھتا ہے جس نظر سے یہ مجھے میں وہی ہوں اس زمانے کے لیے سب یہی رہ جائے گا وقت اجل کچھ نہیں کھونا ہے پانے کے لیے فلسفہ ہو زندگی کا بس یہی غم کماؤ تو اڑانے کے لیے

مزید پڑھیے

بات ساحل کی رکھے ٹوٹا شکارا دیکھ لے

بات ساحل کی رکھے ٹوٹا شکارا دیکھ لے پاس تو مجھدھار ہے کیوں کر کنارا دیکھ لے ریت کے ٹیلے جہاں ہم نے بنائے اب وہاں کھیلتی بے باک لہروں کا نظارہ دیکھ لے ایک تتلی جسم ہلکا بوجھ رنگوں پر گیا کھینچ کر ہر آنکھ نے دل میں اتارا دیکھ لے دل ہے جو بارود کا گھر سوکھ کر تیار ہے آب سے کہہ دو نہ ...

مزید پڑھیے

پھر سے تیرا خیال آیا ہے

پھر سے تیرا خیال آیا ہے درد میں اک ابال آیا ہے داؤں پر لگ گیا ہوں میں شاید سکہ کوئی اچھال آیا ہے وقت مجھ سے ملا نزاکت سے بھیڑیا پہنے کھال آیا ہے دل کے اندر دماغ ہے اس کے جس کے دل میں سوال آیا ہے سوکھ کر آیا ہے لہو میں دم یوں قلم میں کمال آیا ہے لازمی تھا امید اندھی ہونا رات کے ...

مزید پڑھیے

نیا شگوفہ اشارۂ یار پر کھلا ہے

نیا شگوفہ اشارۂ یار پر کھلا ہے گلاب اب کے چمن کی دیوار پر کھلا ہے یہ کیسی انگڑائی لی ہے احساس زندگی نے مسیح کا رنگ روئے بیمار پر کھلا ہے نفی کا جادو جگا رہی ہیں طلسمی آنکھیں وہ حرف مطلب فصیل اظہار پر کھلا ہے کتاب رخ ہے حجاب تقدیس حسن جاناں یہ راز کیسا مذاق دیدار پر کھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1471 سے 6203