قومی زبان

حیوان کی منزل میں بشر ہے کہ نہیں ہے

حیوان کی منزل میں بشر ہے کہ نہیں ہے انسان کو انسان کا ڈر ہے کہ نہیں ہے معیار تجلی سے تو واقف ہیں نگاہیں جلوؤں کو بھی انداز نظر ہے کہ نہیں ہے فرزانہ دوراں بھی ہے اس بات پہ خاموش دیوانہ سر راہ گزر ہے کہ نہیں ہے جس عزم سے منزل پہ پہنچتے ہیں مسافر وہ عزم بہ ایں ذوق سفر ہے کہ نہیں ...

مزید پڑھیے

بے معنی لا حاصل ردی شعروں کا ہے جال ادھر

بے معنی لا حاصل ردی شعروں کا ہے جال ادھر جو چیزیں بیکار ہیں پیارے ان چیزوں کو ڈال ادھر کچھ تجویزیں پاس کرے گا وقت کے ہاتھوں یہ اجلاس مجبور و نادار ادھر ہیں آسودہ خوش حال ادھر بیچ میں حائل کر دے کوئی کاش تکلف کی دیوار ادھر ہے ریلا گل چینوں کا اور گلوں میں کال ادھر خون تمنا کی ...

مزید پڑھیے

جنون شوق کو دیوانہ پن کہنا ہی پڑتا ہے

جنون شوق کو دیوانہ پن کہنا ہی پڑتا ہے یہاں تو راہبر کو راہزن کہنا ہی پڑتا ہے تصور کو ترے جلوہ فگن کہنا ہی پڑتا ہے ہمیں تنہائی کو بھی انجمن کہنا ہی پڑتا ہے یہ مجبوری یہ مایوسی یہ پابندی ارے توبہ مصیبت میں قفس کو بھی چمن کہنا ہی پڑتا ہے کچھ اس انداز کے مجھ سے مجھے آزار پہنچے ...

مزید پڑھیے

دل تباہ ہو خنداں نہیں تو کچھ بھی نہیں

دل تباہ ہو خنداں نہیں تو کچھ بھی نہیں خزاں میں رنگ بہاراں نہیں تو کچھ بھی نہیں وہ دل جو نام محبت پہ مسکراتا ہے حریف گردش دوراں نہیں تو کچھ بھی نہیں یہ کرب و آہ کی دنیا عجیب دنیا ہے اگر حیات غزل خواں نہیں تو کچھ بھی نہیں جہاں کی خاک جو چھانے کوئی تو کیا حاصل طواف کوچۂ جاناں نہیں ...

مزید پڑھیے

عشق کی بربادیوں کا اک یہی حاصل سہی

عشق کی بربادیوں کا اک یہی حاصل سہی تو نہیں اپنا تو تیرا غم شریک دل سہی زندگی کو زندگی کی کچھ خوشی حاصل سہی درد محرومی سہی یا سوز درد دل سہی تو اگر ممکن نہیں تو غم بھی تیرا کم نہیں ایک شے حاصل سہی اور ایک بے حاصل سہی سامنے ان کے مگر پھر بھی نکل آتے ہیں اشک کتنے ہی پردوں میں پنہاں ...

مزید پڑھیے

مرے جذبات رنگیں کی فراوانی نہیں جاتی

مرے جذبات رنگیں کی فراوانی نہیں جاتی کہ آنکھوں سے ترے جلوے کی تابانی نہیں جاتی فروغ حسن ہے یا میری نظروں کی یہ خامی ہے بہ ہر صورت تری تصویر پہچانی نہیں جاتی محبت آپ کی دل سے بھلا دوں کس طرح کیوں کر بہ مشکل شے جو آئی ہو بہ آسانی نہیں جاتی کہاں تو کھینچ لایا اے مذاق عاشقی مجھ ...

مزید پڑھیے

تیرا منہ گردش ایام کہاں تک دیکھوں

تیرا منہ گردش ایام کہاں تک دیکھوں یہ بھیانک سحر و شام کہاں تک دیکھوں جذبۂ عشق کو ناکام کہاں تک دیکھوں ستم گردش ایام کہاں تک دیکھوں عشق کا شیوۂ خود کام کہاں تک دیکھوں یہ طلسم سحر و شام کہاں تک دیکھوں حسن کو لرزہ بر اندام کہاں تک دیکھوں عشق و یکسانیت عام کہاں تک دیکھوں او جفا ...

مزید پڑھیے

راہ حیات میں دل ویراں دہائی دے

راہ حیات میں دل ویراں دہائی دے دشمن کو بھی خدا نہ غم آشنائی دے میں صاحب قلم ہوں مجھے اے شعور فن آئے نہ جو گرفت میں ایسی کلائی دے دنیا فریب رشتۂ باہم نہ دے مجھے جو بھائی چارگی کا ہو پیکر وہ بھائی دے میں اپنا ہاتھ اپنے لہو میں ڈبو نہ لوں جب تک وہ میرے ہاتھ میں دست حنائی دے خنجر ...

مزید پڑھیے

عجب سی بے کلی سے چور کوئی

عجب سی بے کلی سے چور کوئی کچھ اپنے دل سے ہے مجبور کوئی کبھی ایسی انوکھی سوچ ابھرے کہ جیسے سوچ پر معمور کوئی وہ جن کے دم سے روشن زندگی ہے دلوں میں ان کے ہوگا نور کوئی تمہیں کیسے بھلایا جا سکے گا یہاں ایسا نہیں دستور کوئی

مزید پڑھیے

تخلیق کا انداز نکال اور طرح کا

تخلیق کا انداز نکال اور طرح کا پیڑا کوئی اب چاک پہ ڈال اور طرح کا دل ہوں گے دلوں میں کوئی دھڑکن نہیں ہوگی انسان پہ آنا ہے زوال اور طرح کا افلاک کی مشعل سے اندھیرے نہ مٹیں گے سورج کوئی دھرتی سے اچھال اور طرح کا مدت سے مرے نطق و تخیل میں ٹھنی ہے لفظ اور طرح کے ہیں خیال اور طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1473 سے 6203