قومی زبان

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے مجھ میں کوئی قتل ہو رہا ہے کس کی ہے تلاش کیا بتائیں اپنا ہی وجود کھو گیا ہے سوئیں گے ازل میں جا کے ہم سب دنیا تو عظیم رت جگا ہے سچ کو ہے دوام اس جہاں میں مجھ سے تو یہی کہا گیا ہے مرنا ہے یہاں بہت غنیمت جینا تو محال ہو چکا ہے دے گا وہ ضرور سنگ مجھ کو جس نے ...

مزید پڑھیے

اک سفر پر اسے بھیج کر آ گئے

اک سفر پر اسے بھیج کر آ گئے یہ گماں ہے کہ ہم جیسے گھر آ گئے وہ گیا ہے تو خوشیاں بھی ساری گئیں شاخ دل پر خزاں کے ثمر آ گئے لاکھ چاہو مگر پھر وہ رکتے نہیں جن پرندوں کے بھی بال و پر آ گئے ہم تو رستے پہ بیٹھے ہیں یہ سوچ کر جو گئے تھے اگر لوٹ کر آ گئے اس سے مل کے بھی کب اس سے مل پائے ...

مزید پڑھیے

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار اچھے لوگ بسے ہیں سارے دریا کے اس پار مہکی راتیں دوست ہوائیں پچھلی شب کا چاند رہ گئے سب خوش خواب نظارے دریا کے اس پار بس یہ سوچ کے سرشاری ہے اب بھی اپنے لیے بہتے ہیں خوشبو کے دھارے دریا کے اس پار شام کو زندگی کرنے والے رنگ برنگے پھول پھول ...

مزید پڑھیے

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں وہ شام آئی مگر ہاتھ مل رہا تھا میں یہ عمر کیسے گزاری بس اتنا یاد ہے اب اداس رات کے صحرا پہ چل رہا تھا میں بس ایک ضد تھی سو خود کو تباہ کرتا رہا نصیب اس کے کہ پھر بھی سنبھل رہا تھا میں بھری تھی اس نے رگ و پے میں برف کی ٹھنڈک سو ایک برف کی صورت پگھل ...

مزید پڑھیے

بے نیازیوں میں ہے حال یہ عطاؤں کا

بے نیازیوں میں ہے حال یہ عطاؤں کا بٹ رہا ہے چیلوں میں رزق فاختاؤں کا اس کا جسم بھی نکلا زخم زخم مجھ سا ہی کھل گیا بھرم سارا ریشمی قباؤں کا اپنی چار دیواری سے نہ جا سکیں باہر حال یہ ہوا اپنی بے اثر دعاؤں کا اب گھٹن ہی بہتر ہے اپنے آشیانوں کی اعتبار مت کرنا آتشی ہواؤں کا طور آگہی ...

مزید پڑھیے

عطائے درد کی ترسیل نا مکمل ہے

عطائے درد کی ترسیل نا مکمل ہے ہماری ذات کی تشکیل نا مکمل ہے ہمارے روگ میں ہے بند کاروبار جہاں ہمارے شہر میں تعطیل نا مکمل ہے مٹا نہیں ہے اندھیرا غموں کا دنیا سے نشاط روح کی قندیل نا مکمل ہے اے آسمان ترا ظلم مختصر ٹھہرا ہمارے ضبط کی تفصیل نا مکمل ہے نہیں ہے غور طلب عرض مدعا جب ...

مزید پڑھیے

جو ایک بار ملا تھا مجھے جوانی میں

جو ایک بار ملا تھا مجھے جوانی میں اب اس کا ذکر بہت ہے مری کہانی میں بدن وہی ہے وہی خواہشوں کے پہناوے نہیں ہے جوش مگر خون کی روانی میں مجھے یقیں ہے پلٹنا ہے خالی ہاتھ مجھے میں جال پھینک چکا ہوں اگرچہ پانی میں وفا شعار تھے ہم لوگ زندگی ہم نے گزار دی ہے ترے غم کی پاسبانی میں

مزید پڑھیے

ہو کوئی مسئلہ اپنا دعا پر چھوڑ دیتے ہیں

ہو کوئی مسئلہ اپنا دعا پر چھوڑ دیتے ہیں اسے خود حل نہیں کرنے خدا پر چھوڑ دیتے ہیں تمہاری یاد کے بادل برستے ہیں کہاں آخر چلو یہ سلسلہ کالی گھٹا پر چھوڑ دیتے ہیں اسے سر پر بٹھائے در بدر پھرتے رہیں کب تک گھٹن کا بوجھ ہم دوش ہوا پر چھوڑ دیتے ہیں نہ تم مانو گے سچائی نہ ہم سے جھوٹ ...

مزید پڑھیے

اے رضاؔ خود کو اسیر رہ گزر کہنا پڑا

اے رضاؔ خود کو اسیر رہ گزر کہنا پڑا وقت ایسے راہزن کو ہم سفر کہنا پڑا بات یہ ہے ہم نے خود اپنا لیا جو دوستو زندگی کے اس چلن کو معتبر کہنا پڑا ہم تو صدیوں سے ستاروں کی طرح خاموش تھے غم کا افسانہ ترے اصرار پر کہنا پڑا المیہ اس سے سوا صابرؔ رضاؔ کیا اور ہو اپنے سارے دوستوں کو کم نظر ...

مزید پڑھیے

طائر شوق گرفتار نہیں رہ سکتا

طائر شوق گرفتار نہیں رہ سکتا یہ اسیر در و دیوار نہیں رہ سکتا جبر حساس طبیعت پر اگر بوجھ بنے حبس آباد میں فن کار نہیں رہ سکتا ہم اگر سچ کو زبانوں پہ سجا کر رکھیں پھر سفر زیست کا دشوار نہیں رہ سکتا تو بھی میری ہی طرح ہے میں تجھے جانتا ہوں دیر تک تو بھی وفادار نہیں رہ سکتا رہنما ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1460 سے 6203