قومی زبان

اسیر شام ہیں ڈھلتے دکھائی دیتے ہیں

اسیر شام ہیں ڈھلتے دکھائی دیتے ہیں یہ لوگ نیند میں چلتے دکھائی دیتے ہیں وہ اک مکان کہ اس میں کوئی نہیں رہتا مگر چراغ سے جلتے دکھائی دیتے ہیں یہ کیسا رنگ نظر آیا اس کی آنکھوں میں کہ سارے رنگ بدلتے دکھائی دیتے ہیں وہ کون لوگ ہیں جو تشنگی کی شدت سے کنار آب پگھلتے دکھائی دیتے ...

مزید پڑھیے

اک شکل بے ارادہ سر بام آ گئی

اک شکل بے ارادہ سر بام آ گئی پھر زندگی میں فیصلے کی شام آ گئی دشت و مکاں کے فاصلے بے رنگ و نور تھے اک رنگ لے کے گردش ایام آ گئی وہ رہ گزر جو آئی تو سر کو سجا لیا دامن کی خاک آج مرے کام آ گئی پھر اک حصار ٹوٹ گیا اختیار کا پھر اک صدائے کوچۂ الزام آ گئی ہم بولتے رہے تو رہے لفظ سنگ ...

مزید پڑھیے

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا اسی لیے آنکھ کھل گئی تھی اسی لیے دل دکھا ہوا تھا اداسیوں سے بھری ہوئی التجا سنی تھی کسی نگر میں کوئی کسی کو پکارتا تھا وہ اک صدا تھی کہ ہفت عالم میں گونجتی تھی نہ جانے کیسے کوئی کسی سے بچھڑ گیا تھا عجیب حیرت بکھیرتے تھے وہ داستاں گو کہ ...

مزید پڑھیے

وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی

وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی اسے لانا جان گنوانا تھا اور اپنی جان پرائی تھی وہ رات کا طول طویل سفر کیا کہئے کیسے آئی سحر کچھ میں نے قصہ چھیڑا تھا کچھ اس نے آس بندھائی تھی خوابوں سے ادھر کی مسافت میں جو گزری ہے کیا پوچھتے ہو اک وحشت چار پہر کی تھی اک جلتی ...

مزید پڑھیے

گل و مہتاب لکھنا چاہتا ہوں

گل و مہتاب لکھنا چاہتا ہوں میں اپنے خواب لکھنا چاہتا ہوں محبت سے بھرا ہے دل کا دریا مگر پایاب لکھنا چاہتا ہوں لکھوں کیسے کہ سارے شعر تم پر بہت نایاب لکھنا چاہتا ہوں میں اپنا اور تمہارا نام اک دن کنار آب لکھنا چاہتا ہوں میں خود کو بادشاہ عشق لکھ کر تمہیں بے تاب لکھنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

خواب تمہارے آتے ہیں

خواب تمہارے آتے ہیں نیند اڑا لے جاتے ہیں آج لکھیں گے حال اپنا سوچتے ہیں ڈر جاتے ہیں عشق بہت سچا ہے ہم تارے توڑ کے لاتے ہیں رسوائی کا خوف نہیں شہرت سے گھبراتے ہیں نام تمہارا آتا ہے یادوں میں کھو جاتے ہیں دل میں درد سا اٹھتا ہے درد میں ڈوبے جاتے ہیں اس کا دھیان جب آتا ہے ایک ...

مزید پڑھیے

تمام معجزے ساری شہادتیں لے کر

تمام معجزے ساری شہادتیں لے کر میں آب و خاک سے گزرا عداوتیں لے کر خود اپنے حرف کے شعلے میں جل کے لوٹا ہوں میں اک سفر پہ گیا تھا حکایتیں لے کر کشاں کشاں لب ساحل اتر گئی مجھ میں اداس رات سمندر کی وسعتیں لے کر حد زمان و مکاں سے گزر رہا ہوں میں خود اپنے ہونے نہ ہونے کی حیرتیں لے ...

مزید پڑھیے

کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں

کرتا ہے کوئی اور بھی گریہ مرے دل میں رہتا ہے کوئی اور بھی مجھ سا مرے دل میں وہ مل گیا پھر بھی یہ لگاتار اداسی شاید ہے کوئی اور بھی دھڑکا مرے دل میں اک رنج میں ڈوبا ہوا بے نام مسافر آیا تھا بڑی دور سے ٹھہرا مرے دل میں جس شام کو بھولے ہوئے اک عمر ہوئی تھی چمکا ہے اسی شام کا تارا مرے ...

مزید پڑھیے

یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر

یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر کہ وہ کھڑا ہے ابھی دوسرے کنارے پر اندھیرا ہجر کی وحشت کا رقص کرتا ہے تمام رات مری آنکھ کے ستارے پر ہوائے شام ترے ساتھ ہم بھی جھومتے ہیں کسی خیال کسی رنگ کے اشارے پر کسی کی یاد ستائے تو جا کے رکھ آنا مہکتے پھول کسی آب جو کے دھارے پر افق کے پار ...

مزید پڑھیے

دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے

دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے دریا اس کو رستہ دے کر آج تلک پچھتاتا ہے جنگل جنگل گھومنے والا اپنے دھیان کی دستک سے کوسوں دور اک گھر میں کسی کو ساری رات جگاتا ہے جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہے کوئی ریل کی سیٹی سن کر سوتے سے اٹھ جاتا ہے میری گلی کے سامنے والے گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1459 سے 6203