مرے دھیان میں ہے اک محل کہیں چوباروں کا
مرے دھیان میں ہے اک محل کہیں چوباروں کا وہاں جاؤں کیسے رستہ ہے انگاروں کا وہاں ہریالی کے کنج میں ایک بسیرا ہے وہاں دریا بہتا رہتا ہے مہکاروں کا تم دل کا دریچہ کھول کے باہر دیکھو تو انبوہ گزرنے والا ہے دل داروں کا مری خلوت کو یہ انسانوں کا جنگل ہے مری وحشت کو یہ صحرا ہے دیواروں ...