قومی زبان

مرے دھیان میں ہے اک محل کہیں چوباروں کا

مرے دھیان میں ہے اک محل کہیں چوباروں کا وہاں جاؤں کیسے رستہ ہے انگاروں کا وہاں ہریالی کے کنج میں ایک بسیرا ہے وہاں دریا بہتا رہتا ہے مہکاروں کا تم دل کا دریچہ کھول کے باہر دیکھو تو انبوہ گزرنے والا ہے دل داروں کا مری خلوت کو یہ انسانوں کا جنگل ہے مری وحشت کو یہ صحرا ہے دیواروں ...

مزید پڑھیے

تنہائی تعمیر کرے گی گھر سے بہتر اک زندان

تنہائی تعمیر کرے گی گھر سے بہتر اک زندان بام و در نہیں ہوں گے لیکن ہوگا جینے کا سامان کسی خیال کی سرشاری میں جاری و ساری یاری میں اپنے آپ کوئی آئے گا اور بن جائے گا مہمان جیون پیکر دھل جائیں گے جس میں گناہ و ثواب سمیت آنسو پیدا کر ہی دیں گے ایسی بارش کا امکان اشکوں کی بوندا ...

مزید پڑھیے

کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا

کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا بے نشاں اداسی کا بے اماں احاطہ تھا جب کبھی نظر آیا خواب میں نظر آیا وہ جہاں پہ رہتا تھا کون سا علاقہ تھا داخلی کشاکش سے با خبر تو ہو جاتا ذہن سوچتا کیا تھا دل کا کیا تقاضہ تھا اس نے حال جب پوچھا میں بھی مسکرا اٹھی اک وہی تو لمحہ تھا جب ...

مزید پڑھیے

آندھی کا کر خیال نہ تیور ہوا کے دیکھ

آندھی کا کر خیال نہ تیور ہوا کے دیکھ دیوار ریت کی سہی اونچی اٹھا کے دیکھ سایہ ہوں دھوپ ہوں کہ سرابوں کا روپ ہوں میں کیا ہوں کون ہوں مرے نزدیک آ کے دیکھ اپنی ہی ذات میں تو سمندر ہوا تو کیا میرے لہو میں کھولتا سورج بجھا کے دیکھ اک روز تو لباس سمجھ کر مجھے پہن کچھ دیر ہی سہی مجھے ...

مزید پڑھیے

جب بھی پڑھا ہے شام کا چہرہ ورق ورق

جب بھی پڑھا ہے شام کا چہرہ ورق ورق پایا ہے آفتاب کا ماتھا عرق عرق لہجے میں ڈھونڈیئے نہ حلاوت کہ عمر بھر لمحوں کا زہر ہم نے پیا ہے رمق رمق تھے قہقہے سراب سمندر جو پی گئے کہنے کو دل کے گھاؤ تھے روشن طبق طبق قاتل کا مل سکا نہ بھرے شہر میں سراغ ہر چند میرا خون تھا پھیلا شفق شفق جو ...

مزید پڑھیے

سازشوں کے دور میں موسم نے یوں جکڑا ہمیں

سازشوں کے دور میں موسم نے یوں جکڑا ہمیں عین ممکن ہے مورخ بھی لکھے اندھا ہمیں دوستی کی یہ ضروری شرط ہو جیسے کوئی ہر قدم پر دوستوں نے دے دیا دھوکا ہمیں جلتے خیموں میں ہماری نسل روندی جائے گی یاد رکھے گی ہمارے بعد یہ دنیا ہمیں پھر سنائی دے رہی ہے ہر طرف گھوڑوں کی ٹاپ پھر نوید ...

مزید پڑھیے

آج بستی میں تری سانحہ ایسا دیکھا

آج بستی میں تری سانحہ ایسا دیکھا ہم نے ہر آنکھ میں بپھرا ہوا دریا دیکھا جانے تعبیر ہو اب کیسی خدا خیر کرے رات پھر خواب میں کھلتا ہوا غنچہ دیکھا اس نے پوچھا بھی نہیں راہ کی کیوں دھول ہوئے عمر بھی بیٹھ کے جس شخص کا رستہ دیکھا جو پہاڑوں سے چلے زیست کا ساماں لے کر ہم نے ہر جھرنے میں ...

مزید پڑھیے

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول وہ لوگ آج خود اک داستاں کا حصہ ہیں جنہیں عزیز تھے قصے کہانیاں اور پھول یہ سب ترے مرے اظہار کی علامت ہیں شفق کے رنگ میں شعلہ، لہو، زباں اور پھول یقین کر کہ یہی ہے بجھے دلوں کا علاج تری وفا تری چاہت ترا ...

مزید پڑھیے

دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے

دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے یہ الگ دکھ ہے کہ ہیں تیرے دکھوں سے آزاد یہ الگ قید ہے ہم کیوں نہیں زنجیر ہوئے دیدہ و دل میں ترے عکس کی تشکیل سے ہم دھول سے پھول ...

مزید پڑھیے

جدھر ہو زندگی مشکل ادھر نہیں آتے

جدھر ہو زندگی مشکل ادھر نہیں آتے اجل سے پہلے مرے چارہ گر نہیں آتے بنا ہوا ہے مرا شہر قتل گاہ کوئی پلٹ کے ماؤں کے لخت جگر نہیں آتے اٹھائے اپنوں کی لاشیں جو تم ہو نوحہ کناں مرے شہید تمہیں کیوں نظر نہیں آتے نہ انتظار کرو ان کا اے عزا دارو شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے میں نوحے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1461 سے 6203