قومی زبان

آگ تھی ایسی کہ ارماں جل گئے

آگ تھی ایسی کہ ارماں جل گئے دل کے کاغذ آنسوؤں میں گل گئے رنگ ہے خوشبو بھی ہے سایہ بھی ہے کس نگر اے پیڑ تیرے پھل گئے کھیت کی مٹی کو ویراں دیکھ کر گاؤں والے ڈھونڈنے بادل گئے سہ چکی سب دھوپ پانی کے عذاب زندگی آخر ترے کس بل گئے جاگتی آنکھیں تھیں اپنی اور ہم خواب کے آنگن میں پل دو پل ...

مزید پڑھیے

ملتے نہیں ہیں جب ہمیں غم خوار ایک دو

ملتے نہیں ہیں جب ہمیں غم خوار ایک دو پھرتے ہیں ہاتھ میں لیے اخبار ایک دو شوریدگئ سر کو میں روؤں گی تا بہ کے لا کر مجھے بھی دے کوئی دیوار ایک دو آنکھوں میں لا کے دیکھ تبسم کی روشنی جیتے ہیں تیری چشم کے بیمار ایک دو سمجھو ہے خوش نصیب وہ سارے جہان میں لائے جو ڈھونڈ کر کوئی غم خوار ...

مزید پڑھیے

ہنساتے ہیں مجھ کو رلانے سے پہلے

ہنساتے ہیں مجھ کو رلانے سے پہلے بنانے کی کوشش مٹانے سے پہلے رہا ہو کے اب کیا گلستاں کو جاؤں خزاں آ گئی میرے آنے سے پہلے تلاطم سے زور آزمانا پڑے گا سفینہ کو ساحل پہ لانے سے پہلے نہ بن جائے امید مایوس غم کو کوئی سوچ لے مسکرانے سے پہلے نہ پوچھ ان کی مخمور نظروں کا عالم سہارا ملا ...

مزید پڑھیے

رات کب عازم سفر نہ ہوئی

رات کب عازم سفر نہ ہوئی وقت کی بات تھی سحر نہ ہوئی جس سے تقدیر اپنے بس میں ہو ایسی تدبیر عمر بھر نہ ہوئی راہبر کب ہوا نہ تیرا خیال کب تری یاد ہم سفر نہ ہوئی درد اٹھا بد نصیب دل بیٹھا یہ تو سب کچھ ہوا سحر نہ ہوئی ان کو دیکھا ٹپک پڑے آنسو داستاں اور مختصر نہ ہوئی دو جہاں دور تھے ...

مزید پڑھیے

غم کون و مکاں ہے اور میں ہوں

غم کون و مکاں ہے اور میں ہوں نشاط جاوداں ہے اور میں ہوں قفس میں بھی مزے میں کٹ رہی ہے خیال آشیاں ہے اور میں ہوں کہاں کا راہبر اور کیسی منزل غبار کارواں ہے اور میں ہوں چمن ہے فصل گل ہے چاندنی ہے حدیث دلبراں ہے اور میں ہوں نگاہ برق ہے اور آشیاں ہے نگاہ باغباں ہے اور میں ہوں مآل ...

مزید پڑھیے

اتنا ہی سہارا دل ناکام بہت ہے

اتنا ہی سہارا دل ناکام بہت ہے اب ان کا تصور ہی سر شام بہت ہے اب کوئی ضرورت ہے دوا کی نہ دعا کی جس حال میں ہوں میں مجھے آرام بہت ہے گریہ سے ہے آغاز عمل بزم جہاں میں انسان کو اندیشۂ انجام بہت ہے کم ظرف ہیں کرتے ہیں جو پینے سے تکلف ساقی مجھے یہ درد تہ جام بہت ہے ابھری نہیں دل میں ...

مزید پڑھیے

کس تکلف کس اہتمام سے ہم

کس تکلف کس اہتمام سے ہم دل کو بہلا رہے ہیں شام سے ہم مے چھلکتی ہے رند پیاسے ہیں پھر بھی خوش ہیں اس انتظام سے ہم اب گلستاں میں آشیاں بھی نہیں اب کہاں جائیں چھٹ کے دام سے ہم مل گئی جب نگاہ ساقی سے ہو گئے بے نیاز جام سے ہم اس کا ہر اک قصور کر کے معاف مطمئن ہیں اس انتقام سے ...

مزید پڑھیے

دل ہے کیوں اتنا پریشاں مجھے معلوم نہیں

دل ہے کیوں اتنا پریشاں مجھے معلوم نہیں کون ہے سلسلہ جنباں مجھے معلوم نہیں اب یہ اللہ ہی جانے وہ خزاں تھی کہ بہار کب ہوا چاک گریباں مجھے معلوم نہیں مجھ کو معلوم ہے ہر درد کا درماں لیکن اپنے ہی درد کا درماں مجھے معلوم نہیں مسکراتا ہوں مصیبت میں یہ عادت ہے مری ضبط مشکل ہے کہ آساں ...

مزید پڑھیے

طبیعت سوئے آسانی کبھی مائل نہیں ہوتی

طبیعت سوئے آسانی کبھی مائل نہیں ہوتی محبت میں کوئی مشکل بھی ہو مشکل نہیں ہوتی مسافر بیٹھ جاتا ہے جہاں بس بیٹھ جاتا ہے پھر اس کے بعد اس کو خواہش منزل نہیں ہوتی بناتے ہی نشیمن برق آتی ہے جلانے کو خدا کا شکر ہے محنت مری زائل نہیں ہوتی تری محفل میں کون آیا تری محفل سے کون اٹھا تجھے ...

مزید پڑھیے

رقص کرتی ہیں فلک پر بجلیاں اب کیا کروں

رقص کرتی ہیں فلک پر بجلیاں اب کیا کروں میری پونجی ہے یہی اک آشیاں اب کیا کروں عار ہے سننے سے ان کو داستاں اب کیا کروں میرے قابو میں نہیں میری زباں اب کیا کروں عالم غربت ہے میں ہوں اور اندھیری رات ہے لٹ گیا ایسے میں سارا کارواں اب کیا کروں لیجئے رونے لگے ہچکی بندھی غش کر گئے اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1426 سے 6203