آگ تھی ایسی کہ ارماں جل گئے
آگ تھی ایسی کہ ارماں جل گئے دل کے کاغذ آنسوؤں میں گل گئے رنگ ہے خوشبو بھی ہے سایہ بھی ہے کس نگر اے پیڑ تیرے پھل گئے کھیت کی مٹی کو ویراں دیکھ کر گاؤں والے ڈھونڈنے بادل گئے سہ چکی سب دھوپ پانی کے عذاب زندگی آخر ترے کس بل گئے جاگتی آنکھیں تھیں اپنی اور ہم خواب کے آنگن میں پل دو پل ...