قومی زبان

شکوے کی چبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

شکوے کی چبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے یہ فرط محبت کی ادا اچھی لگی ہے خالی ہے کہاں لطف سے اب دل کا پگھلنا پر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے لمحات محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے اے جان وفا تیری جفا اچھی لگی ہے محفل میں شناسا بھی بنا بیٹھا ہے انجان اس شخص کی مجبور وفا اچھی لگی ہے نکلے گا ...

مزید پڑھیے

وہ پیپل کے تلے ٹوٹی ہوئی محراب کا منظر

وہ پیپل کے تلے ٹوٹی ہوئی محراب کا منظر دکھا دیتا ہے مجھ کو اک دل بیتاب کا منظر چلا کر کاغذی کشتی کوئی معصوم ہنستا تھا بہت ہی خوبصورت تھا کبھی تالاب کا منظر سفر وہ مطمئن کرتا رہا بپھرے سمندر میں کہ اس کے ذہن میں ابھرا نہ تھا گرداب کا منظر تھپیڑوں میں بھی سر محفوظ ہیں پکے مکانوں ...

مزید پڑھیے

خوشبو سے ہو سکا نہ وہ مانوس آج تک

خوشبو سے ہو سکا نہ وہ مانوس آج تک کانٹوں کے نشتروں میں ہے ملبوس آج تک کرنوں کی داستان سنائے گا ایک دن خاموش جھولتا ہے جو فانوس آج تک بستی میں بٹ رہی تھی ہنسی بھی حساب سے ششدر کھڑا ہے سوچتا کنجوس آج تک لفظوں کی نرمیوں سے کھلا چاند اس طرح کرتی ہوں اس کی روشنی محسوس آج تک رنگ چمن ...

مزید پڑھیے

راستے پھیلے ہوئے جتنے بھی تھے پتھر کے تھے

راستے پھیلے ہوئے جتنے بھی تھے پتھر کے تھے راہزن ششدر رہے خود قافلے پتھر کے تھے نرم و نازک خواہشیں کیا ہو گئیں ہم کیا کہیں آرزوؤں کی ندی میں بلبلے پتھر کے تھے اشک سے محروم تھیں آنکھیں فضائے شہر کی جان و دل پتھر کے تھے جو غم ملے پتھر کے تھے ہر قدم پر ٹھوکروں میں زندگی بٹتی ...

مزید پڑھیے

لفظوں کو سجا کر جو کہانی لکھنا

لفظوں کو سجا کر جو کہانی لکھنا ہو ذکر لہو کا بھی تو پانی لکھنا اب عکس محبت بھی ہوا ہے کم یاب اس دور میں ہے کیسی گرانی لکھنا گو یاد ہے اب تک مجھے غم کا موسم پر ٹھیک نہیں دل کی کہانی لکھنا رفتار ہوا تیز ہوئی ہے کہ نہیں یہ دیکھ کے پانی کی روانی لکھنا پیری کے نگر میں تو ہے کہرام ...

مزید پڑھیے

گاندھی جی اب بھی کہتے ہیں

تتلی جگنو شبنم گل نظروں کے سب دھوکے ہیں جگ مگ کرتے موسم کے سارے منظر جھوٹے ہیں اندر سے سب ٹوٹے ہیں پگڈنڈی پر جیون کی رقص و سرود و نکہت بن کر خوشیوں کا کچھ غازہ مل کر ہنستا ہنستا چہرہ لے کر اک راہی جب چلتا ہے پل پل اپنے قدموں میں کنکر پتھر سہتا ہے کانٹوں کو گل کہتا ہے لیکن گاندھی جی ...

مزید پڑھیے

جیتے جی آرام نہ آیا

جیتے جی آرام نہ آیا مرنا بھی کچھ کام نہ آیا مے اپنی مے خانہ اپنا ہم تک دور جام نہ آیا درد نے کیا کیا پہلو بدلے لب پہ کسی کا نام نہ آیا برق سے تھا کیا دور نشیمن اس کا تڑپنا کام نہ آیا کہہ گئی نظریں غم کا فسانہ ضبط پہ کچھ الزام نہ آیا مے نہ ملی گر پی لیے آنسو میں کبھی تشنہ کام نہ ...

مزید پڑھیے

چمن محفوظ ہوگا میری دنیا مٹ گئی ہوگی

چمن محفوظ ہوگا میری دنیا مٹ گئی ہوگی جہاں بجلی کو گرنا تھا وہیں بجلی گری ہوگی کہاں تک جبر کرتا دل پہ آخر میں بھی انساں ہوں طبیعت پھر طبیعت ہے کبھی گھبرا گئی ہوگی بدل جائے جو میر کارواں کیا فرق پڑتا ہے اگر جادہ وہی ہوگا تو منزل بھی وہی ہوگی خزاں کا دور ہوگا موسم گل جا چکا ...

مزید پڑھیے

غم دل کو بہار بے خزاں کہنا ہی پڑتا ہے

غم دل کو بہار بے خزاں کہنا ہی پڑتا ہے محبت کو حیات جاوداں کہنا ہی پڑتا ہے نگاہیں حال دل کی ترجمانی کر ہی دیتی ہیں خموشی کو بھی اک دن داستاں کہنا ہی پڑتا ہے غبار راہ رہ جاتا ہے پیچھے چھوٹ کر لیکن اسے پھر بھی نشان کارواں کہنا ہی پڑتا ہے یہ مانا وہ جفا پرور ہے ظالم ہے ستم گر ہے مگر ...

مزید پڑھیے

چاند گم صم چمکتا ہوا اور میں

چاند گم صم چمکتا ہوا اور میں یاد کا باب کھلتا ہوا اور میں کچھ عجب سا تھا منظر گئی رات کا دور گھڑیال بجتا ہوا اور میں ہانپتا کانپتا شہر کا راستہ داستاں اپنی کہتا ہوا اور میں کوئی سنتا نہیں شور تنہائی کا ایک دل ہے دھڑکتا ہوا اور میں مختلف ہوکے بھی ایک جیسے لگے ایک بادل بھٹکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1425 سے 6203