قومی زبان

جب کبھی فصل بہاراں کا خیال آتا ہے

جب کبھی فصل بہاراں کا خیال آتا ہے ساتھ ہی چاک گریباں کا خیال آتا ہے جب بھی بے ساختہ زنجیر پہ جاتی ہے نظر آپ کی زلف پریشاں کا خیال آتا ہے یاد آ جاتی ہے کشتی کی تباہی مجھ کو کانپ اٹھتا ہوں جو طوفاں کا خیال آتا ہے آبلہ پائی کی تکلیف کا احساس نہیں زحمت خار مغیلاں کا خیال آتا ہے میں ...

مزید پڑھیے

کیوں مصیبت میں ہوں مسرور تجھے کیا معلوم

کیوں مصیبت میں ہوں مسرور تجھے کیا معلوم کیا محبت کے ہیں دستور تجھے کیا معلوم فطرت حسن ہے یہ یہ ہے تقاضائے شباب تو ہے کس واسطے مغرور تجھے کیا معلوم باغباں کب کی بہار آئی بھی رخصت بھی ہوئی میں قفس میں ہوں بدستور تجھے کیا معلوم گردش چشم کی لذت کوئی مجھ سے پوچھے وار اوچھا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

غم کون و مکاں ہے اور میں ہوں

غم کون و مکاں ہے اور میں ہوں نشاط جاوداں ہے اور میں ہوں قفس میں بھی مزے میں کٹ رہی ہے خیال آشیاں ہے اور میں ہوں کہاں کا راہبر اور کیسی منزل غبار کارواں ہے اور میں ہوں چمن ہے فصل گل ہے چاندنی ہے حدیث دلبراں ہے اور میں ہوں مآل امتحاں کیا جانے کیا ہو مسلسل امتحاں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

سر محفل دل تنہا پہ ہنسی آتی ہے

سر محفل دل تنہا پہ ہنسی آتی ہے مجھ کو اس غنچۂ صحرا پہ ہنسی آتی ہے ہاں ترا وعدۂ فردا تھا کبھی وجہ حیات اب اسی وعدۂ فردا پہ ہنسی آتی ہے شب مہ موسم گل اور جوانی توبہ ایسی بے وقت کی توبہ پہ ہنسی آتی ہے کبھی ٹوٹی ہوئی کشتی پہ ترس آتا ہے کبھی چڑھتے ہوئے دریا پہ ہنسی آتی ہے میں جواں ...

مزید پڑھیے

دیوانوں میں نام کر رہا ہوں

دیوانوں میں نام کر رہا ہوں کرنا ہے جو کام کر رہا ہوں دنیا تری دل فریبیوں میں بے لاگ قیام کر رہا ہوں خود پھونک کے اپنا آشیانہ بجلی کو سلام کر رہا ہوں انگڑائیاں لے رہا ہے کوئی افسانہ تمام کر رہا ہوں خاموش ہے کائنات ساری میں دل سے کلام کر رہا ہوں مرنے پہ مرے نہ رؤو اتنا تبدیل ...

مزید پڑھیے

ملا ہے جبر میں بھی اتنا اختیار مجھے

ملا ہے جبر میں بھی اتنا اختیار مجھے جو بے قرار ہوا آ گیا قرار مجھے نہ فصل گل کی خطا ہے نہ بادلوں کا قصور تری نظر نے بنایا ہے بادہ خوار مجھے بسا ہے روح کے پردوں میں آج تک وہ سرور پکار پھر اسی انداز سے پکار مجھے میں پھر قفس میں ہوں پھر آئی ہے چمن میں بہار پھر اب کے یاد کرے گی مجھے ...

مزید پڑھیے

جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے

جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے بہار آنے سے پہلے ہی چمن بیدار ہو جائے خوشی کیسی خوشی سے واسطہ کیا غم پرستوں کو مسلسل غم نہ ہو تو زندگی دشوار ہو جائے ٹھہر اے برق یہ دو چار تنکے جمع تو کر لوں بس اتنی اور مہلت آشیاں تیار ہو جائے عطا کر ہاں عطا کر کائنات درد کے مالک اک ایسا درد جو نا ...

مزید پڑھیے

رنج و غم سہے کب تک مجھ سا ناتواں تنہا

رنج و غم سہے کب تک مجھ سا ناتواں تنہا میں ہی رہ گیا ہوں کیا زیر آسماں تنہا اس ادا سے کرتے ہیں ذکر حضرت واعظ جیسے آپ ہی تو ہیں مالک جناں تنہا ایک ہو کا عالم ہے گل ہے اور نہ غنچے ہیں کیا کرے گا گلشن میں رہ کے باغباں تنہا اب وطن کی قوت کا حال پوچھتے کیا ہو ایک ایک لشکر ہے ایک اک جواں ...

مزید پڑھیے

شام غم جب در بدر ہو جائے گی

شام غم جب در بدر ہو جائے گی وقت سے پہلے سحر ہو جائے گی دل کی دھڑکن کا سہارا چاہئے آہ پابند اثر ہو جائے گی آپ چلنے کا ارادہ تو کریں ساری دنیا ہم سفر ہو جائے گی ڈال تو دیجے نشیمن کی بنا برق کو خود ہی خبر ہو جائے گی اپنی آہوں پر بھروسا ہے مجھے جب میں چاہوں گا سحر ہو جائے گی مسکرانے ...

مزید پڑھیے

غم دل کو بہار بے خزاں کہنا ہی پڑتا ہے

غم دل کو بہار بے خزاں کہنا ہی پڑتا ہے محبت کو حیات‌‌ جاوداں کہنا ہی پڑتا ہے کہاں جاتا ہے رہبر کون ہے اور ہے کہاں منزل مسافر سے بھی حال کارواں کہنا ہی پڑتا ہے برا ہو یا بھلا ہو اک آسرا ہے سر چھپانے کا بہر صورت قفس کو آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے یہ مانا وہ جفا پرور ہے ظالم ہے ستم گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1427 سے 6203