جب کبھی فصل بہاراں کا خیال آتا ہے
جب کبھی فصل بہاراں کا خیال آتا ہے ساتھ ہی چاک گریباں کا خیال آتا ہے جب بھی بے ساختہ زنجیر پہ جاتی ہے نظر آپ کی زلف پریشاں کا خیال آتا ہے یاد آ جاتی ہے کشتی کی تباہی مجھ کو کانپ اٹھتا ہوں جو طوفاں کا خیال آتا ہے آبلہ پائی کی تکلیف کا احساس نہیں زحمت خار مغیلاں کا خیال آتا ہے میں ...