قومی زبان

پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے

پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے اک زمانہ تری آنکھوں میں سمانا چاہے ایسی لہروں میں ندی پار کی حسرت کس کو اب تو جو آئے یہاں ڈوب ہی جانا چاہے آج بکنے سر بازار میں خود آیا ہوں کیوں مجھے کوئی خریدار بنانا چاہے مجھ میں اور تجھ میں ہے یہ فرق تو اب بھی قائم تو مجھے چاہے مگر تجھ ...

مزید پڑھیے

نہ یہ پوچھو گزر کر حد سے دیوانوں پہ کیا گزری

نہ یہ پوچھو گزر کر حد سے دیوانوں پہ کیا گزری جنوں سے جا کے یہ پوچھو کہ ویرانوں پہ کیا گزری منایا جشن بھی کیسا یہ بولے ٹوٹ کر ساغر تمہاری وحشتوں سے آج پیمانوں پہ کیا گزری تھی گل پوشی چمن والو کہ گل چینی کا پاگل پن تمہاری ان اداؤں سے گلستانوں پہ کیا گزری ہوائیں لوٹ کر آئیں تو گم ...

مزید پڑھیے

کیا جانے کیا سوچا ہوگا

کیا جانے کیا سوچا ہوگا جو بھی سوچا اچھا ہوگا دل کو اپنے ہاتھوں کھو کر تنہائی میں روتا ہوگا دنیا سے ہو کر بیگانہ اپنے رستے چلتا ہوگا اس کے بھولے بھالے دل کو ہر اک اپنا لگتا ہوگا دھوکے بازوں کی نگری میں اس نے کس کو پرکھا ہوگا دل رکھنا آتا ہے اس کو سب سے ہنس کر ملتا ہوگا راگؔ نہ ...

مزید پڑھیے

برسا ہے اشکوں کا ساون بھی دل کی انگنائی میں

برسا ہے اشکوں کا ساون بھی دل کی انگنائی میں پھول کھلے ہیں غم کے کتنے آج مری تنہائی میں شاخ لچکنا غنچے ہنسنا پنچھی گانا بھول گئے شامل ہے جو درد تمہارا یادوں کی پروائی میں سودا ہم نے اپنے جنوں کا نہیں کیا اے اہل ہوش کی ہے خاک مٹا کر ہستی خود ہم نے رسوائی میں دیکھو ساتھ نہ چھوٹے ...

مزید پڑھیے

سیکھوں اشکوں سے با وضو ہونا

سیکھوں اشکوں سے با وضو ہونا شیخ پھر جا کے قبلہ رو ہونا مجھ سے رکھنے لگے عداوت سب راس آیا نہ سرخ رو ہونا درمیاں رنجشوں کی ہے دیوار کیسے ممکن ہو گفتگو ہونا جانے کس گل کے ہو مقدر میں اپنے گلشن کی آبرو ہونا کیسے بن پائے گا سمندر وہ جس کی قسمت ہو آب جو ہونا ہے سخن سے ہی عظمت شاعر کب ...

مزید پڑھیے

چاند کے رخ پر گہرا بادل

چاند کے رخ پر گہرا بادل جیسے پھیلا آنکھ کا کاجل تشنہ لبوں کے جام جو کھنکے ٹوٹ کے بکھری مے کی بوتل زخمی طائر سا دل تڑپا ٹوٹی سپنوں کی جب پائل ہم کو سمجھا کر خود رویا یہ دل بھی ہے کتنا پاگل زخم ہمارا روشن روشن راگؔ بجھی وشواس کی مشعل

مزید پڑھیے

یہ مت پوچھو قصہ کیا تھا

یہ مت پوچھو قصہ کیا تھا کیا بتلائیں گزرا کیا تھا ہم نے دو پل کے ریلے میں دیکھا بھی تو دیکھا کیا تھا ہجر و وصل اور رشتے ناطے چار دنوں کا میلہ کیا تھا لب نے ہنس کر بات بنا دی کون یہ سمجھا ٹوٹا کیا تھا سب کو اپنا کر بھی تنہا اس سے بڑھ کر دھوکا کیا تھا دل بھی غم بھی اور سپنے بھی سب ...

مزید پڑھیے

مت ٹکرانا پتھر بن کر آہن ہم ہو جائیں گے

مت ٹکرانا پتھر بن کر آہن ہم ہو جائیں گے پیار سے آ کر تم جو ملو گے گلشن ہم ہو جائیں گے راز چھپانا چاہو تو ہم پردے کا بھی کام کریں اور حقیقت چاہو تو پھر درپن ہم ہو جائیں گے ہم کو دشمن مت سمجھو ہم پیار سکھاتے ہیں سب کو جس میں بھرے ہوں پھول وفا کے دامن ہم ہو جائیں گے خوشیوں میں رنگین ...

مزید پڑھیے

جب چھوڑ دیا مڑ کر ساحل کو نہیں دیکھا

جب چھوڑ دیا مڑ کر ساحل کو نہیں دیکھا رستے کے مسافر نے منزل کو نہیں دیکھا کیا حوصلہ تھا اس کا کیا کر وہ گیا لوگو تھا جوش جنوں حد فاصل کو نہیں دیکھا وہ لاکھ کرے دعوے پر خاک مجھے سمجھے جس نے کہ مرے جذب کامل کو نہیں دیکھا کیا خوب ہے ہمدردی بے درد مہربانو لاشوں میں الجھتے ہو قاتل کو ...

مزید پڑھیے

پیکر ہے انسان نہیں ہے

پیکر ہے انسان نہیں ہے پتھر ہے بھگوان نہیں ہے وحشت کا سایہ ہے لپٹا سر پر اب قرآن نہیں ہے ایماں کا بھی حال نہ پوچھو وہ دل کا مہمان نہیں ہے سجدہ جس پر کریں جبینیں کمتر وہ استھان نہیں ہے آئے یہاں اور بس نہ پائے ایسا ہندوستان نہیں ہے سب پر بھاری ایک قلندر جو میر و سلطان نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1391 سے 6203