پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے
پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے اک زمانہ تری آنکھوں میں سمانا چاہے ایسی لہروں میں ندی پار کی حسرت کس کو اب تو جو آئے یہاں ڈوب ہی جانا چاہے آج بکنے سر بازار میں خود آیا ہوں کیوں مجھے کوئی خریدار بنانا چاہے مجھ میں اور تجھ میں ہے یہ فرق تو اب بھی قائم تو مجھے چاہے مگر تجھ ...