قومی زبان

یہ مت پوچھو قصہ کیا تھا

یہ مت پوچھو قصہ کیا تھا کیا بتلائیں گزرا کیا تھا ہم نے دو پل کے ریلے میں دیکھا بھی تو دیکھا کیا تھا ہجر و وصل اور رشتے ناطے چار دنوں کا میلہ کیا تھا لب نے ہنس کر بات بنا دی کون یہ سمجھا ٹوٹا کیا تھا سب کو اپنا کر بھی تنہا اس سے بڑھ کر دھوکا کیا تھا دل بھی غم بھی اور سپنے بھی سب ...

مزید پڑھیے

حسن کیا اور دل کشی کیا تھی

حسن کیا اور دل کشی کیا تھی تم نہ ہوتے تو زندگی کیا تھی آس جاگی نہ تھی اگر دل میں ہلکی ہلکی سی روشنی کیا تھی اس کو اکثر اداس دیکھا ہے اس کی محفل میں کچھ کمی کیا تھی غیر بھی ہم سے اب یہ پوچھیں گے تنہا تنہا ہو بے بسی کیا تھی مٹتے مٹتے بھی آس کہتی ہے تم جو آتے تو بات ہی کیا تھی ہم پہ ...

مزید پڑھیے

کبھی دلوں کی صدا بھی بن جا

کبھی دلوں کی صدا بھی بن جا کسی کے لب کی دعا بھی بن جا یہ داغ گل بھی ہیں آس رکھتے سنوار ان کو صبا بھی بن جا ہزار رنگوں میں ہو نمایاں تو رنگ کوئی جدا بھی بن جا کسی کے دل میں جگا کے چاہت تو آرزو کا خدا بھی بن جا غموں سے راحت ملے کسی کو شراب بن جا نشہ بھی بن جا دل و نظر کے سکوں کی ...

مزید پڑھیے

غروب ہوتے ہوئے دو ستارے آنکھوں میں

غروب ہوتے ہوئے دو ستارے آنکھوں میں شکست خواب کے ہیں استعارے آنکھوں میں پھر اس کے بعد کسی بھی پلک اماں نہ ملی وہ روز و شب کہ جو ہم نے گزارے آنکھوں میں ہم آخر شب امید سو بھی جائیں مگر وہ خواب گمشدگاں کون اتارے آنکھوں میں اس اہتمام سے روتے ہیں تیرے دل زدگاں کہ باہر آنکھوں سے دریا ...

مزید پڑھیے

جس وقت آنکھیں خواب آئینہ دل ہوتا ہے

جس وقت آنکھیں خواب آئینہ دل ہوتا ہے شعر نہیں لکھا جاتا نازل ہوتا ہے تنہا کیوں چلتے ہو کسی کے ساتھ چلو تو اک رستہ ایسا ہے جو منزل ہوتا ہے اور کسی کے ہاتھ پہ ہم بیعت نہ کریں گے دریا صرف سمندر میں شامل ہوتا ہے زندہ رہنا سہل بہت ہے لیکن انساں جاں سے گزر جائے تو اس قابل ہوتا ہے ہر شے ...

مزید پڑھیے

مکالمہ

دادو آپ کے بابا کہاں ہیں میرے بچے میرے بابا تو بہت مدت ہوئی اللہ میاں کے پاس ہیں اور آپ کی ماما کہاں ہیں میرے بچے وہ بھی ان کے ساتھ ہیں اللہ میاں کے پاس دادو آپ کے بابا بھی اور ماما بھی دونوں مر گئے کیسے مرے تھے کیا انہیں گولی لگی تھی بم پھٹا تھا یا کہیں وہ فیکٹری کی آگ میں جل کر مرے ...

مزید پڑھیے

تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں

تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں پھر زندگی میں خود کو بھلا کر غزل کہوں تعبیر غم ہے ایسا یہ خوابوں کا شہر ہے کیسے کسی کو خواب دکھا کر غزل کہوں ہر اک نظر میں جاگتے کتنے سوال ہیں کیسے نظر کسی سے ملا کر غزل کہوں بھوکے یتیم لوریاں ہی سن کے سو گئے آنکھوں میں کیوں نہ اشک سجا کر غزل ...

مزید پڑھیے

کچھ بند مکاں بھی رہنے دیں

کچھ بند مکاں بھی رہنے دیں کچھ راز نہاں بھی رہنے دیں ہر سمت جگائے ہیں محشر کچھ امن و اماں بھی رہنے دیں ہیں جلتے دیپ قیادت کے قدموں کے نشاں بھی رہنے دیں دیتا ہے گواہی عبرت کی اٹھتا یہ دھواں بھی رہنے دیں ہے گرم لہو دیوانوں کا مقتل کے نشاں بھی رہنے دیں خود صید جو چل کر آئے ہیں اب ...

مزید پڑھیے

جب ڈھونڈو گے اپنا کوئی

جب ڈھونڈو گے اپنا کوئی یاد آئے گا مجھ سا کوئی شہروں شہروں گھوم رہا ہے دیوانہ اک تنہا کوئی انجانے ان چہروں سے بھی لگتا کیوں ہے رشتہ کوئی آنسو چھل چھل بہہ نکلے ہیں کیا یاد آیا اپنا کوئی چل دیتے ہیں آنکھ چرا کر کب ہے آس بندھاتا کوئی شہر سے اس کے آنے والو اس کا سندیسہ لاتا ...

مزید پڑھیے

ہجوم یاس میں ماں کی دعا ملتی رہی ہے

ہجوم یاس میں ماں کی دعا ملتی رہی ہے یہ دولت زندگی میں بارہا ملتی رہی ہے کسی کا کچھ بگاڑا ہی نہیں ہم نے زمانے میں ہمیں تو خواب لکھنے کی سزا ملتی رہی ہے ترے در تک پہنچنے کی کبھی نوبت نہیں آئی کہ رستے میں ہمیں اپنی انا ملتی رہی ہے بچا کے لاکھ رکھا تو نے اپنے دامن دل کو مگر زخموں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1392 سے 6203