قومی زبان

سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا

سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا اب کے فساد دل سے مرے ڈر بھی لے گیا خیرات بٹ رہی تھی در شہریار پر سنتے ہیں اب کے بھیک سکندر بھی لے گیا ماں نے بچا کے رکھا تھا بیٹی کے واسطے بیٹا ہوا جواں تو یہ زیور بھی لے گیا آیا تھا ہر کسی کو محبت سے جیتنے کچھ زخم اپنے سینے کا ساغرؔ بھی لے گیا

مزید پڑھیے

پیمانہ ترے لب ہیں آنکھیں تری مے خانہ

پیمانہ ترے لب ہیں آنکھیں تری مے خانہ جس نے بھی تجھے دیکھا تیرا ہوا دیوانہ اس طرح بدل جانا اک پل میں ترا ساقی ہر شخص بلاتا ہے کہہ کر تجھے بیگانہ مشہور زمانے میں ہے دریا دلی تیری اک جام دے مجھ کو بھی اے ساقیٔ مستانہ اے شمع تیری لو میں وہ کون سی خوبی ہے جو تجھ سے گلے مل کر جل جاتا ...

مزید پڑھیے

ذہن اور دل میں فاصلا ہی رہا

ذہن اور دل میں فاصلا ہی رہا وقت زخموں سے کھیلتا ہی رہا عمر بھر احتیاط کے با وصف ہم پہ الزام کم نگاہی رہا ہم جسے درد آشنا سمجھے عمر بھر صورت آشنا ہی رہا خط ابیض نظر کا دھوکا تھا شب کا انجام تو سیاہی رہا

مزید پڑھیے

یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے

یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے عجیب خواب سا دیکھا تھا کچھ دنوں پہلے یہ کیا ہوا کہ اب اپنا بھی اعتبار نہیں ہمیں تو سب کا بھروسا تھا کچھ دنوں پہلے ہمارے خون رگ جاں کی لالہ کاری سے جو آج باغ ہے صحرا تھا کچھ دنوں پہلے اسی افق سے نیا آفتاب ابھرے گا جہاں چراغ جلایا تھا کچھ دنوں ...

مزید پڑھیے

جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب ملے

جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب ملے حقیقتوں کو ٹٹولا گیا تو خواب ملے ہر ایک سمت سے آواز بازگشت آئی اس آرزو میں پکارا تھا کچھ جواب ملے ہمیں بہار کے آثار کی توقع تھی رخ چمن پہ نشانات انقلاب ملے کہانیوں کی کتابوں میں اب ملیں تو ملیں وہ خوش نظر جنہیں ذروں میں آفتاب ملے

مزید پڑھیے

وہ آج بھی قریب سے کچھ کہہ کے ہٹ گئے

وہ آج بھی قریب سے کچھ کہہ کے ہٹ گئے دنیا سمجھ رہی تھی مرے دن پلٹ گئے جو تشنہ لب نہ تھے وہ تھے محفل میں غرق جام خالی تھے جتنے جام وہ پیاسوں میں بٹ گئے صندل کا میں درخت نہیں تھا تو کس لیے جتنے تھے غم کے ناگ مجھی سے لپٹ گئے جب ہاتھ میں قلم تھا تو الفاظ ہی نہ تھے جب لفظ مل گئے تو مرے ...

مزید پڑھیے

رات کے اندھیروں کو روشنی وہ کیا دے گا

رات کے اندھیروں کو روشنی وہ کیا دے گا اک دیا جلائے گا سو دیے بجھا دے گا مدتیں ہوئی مجھ سے گھر چھڑا دیا میرا کیا زمانہ اب تیرا ساتھ بھی چھڑا دے گا سب کے نقلی چہرے ہیں سب کا ایک عالم ہے کوئی اس زمانے میں کس کو آئنا دے گا میں ابھی تو مجرم ہوں آپ اپنا قاتل ہوں کانپ اٹھے گا منصف بھی جب ...

مزید پڑھیے

ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے چادر کو اپنی دیکھ کے ہم خود سمٹ گئے جب ہاتھ میں قلم تھا تو الفاظ ہی نہ تھے اب لفظ مل گئے تو مرے ہاتھ کٹ گئے صندل کا میں درخت نہیں تھا تو کس لیے جتنے تھے غم کے ناگ مجھی سے لپٹ گئے بیٹھے تھے جب تو سارے پرندے تھے ساتھ ساتھ اڑتے ہی شاخ سے کئی سمتوں ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں غم کی مرے ساتھ جو آیا ہوگا

دھوپ میں غم کی مرے ساتھ جو آیا ہوگا وہ کوئی اور نہیں میرا ہی سایا ہوگا یہ جو دیوار پہ کچھ نقش ہیں دھندلے دھندلے اس نے لکھ لکھ کے مرا نام مٹایا ہوگا جن کے ہونٹوں پہ تبسم ہے مگر آنکھ ہے نم اس نے غم اپنا زمانے سے چھپایا ہوگا بے تعلق سی فضا ہوگی رہ غربت میں کوئی اپنا ہی ملے گا نہ ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں شیشے کے ہیں دروازے پتھر کی دکانوں میں کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں بس ایک ہی ٹھوکر سے گر جائیں گی دیواریں آہستہ ذرا چلیے شیشے کے مکانوں میں اللہ رے مجبوری بکنے کے لیے اب بھی سامان تبسم ہے اشکوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1390 سے 6203