قومی زبان

ہم اپنے نام سے ہرگز کہیں جانے نہیں جاتے

ہم اپنے نام سے ہرگز کہیں جانے نہیں جاتے تمہارا نام نہ لیتے تو پہچانے نہیں جاتے کبھی جو بھولے بھٹکے سے بھی میخانے نہیں جاتے یہ نہ سمجھو کہ ان کے پاس پیمانے نہیں جاتے کسی کے دل میں کیا ہے ماتھے پہ لکھا نہیں ہوتا کہ اپنے لوگ بھی تو ہم سے پہچانے نہیں جاتے اندھیرے رہبری کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

زخموں کو مرے رنگ حنا دے گئی صبا

زخموں کو مرے رنگ حنا دے گئی صبا چاہا تھا کیا بہار میں کیا دے گئی صبا پرواز کر رہی ہے خلاؤں میں روح بھی اپنے مریض غم کو شفا دے گئی صبا دشت جنوں کو گرد اڑی اور جم گئی عریاں تھا میرا جسم قبا دے گئی صبا دل کو اڑا کے لے گئی مانند بوئے گل کانٹوں پہ لوٹنے کی سزا دے گئی صبا یہ برق یہ ...

مزید پڑھیے

بوٹا بوٹا منہ کھولے گا پتہ پتہ بولے گا

بوٹا بوٹا منہ کھولے گا پتہ پتہ بولے گا جب دھرتی کو چھوڑ پکھیرو آسمان پر ڈولے گا اس دن برکھا شرمائے گی بادل کی چادر اوڑھے آنکھوں سے بہتا آنسو جب بھید دلوں کے کھولے گا مشکل میں کترا جاتے ہیں اپنے بھی کہتے ہیں لوگ چاہنے والا بھیڑ میں جگ کی ساتھ کسی کے ہو لے گا کر کر کے یہ یاد دوانہ ...

مزید پڑھیے

اپنے انجام سے بے خبر زندگی

اپنے انجام سے بے خبر زندگی رات دن کر رہی ہے سفر زندگی ان دہکتی چتاؤں کی آغوش میں کس طرح ہو سکے گی بسر زندگی آ کے جاتے ہوئے منظروں کی طرح گھٹتی جاتی ہے شام و سحر زندگی موت تیرا بہت ہم پہ احسان ہے تجھ سے پہلی نہ تھی معتبر زندگی بغض و نفرت کی بڑھتی ہوئی آگ میں جل رہے ہیں امیدوں کے ...

مزید پڑھیے

پڑھ کے دیکھے کوئی لگائے حساب

پڑھ کے دیکھے کوئی لگائے حساب زندگانی ہے مسئلوں کی کتاب اب گدائی سے کچھ نہیں حاصل مل گیا ہے ہر ایک در سے جواب یہ جو چاہیں تو راہ میں لوٹیں ایسے رہبر ہیں آج کل کے جناب صبح جلوہ نمائی کرتی ہے رات ہے اس کے رخ کی ایک نقاب کون اب زندگی کو سمجھائے موت خود ہی ہے زندگی کا جواب پھر بھی ...

مزید پڑھیے

کاسۂ دل جو ٹوٹ جائے گا

کاسۂ دل جو ٹوٹ جائے گا پھر یہ سائل نظر نہ آئے گا تو تو خوددار ہے کسی در پر کیسے دست طلب بڑھائے گا آندھیوں میں دئے جلانے سے راہبر راہ بھول جائے گا ٹمٹماتا ہوا ہر اک تارا شمع امید کی جلائے گا ناامیدی ہی جب مقدر ہے کیسے تقدیر آزمائے گا دیکھ کر آسماں جو چلتا ہے وہ بھی ٹھوکر ضرور ...

مزید پڑھیے

دل کو زر سے نہ تولیے صاحب

دل کو زر سے نہ تولیے صاحب ہم فقیروں سے بولئے صاحب اپنا جیسا سبھی کو پائیں گے دل کا دروازہ کھولیے صاحب اب تو بدلیں کہ دن بدلتے ہیں عہد ماضی کو رو لئے صاحب ان کے دست حنائی کی خاطر ہاتھ خوں میں ڈبو لئے صاحب جو بھی ہنس کے ملا محبت سے دل سے اس کے ہی ہو لئے صاحب ان گلابوں میں رنگ ...

مزید پڑھیے

لطف پیمان بار بار کہاں

لطف پیمان بار بار کہاں لذت سوز انتظار کہاں کیا ہوئیں بے قراریاں دل کی وہ تمنائے وصل یار کہاں وہ تقاضائے شوق دید کجا روح کو اب وہ اضطرار کہاں جوش وحشت کے وہ مزے نہ رہے وہ گریبان تار تار کہاں مے کشی کی وہ بات جاتی رہی اب وہ محفل وہ مےگسار کہاں موت آ جائے تو غنیمت ہے ان کے آنے کا ...

مزید پڑھیے

دل میں چراغ عشق نہ جو ضو فشاں رہے

دل میں چراغ عشق نہ جو ضو فشاں رہے رعنائی خیال نہ حسن بیاں رہے شامل ہے اس میں میری تمنا کا خون بھی رنگیں تری ادا کی نہ کیوں داستاں رہے دل مٹ گیا کشاکش امید و بیم میں اب مہرباں ہو کوئی کہ نا مہرباں رہے اس رشک کا برا ہو جو دیکھا انہیں کبھی پہروں ہم اپنے آپ سے بھی بد گماں ...

مزید پڑھیے

کسی سے جب نہ اٹھا تو اٹھا بار گراں ہم سے

کسی سے جب نہ اٹھا تو اٹھا بار گراں ہم سے ملا سکتے نہیں اب آنکھ ساتوں آسماں ہم سے ہنسا کر ایک دو دن عمر بھر آخر رلاتا ہے عجب اٹکھیلیاں کرتا ہے دور آسماں ہم سے ہمارا جب یہ ہونا بھی نہ ہونے کے برابر ہے تو آخر کیوں خفا بیٹھی ہے مرگ ناگہاں ہم سے ابھی پیش نظر تعمیر فردا کی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1368 سے 6203