قومی زبان

وہ طلوع منظر پر اثر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ طلوع منظر پر اثر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ وداع شب وہ نئی سحر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی چاند تاروں میں ڈھونڈھنا کبھی ماہ پاروں میں دیکھنا وہ تلاش جلوۂ معتبر تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو تھیں سخن سخن تری رفعتیں وہ غزل غزل تری نکہتیں تھا تو شعر شعر میں جلوہ گر تجھے یاد ہو کہ نہ ...

مزید پڑھیے

ہم کو ایسا گمان ہونے لگا

ہم کو ایسا گمان ہونے لگا وقت کچھ مہربان ہونے لگا دل میں کس کا خیال آیا ہے خوشبو خوشبو مکان ہونے لگا اس نے زلفیں بکھیر دیں اپنی بادلوں کا گمان ہونے لگا پھر کبوتر اڑائے ہیں اس نے پھر لو امن و امان ہونے لگا ان کی نظریں بدل گئیں شاید وقت نامہربان ہونے لگا پھر وہ روٹھا ہے چاند سا ...

مزید پڑھیے

اگر سجدوں میں سوز دل نہیں ہے

اگر سجدوں میں سوز دل نہیں ہے عبادت کا کوئی حاصل نہیں ہے بھٹکنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہے سفر کی جب کوئی منزل نہیں ہے زبان حال سے کہتی ہیں لاشیں محبت کا کوئی قائل نہیں ہے اثر جس پر نہ ہو آہ و فغاں کا وہ سچ مچ پیار کے قابل نہیں ہے یقیناً وہ یہیں ہوگا کہیں پر مرا دل گمشدہ فائل نہیں ...

مزید پڑھیے

مرا مشکل کشا ہے اور میں ہوں

مرا مشکل کشا ہے اور میں ہوں اسی کا آسرا ہے اور میں ہوں مرا دست دعا ہے اور میں ہوں صدائے بے صدا ہے اور میں ہوں دل غم آشنا ہے اور میں ہوں جفائے ناروا ہے اور میں ہوں ستم سہنے کی عادت پڑ گئی ہے وفاؤں کا صلہ ہے اور میں ہوں میں کیسے جھوٹ بولوں سوچتا ہوں مقابل آئنہ ہے اور میں ہوں جسے ...

مزید پڑھیے

گاؤں آ کر جو اپنا گھر دیکھا

گاؤں آ کر جو اپنا گھر دیکھا دل کو آزردہ کس قدر دیکھا گھر تھا خاموش اونگھتی گلیاں ایک سناٹا سربسر دیکھا آشیاں تھا جو ہم پرندوں کا تنہا تنہا سا وہ شجر دیکھا کس کے شانے پہ رکھ کے سر روتے کوئی رشتہ نہ معتبر دیکھا کھیت کھلیان ساتھ رونے لگے روتا ہم کو جو اس قدر دیکھا عیش و عشرت کی ...

مزید پڑھیے

دل میں ہو جو بھی بہر خدا کہہ لیا کرو

دل میں ہو جو بھی بہر خدا کہہ لیا کرو اچھا نہیں کہو تو برا کہہ لیا کرو خون جگر کو رنگ حنا کہہ لیا کرو ان کے ستم کو ان کی ادا کہہ لیا کرو تہذیب غم یہ کہتی ہے خاموش لب رہیں آنکھوں سے اپنی شکوہ گلہ کہہ لیا کرو ممکن نہیں ہے دوست غم عشق سے نجات اب درد کو ہی دل کی دوا کہہ لیا کرو یہ بھی ...

مزید پڑھیے

ابر سیاہ قوس قزح چاندنی غزل

ابر سیاہ قوس قزح چاندنی غزل ہر منظر حیات میں ڈھلتی رہی غزل شانوں پہ اس نے ڈال دی اک سرمئی غزل جیسے فلک سے آئے کوئی جھومتی غزل اوڑھی کبھی تو ہم نے بچھائی کبھی غزل لیکن ہمارے کام نہ آئی کوئی غزل جب بھی تصورات نے آواز دی تجھے تحریر دل پہ ہو گئی اک چاند سی غزل ہر شے حضور حسن میں ...

مزید پڑھیے

کسی سے پیار کر لے یا کسی سے پیار ہو جائے

کسی سے پیار کر لے یا کسی سے پیار ہو جائے یہی آزار ہے تو پھر مجھے آزار ہو جائے رسیلے ہونٹ گدرایا بدن اور چشم خوابیدہ کوئی دیکھے اسے تو بے پیے سرشار ہو جائے یہی آزادیٔ اظہار کا مطلب ہے کیا لوگو زباں ترشول ہو جائے قلم تلوار ہو جائے یہی رسم محبت ہے اسی میں لطف آتا ہے کبھی انکار ہو ...

مزید پڑھیے

آئنہ ہو کے آئنہ نہ ہوا

آئنہ ہو کے آئنہ نہ ہوا اس کا وعدہ کبھی وفا نہ ہوا اک ستم بھی کرم نما نہ ہوا زخم کھا کر بھی کچھ بھلا نہ ہوا اس کو اپنا بنانا چاہا تھا ہم سے اظہار مدعا نہ ہوا بات کرتے تو بات بن جاتی بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوا اس نے زلفوں سے ڈھک لیا چہرہ چاند سے کوئی رابطہ نہ ہوا ہر نظر میں ہے وصل کی ...

مزید پڑھیے

تو اگر بے وفا نہیں ہوتی

تو اگر بے وفا نہیں ہوتی یہ قیامت بپا نہیں ہوتی موت اس کو شکست دیتی ہے زندگی بے وفا نہیں ہوتی کاش میں بھی نہ روٹھتا اس سے کاش وہ بھی خفا نہیں ہوتی میں اگر سچ کو جھوٹ کہہ دیتا مجھ کو ہرگز سزا نہیں ہوتی اس کی زلفوں کی یاد آتی ہے جب فلک پر گھٹا نہیں ہوتی وحشتیں اور بڑھتی جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 136 سے 6203