قومی زبان

بے چہرہ آدمی

وہ اپنی گردن پہ میرا چہرہ لگا کے خوش ہے مگر اسے کچھ خبر نہیں ہے کہ جب رگوں سے رگیں نہ مل پائیں گی تو کیسے ان میں لہو بنے گا

مزید پڑھیے

لکیریں چپ نہیں رہتیں

لکیریں بولتی ہیں ہتھیلی پر مہکتے ہونٹ جب لکھتے ہیں لمحوں کی کہانی لکیریں ٹوٹ کر لفظوں کی شکلیں اوڑھ لیتی ہیں

مزید پڑھیے

میں زخموں کو پھر سے کریدوں

بہت دن سے وہ یاد آیا نہیں ہے بہت دن سے میں نے اداسی کو اپنے خیالوں کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں میں سجایا نہیں ہے بہت دن سے کمرے میں گہری گھنی تیرگی ہے مگر اب بدن کو نئے خواب آنے لگے ہیں کتابوں میں سوکھے ہوئے پھول پھر مسکرانے لگے ہیں مگر ان میں خوشبو نئی ہے مجھے یاد ہے تم نے جو پھول مجھ کو ...

مزید پڑھیے

کس سے پوچھوں

کس سے پوچھوں جب بھی کوئی نظم مکمل ہو جاتی ہے میرے اندر ایک خلا کیوں بھر جاتا ہے کیوں مجھ کو ایسا لگتا ہے جیسے میرے خواب کسی نے چھین لیے ہیں زخموں کے مہتاب کسی نے چھین لیے ہیں کس سے پوچھوں نظم مکمل ہوتے ہی کیوں بے چہرہ یادوں کے پنچھی درد کے موسم میرے بدن سے کیوں ہجرت کرنے لگتے ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں سے لفظ ذہن سے افکار چھین لے

ہونٹوں سے لفظ ذہن سے افکار چھین لے مجھ سے مرا وسیلۂ اظہار چھین لے نسلیں تباہ ہوں گی قبیلوں کی جنگ میں جا بڑھ کے اپنے باپ سے تلوار چھین لے نا قدریوں کی اندھی گپھا سامنے ہے پھر دیمک ہی میرے ہاتھ سے شہکار چھین لے انجام خود کشی نہ سہی پھر بھی اے ندیم مجھ سے مری کہانی کا کردار چھین ...

مزید پڑھیے

صداقت کا جو پیغمبر رہا ہے

صداقت کا جو پیغمبر رہا ہے وہ اب سچ بولنے سے ڈر رہا ہے کہانی ہو رہی ہے ختم شاید کوئی کردار مجھ میں مر رہا ہے ذرا سی دیر کو آندھی رکی ہے پرندہ پھر اڑانیں بھر رہا ہے مرے احباب کھو جائیں گے اک دن مجھے یہ وہم سا اکثر رہا ہے لگی ہے روشنی کی شرط شب سے ستارہ جگنوؤں سے ڈر رہا ہے

مزید پڑھیے

لہولہان پروں پر اڑان رکھ دینا

لہولہان پروں پر اڑان رکھ دینا شکستگی میں نیا امتحان رکھ دینا مرے بدن پہ لبوں کے نشان رکھ دینا نئی زمیں پہ نیا آسمان رکھ دینا اگر کبھی مرا سچ جاننے کی خواہش ہو کسی بھی شخص کے منہ میں زبان رکھ دینا ہمارے گھر کی یہ دیوار کتنی تنہا ہے جو ہو سکے تو کوئی سائبان رکھ دینا لڑائی میں جو ...

مزید پڑھیے

برہنہ شاخوں پہ کب فاختائیں آتی ہیں

برہنہ شاخوں پہ کب فاختائیں آتی ہیں میں وہ شجر ہوں کہ جس میں بلائیں آتی ہیں یہ کون میرے لہو میں دیے جلاتا ہے بدن سے چھن کے یہ کیسی شعاعیں آتی ہیں مجھے سند کی ضرورت نہیں ہے ناقد سے مری غزل پہ حسینوں کی رائیں آتی ہیں خدا سے جن کا تعلق نہیں بچا کوئی سفر میں یاد انہیں بھی دعائیں آتی ...

مزید پڑھیے

بدن دریدہ ہوں یارو شکستہ پا ہوں میں

بدن دریدہ ہوں یارو شکستہ پا ہوں میں کہ جیسے اپنے بزرگوں کی بد دعا ہوں میں وہ شخص تو کسی اندھی سرنگ جیسا ہے اور اس سے زندہ نکلنے کا راستہ ہوں میں وہ ہم سفر ہی نہیں مانتا مجھے اپنا یہ جانتا ہوں مگر ساتھ چل رہا ہوں میں یہ بھول جاؤ کہ تم مجھ کو بھول جاؤ گے کبھی تو تم سے ملوں گا کہ ...

مزید پڑھیے

مری نظمیں تمہاری منتظر ہیں

مرے خوابوں کے صورت گر مری سوچوں کے چہرہ گر کہاں ہو تم مری نظمیں تمہاری منتظر ہیں خفا ہیں لفظ لہجے بے صدا ہیں کئی دن سے تمہاری یاد کے پنچھی بھی میرے ذہن و دل کے آسمانوں پر نظر آتے نہیں ہیں ندی کہسار جھرنے پھول تتلی رنگ جگنو سب مری بے چارگی پر نوحہ خواں ہیں کوئی منظر مری بے چہرگی کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1296 سے 6203