قومی زبان

لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں پھول ہونٹوں کے تھرتھراتے ہیں پھول ہی پھول یاد آتے ہیں آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں آپ جا کر ہوا سے کہہ دیجے پھول پتے بھی گنگناتے ہیں دھوپ بیٹھی رہی منڈیروں پر اور کچھ پنچھی چہچہاتے ہیں مسکراہٹ کھلی ہے چہرے پر اشک آنکھوں میں جھلملاتے ہیں ان نگاہوں کے ...

مزید پڑھیے

دوست اپنے ہیں لوگ اپنے ہیں

دوست اپنے ہیں لوگ اپنے ہیں جھوٹ پر جن کے ہونٹ کپنے ہیں خوش رہیں گے وہ دوست تم سے بھی سامنے ان کے نام جپنے ہیں یہ ادھیکار آپ کب دیں گے کچھ ہمارے بھی یار سپنے ہیں لکھ رہے ہو جو جھوٹ کاغذ پر کیا رسالوں میں لیکھ چھپنے ہیں اور کچھ خاک چھاننی ہوگی پنڈلیوں میں سفر سڑپنے ہیں تم کو ...

مزید پڑھیے

کاٹھ کی لڑکیاں بنا لی ہیں

کاٹھ کی لڑکیاں بنا لی ہیں میں نے کٹھ پتلیاں بنا لی ہیں نام اس کا لکھا ہے کاغذ پر کارگر انگلیاں بنا لی ہیں آندھیو تم گناہ کر ڈالو پھوس کی جھگیاں بنا لی ہیں ان کو میرے نصیب میں لکھ دو چاند سی روٹیاں بنا لی ہیں نیر تو لاؤ بدلیو جا کر تال میں مچھلیاں بنا لی ہیں گھر میں تازہ ہوائیں ...

مزید پڑھیے

ایک ضروری نظم

میری نظموں کے سادہ لوح قاری تمہیں کیا علم میں برسوں سے اپنی سوچ کے جنگل میں تم کو بے سبب بھٹکا رہا ہوں بظاہر تم کو لگتا ہے کہ میری ساری نظمیں درد کے تاریک جنگل میں تمہاری ہم سفر ہیں مگر یہ سچ نہیں ہے مری نظموں کے سارے لفظ کاذب ہیں مرے لہجے کا سارا کرب جھوٹا ہے مری نظمیں تو میرے ذہن ...

مزید پڑھیے

لا حاصل

وہ تتلیوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ایک دن اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا

مزید پڑھیے

نیا سقراط

میں بھی اس عہد کا ایک سقراط ہوں روز پیتا ہوں زہراب تنہائی کا صبح سے شام تک خود سے ملنے کی کوشش میں رہتا ہوں میں اور شاید یہی اک سبب ہے جو تنہا ہوں میں مطمئن ہوں کہ میں اس نئے عہد کا ایک سقراط ہوں روز پیتا ہوں زہراب تنہائی کا اور زندہ ہوں میں

مزید پڑھیے

خواہش کا عذاب

اور پھر ایک دن جسم میں چیختی خواہشیں بے صدا ہو گئیں جب درختوں سے لٹکے ہوئے خوف کے سانپ زہر ناکامیوں کا اگلنے لگے گاؤں کی سونی پگڈنڈی کے موڑ پر حوصلوں کو مرے کچھ ملی روشنی پھر اچانک اندھیرے کی جھاڑی سے نکلی ہوئی سرسراہٹ نے پگھلا دئے خواہشوں کے سلگتے بدن

مزید پڑھیے

تعبیر

کوئی ہے بھی کہاں اس شہر میں جو میرے خوابوں کی سہی تعبیر بتلائے کہ میں نے اپنے سارے خواب آنکھوں کی بجائے دل سے دیکھے ہیں

مزید پڑھیے

یہ وقت کیا ہے

یہ وقت کیا ہے کہ اپنے معمول سے گریزاں ہر ایک شے ہے ہر ایک لمحہ گزشتہ لمحات کی نفی ہے عجیب وہم و یقین کا امتزاج سوچوں میں گھل گیا ہے جو خواب دیکھو تو زندگی پر یقین آئے دیے بجھا دو تو روشنی پر یقین آئے سراب دریا ہے اور ریگ رواں سمندر بدن پہ زخموں کا جال ہے جگنوؤں سے لکھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

کاذب فرار

آج میں خود سے بہت دور نکل آیا ہوں اپنے جذبوں سے پرے اپنے خیالوں سے پرے اپنی یادوں کی وراثت سے پرے آج میں خود سے بہت دور نکل آیا ہوں دور اتنا کہ جہاں کوئی نہیں دور تلک کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی دم ساز نہیں صرف ٹوٹے ہوئے رشتوں کی سلگتی ہوئی ریت میری آنکھوں کے سمندر کی طرف اڑتی ہے دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1295 سے 6203