قومی زبان

پھر سرخ پھول شہر کے پیڑوں میں آ گئے

پھر سرخ پھول شہر کے پیڑوں میں آ گئے روحوں میں جتنے زخم تھے چہروں میں آ گئے ہر اک دریچہ پھول سے چہروں سے بھر گیا اب تو چمن بھی شہر کی گلیوں میں آ گئے دل میں ترے خلوص کے دریا تھے گر رواں شعلے کہاں سے پھر تری آنکھوں میں آ گئے اب دیکھئے گا کس طرح اڑتی ہیں کرچیاں پتھر سے لوگ آئنہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ کے کنج میں اک دشت تمنا لے کر

آنکھ کے کنج میں اک دشت تمنا لے کر اجنبی دیس کو نکلے دل تنہا لے کر دیکھ تو کھول کے تاریک مکاں کی کھڑکی ہم ترے شہر میں آئے ہیں اجالا لے کر ہم بھی پہنچے تھے گلستاں میں سکوں کی خاطر آ گئے ذہن میں تپتا ہوا صحرا لے کر اب نگاہوں کی جراحت کو لیے سوچتے ہیں کیوں گئے بزم میں ہم ذوق تماشا ...

مزید پڑھیے

کسی کی نبض پہ اس طرح انگلیاں رکھ دے

کسی کی نبض پہ اس طرح انگلیاں رکھ دے کہ تیرے سامنے وہ دل کی داستاں رکھ دے میں زخم زخم بدن کو چھپاؤں کس کس سے خدا کے واسطے تو ہاتھ سے کماں رکھ دے تو ایک بار مجھے دھرنے دے زمیں پہ قدم پھر اس کے بعد مرے سر پہ آسماں رکھ دے جو دیکھنا ہے مری روح کی توانائی تو میرے جسم کو شعلوں کے درمیاں ...

مزید پڑھیے

پڑا ہوا میں کسی آئنے کے گھر میں ہوں

پڑا ہوا میں کسی آئنے کے گھر میں ہوں یہ تیرا شہر ہے یا خواب کے نگر میں ہوں اڑائے پھرتی ہے ان دیکھے ساحلوں کی ہوا میں ایک عمر سے اک بے کراں سفر میں ہوں تجھے یہ وہم کہ میں تجھ سے بے تعلق ہوں مجھے یہ دکھ کہ ترے حلقۂ اثر میں ہوں مری تلاش میں گرداں ہیں تیر کرنوں کے چھپا ہوا میں خنک ...

مزید پڑھیے

زندگی نے بخشا ہے زہر آگہی مجھ کو

زندگی نے بخشا ہے زہر آگہی مجھ کو کر دیا گیا اندھا دے کے روشنی مجھ کو خواب کا ہر اک شیشہ سو جگہ سے ٹوٹا ہے کس قدر پڑی مہنگی آئینہ گری مجھ کو دوسروں سے نفرت کا خواب تک نہ دیکھوں گا دوستو خود اپنے سے عشق ہی سہی مجھ کو میں جہاں بھی ہوں لیکن مطمئن تو بیٹھا ہوں تیرے رشد سے بہتر میری ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ مہر بھی نہیں نغمات بھی نہیں

ہونٹوں پہ مہر بھی نہیں نغمات بھی نہیں اے مہرباں یہ شہر طلسمات بھی نہیں شہروں میں گام گام پہ لاکھوں گنا سہی معصوم اتنے آج کے دیہات بھی نہیں وہ بیٹھتا ہے شہر کے ہوٹل میں آج بھی میرے نصیب میں کوئی فٹ پاتھ بھی نہیں اب ذہن میں بھی قوس قزح پھوٹتی نہیں ہاتھوں میں میرے آج ترا ہاتھ بھی ...

مزید پڑھیے

یوں سنہری دھوپ بکھری ہے رخ کہسار پر

یوں سنہری دھوپ بکھری ہے رخ کہسار پر جس طرح غازہ چمکتا ہے ترے رخسار پر اڑتے لمحوں کو پکڑنے کی تمنا ہے عبث یہ پرندے تو کبھی ٹکتے نہیں اشجار پر وہ مرے چہرے پہ کیا ماضی کی تحریریں پڑھے اس کی نظریں تو جمی ہیں آج کے اخبار پر آج تو اک حادثہ اس کو بھی ننگا کر گیا لاکھ پردے تھے پڑے جس شخص ...

مزید پڑھیے

پھر ترے قول و قسم یاد آئے

پھر ترے قول و قسم یاد آئے تری چاہت کے ستم یاد آئے کس قدر چوٹ لگی ہے دل پر جب بھی مر مر کے صنم یاد آئے یاد جب آیا ترا نام مجھے کتنے بے نام سے غم یاد آئے جانے وہ کیسا سفر تھا میرا جس کا اک ایک قدم یاد آئے پھر مرا ذہن ہے الجھا الجھا پھر تری زلف کے خم یاد آئے اور بھی یاد کی لو تیز ...

مزید پڑھیے

کر گئے اشک مری آنکھ کو جل تھل کیا کیا

کر گئے اشک مری آنکھ کو جل تھل کیا کیا اب کے برسا ہے تری یاد کا بادل کیا کیا جس طرف دیکھیے اک قوس قزح ہے رقصاں رنگ بھرتا ہے فضا میں ترا آنچل کیا کیا تو تو چپ چاپ تھا لیکن تجھے معلوم نہیں کہہ گیا میری نظر سے ترا کاجل کیا کیا شہر سفاک کی بے درد گزر گاہوں میں جگمگاتے ہیں چراغ سر مقتل ...

مزید پڑھیے

میں پجاری تھا مگر میرا کوئی مندر نہ تھا

میں پجاری تھا مگر میرا کوئی مندر نہ تھا جو بھی تھا پہلو میں میرے وہ مرا دلبر نہ تھا کس قدر دل کش لگیں سپنے میں گلیاں شہر کی کھل گئی جب آنکھ تو پھر وہ حسیں منظر نہ تھا جانے کیا شے دل کے آئینے کے ٹکڑے کر گئی دیکھنے میں اس کے ہاتھوں میں کوئی پتھر نہ تھا بد حواسی تھی مری یا تجھ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1269 سے 6203