پھر سرخ پھول شہر کے پیڑوں میں آ گئے
پھر سرخ پھول شہر کے پیڑوں میں آ گئے روحوں میں جتنے زخم تھے چہروں میں آ گئے ہر اک دریچہ پھول سے چہروں سے بھر گیا اب تو چمن بھی شہر کی گلیوں میں آ گئے دل میں ترے خلوص کے دریا تھے گر رواں شعلے کہاں سے پھر تری آنکھوں میں آ گئے اب دیکھئے گا کس طرح اڑتی ہیں کرچیاں پتھر سے لوگ آئنہ ...