قومی زبان

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں سامنے تجھ کو بٹھائیں تجھے شب بھر دیکھیں بند ہے شام سے ہی شہر کا ہر دروازہ آ شب ہجر کہ اب اور کوئی گھر دیکھیں ایسے ہم دیکھتے ہیں دل کے اجڑنے کا سماں جس طرح داسیاں جلتا ہوا مندر دیکھیں میرے جنگل میں ہی منگل کا سماں ہے پیدا شہر کے لوگ مرے ...

مزید پڑھیے

صحراؤں میں جا پہنچی ہے شہروں سے نکل کر

صحراؤں میں جا پہنچی ہے شہروں سے نکل کر الفاظ کی خوشبو مرے ہونٹوں سے نکل کر سینے کو مرے کر گیا اک آن میں روشن اک نور کا کوندا تری آنکھوں سے نکل کر میں قطرۂ شبنم تھا مگر آج ہوں سورج آ بیٹھا ہوں میں صدیوں میں لمحوں سے نکل کر ہو جائیں گے بستی کے در و بام منور سورج ابھی چمکے گا ...

مزید پڑھیے

نائٹ کلب

نئی تہذیب کے شہکار عظیم! تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام! کتنے نوخیز و حسیں جسم یہاں چاروں طرف رقص میں محو ہیں عریانی کی تصویر بنے اپنی رعنائی و زیبائی کی تشہیر بنے ساز پرجوش کی سنگت میں تھرکتے جوڑے فرش مرمر پہ پھسلتے ہیں بہک جاتے ہیں دوڑتی جاتی ہے رگ رگ میں شراب گلفام نئی ...

مزید پڑھیے

تابانیٔ رخ لے کر تم سامنے جب آئے

تابانیٔ رخ لے کر تم سامنے جب آئے محسوس ہوا ایسا ہم چاند سے ٹکرائے برکھا کا یہ موسم بھی کس درجہ سہانا ہے آہوں کی ادھر بدلی زلفوں کے ادھر سائے آگاہ نہ تھے پہلے ہم عشق کی راہوں سے پھولوں کے اشاروں پر کانٹوں میں چلے آئے ہونٹوں کے تبسم پر سو بجلیاں رقصاں ہیں بکھراتے ہیں وہ شعلے ...

مزید پڑھیے

طرب‌ آفریں ہے کتنا سر شام یہ نظارا

طرب‌ آفریں ہے کتنا سر شام یہ نظارا ترے ہونٹ پر شفق ہے مری آنکھ میں ستارا کیا میں نے جب کسی کے رخ و زلف سے کنارا کبھی صبح نے صدا دی کبھی شام نے پکارا گل و غنچہ اصل میں ہیں تری گفتگو کی شکلیں کبھی کھل کے بات کہہ دی کبھی کر دیا اشارا ترا نام لے کے جاگے تجھے یاد کر کے سوئے یوں ہی ...

مزید پڑھیے

بوئے گل باد صبا لائی بہت دیر کے بعد

بوئے گل باد صبا لائی بہت دیر کے بعد میرے گلشن میں بہار آئی بہت دیر کے بعد چھپ گیا چاند تو جلووں کی تمنا ابھری آرزوؤں نے لی انگڑائی بہت دیر کے بعد نرگسی آنکھوں میں یہ اشک ندامت توبہ موج مے شیشوں میں لہرائی بہت دیر کے بعد صحن گلشن میں حسیں پھول کھلے تھے کب سے ہم ہوئے خود ہی ...

مزید پڑھیے

اک آن میں ہی یوں ترا پیکر بدل گیا

اک آن میں ہی یوں ترا پیکر بدل گیا جیسے اسٹیج پر کوئی منظر بدل گیا سنتا نہیں ہے کوئی بھی میری پکار کو دستک بدل گئی کہ مرا گھر بدل گیا اک آن میں ہی سب در و دیوار دھل گئے بارش سے شہر بھر کا مقدر بدل گیا خلوت میں جس کے لب پہ تھے میری وفا کے گیت وہ شخص میرے سامنے آ کر بدل گیا بیتابؔ اب ...

مزید پڑھیے

خود اپنے عکس کو حیرت سے دیکھتا ہوں میں

خود اپنے عکس کو حیرت سے دیکھتا ہوں میں کنار آب بڑی دیر سے کھڑا ہوں میں سوانگ بھرتا پھروں کب تلک محبت کے میں کیوں نہ صاف ہی کہہ دوں کہ بے وفا ہوں میں سنا نہ قصے مجھے دامنوں کی عصمت کے کہ تیرے شہر کے لوگوں کو جانتا ہوں میں وہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ دیکھنے کو کئی بار رک ...

مزید پڑھیے

خوشبو مرے بدن میں رچی ہے خلاؤں کی

خوشبو مرے بدن میں رچی ہے خلاؤں کی میں سیر کر رہا ہوں ابھی تک فضاؤں کی مت روک اپنے لب پہ نظر کی حقیقتیں تیری ہر اک صدا ہے امانت ہواؤں کی ہے کون جو کرے گا صداقت سے مول تول قیمت طلب کروں بھی تو کس سے وفاؤں کی اٹھی ہیں اس طرح سے حوادث کی آندھیاں مٹی میں تاب مل گئی رنگیں قباؤں ...

مزید پڑھیے

کل تلک قانع رہا جو گردش تقدیر پر

کل تلک قانع رہا جو گردش تقدیر پر مستعد ہے آج وہ آفاق کی تسخیر پر شور و غل میں شہر کے اس کی صدا بھی کھو گئی ناز تھا جس کو کہ اپنے نطق کی تاثیر پر جو بھری محفل کے دل میں روشنی پھیلا گئی وہ خفا ہے آج تک میری اسی تقریر پر اور جب وہ لے سکا مجھ سے نہ کوئی انتقام ڈال دی اک خاک کی مٹھی مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1268 سے 6203