قومی زبان

چہروں پہ لکھے لوگوں کے صدمے پڑھا کرو

چہروں پہ لکھے لوگوں کے صدمے پڑھا کرو قبروں پہ لکھے مردوں کے کتبے پڑھا کرو رکھتے ہیں کیا وہ بستوں میں بستے پڑھا کرو لکھتے ہیں کیا وہ پرچوں میں پرچے پڑھا کرو معلوم تو ہو مٹی کہ دلدل تھی پاؤں میں جو ہو سکے تو بوٹوں کے تسمے پڑھا کرو دکھ دینے کا جو سوچو کسی بھی عزیز کو تو پھر قریب سے ...

مزید پڑھیے

اپنے سر الزام سارے دھر چلے

اپنے سر الزام سارے دھر چلے ''ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے'' میرے جیون کا تماشہ دیکھ کر لوگ سارے اپنے اپنے گھر چلے سر کے بل چلتے ہیں جس رہ پر سبھی ہم ہتھیلی پر یہ سر رکھ کر چلے اب کہ شاید تم کو خوشیاں ہوں نصیب رنگ ہم تصویر میں سب بھر چلے اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے ایک مادہ لے کے ...

مزید پڑھیے

موت کو تھامیں گے صدمے میں نہیں آئیں گے

موت کو تھامیں گے صدمے میں نہیں آئیں گے زندگی ہم تیرے حصے میں نہیں آئیں گے ہم کو تفتیش کا حق ہے وہ کریں گے پوری اب کے ہم آپ کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ہم بکھرتے ہوئے موتی ہیں ہمیں مت چنئے ہم کبھی وقت کے دھاگے میں نہیں آئیں گے ہم کو کیا آپ کو دعویٰ ہے خدائی کا اگر ہم کبھی آپ کے کہنے ...

مزید پڑھیے

میں تم کو جو مل جاتی یوں رب نے کیا ہوتا

میں تم کو جو مل جاتی یوں رب نے کیا ہوتا تم مجھ کو جو مل جاتے کیا اس کا گیا ہوتا زخموں کو مرے دل کے کچھ ایسے سیا ہوتا ''وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا'' ٹھوکر تو میں کھاتی پر گرتی نہ کبھی لیکن پتھر سا کبھی تو جو رستے میں پڑا ہوتا ہم بھائی تو ہیں لیکن گھر دونوں کے چھوٹے ہیں اک گھر ...

مزید پڑھیے

دل بھر آئے اور ابر دیدہ میں پانی نہ ہو

دل بھر آئے اور ابر دیدہ میں پانی نہ ہو یہ زمیں صحرا دکھائی دے جو بارانی نہ ہو شوق اتنا سہل کیوں اس پار لے جائے مجھے پھر پلٹ آؤں اگر دریا میں طغیانی نہ ہو کان بجتے ہیں ہوا کی سیٹیوں پر رات بھر چونک اٹھتا ہوں کہ آہٹ جانی پہچانی نہ ہو ہو گئے بے خود تو ٹیسوں کا مزہ چھن جائے گا روکتا ...

مزید پڑھیے

رہ گیا کم ہی گو سفر باقی

رہ گیا کم ہی گو سفر باقی دل میں خواہش کا ہے گزر باقی کیا ندی پھر سے آزمائے گی کیا ابھی اور ہیں بھنور باقی کیا اکیلے ہی آگے جانا ہے کیا نہیں کوئی ہم سفر باقی کیا وہ مجھ سے کبھی نہ بچھڑے گا کیا نہیں دل میں کوئی ڈر باقی کیا نہیں جانتا مجھے کوئی کیا نہیں شہر میں وہ گھر باقی

مزید پڑھیے

دائم سراب اک مرے اندر ہے کیا کروں

دائم سراب اک مرے اندر ہے کیا کروں صحرا مری نظر میں سمندر ہے کیا کروں دیکھے جو میری نیکی کو شک کی نگاہ سے وہ آدمی بھی تو مرے اندر ہے کیا کروں یک گونہ بے خودی کو ہی اب ڈھونڈھتا ہے دل غم اور خوشی کا بوجھ برابر ہے کیا کروں اچھا تو ہے کہ سب سے ملوں ایک ہی طرح لیکن وہ اور لوگوں سے بہتر ...

مزید پڑھیے

عمر اک نا قابل تردید سچائی ہے

بہت پہلے میں اپنی ماں کی باتیں سن کے ان پہ خوب ہنستی تھی کہ امی آپ سارا دن کبھی ٹانگوں کبھی بازو کبھی سر یا کمر کے درد کے قصے سناتی ہیں الرجی کے کئی حملے دوائیوں کے کئی شکوے ہمیشہ ہی بتاتی ہیں ہمیشہ شہر کے سارے کلینک ڈاکٹر نرسیں کہاں پہ ہیں یا کیسے ہیں سبھی کچھ جانتی ہیں ان کی ...

مزید پڑھیے

کم علمی اک سزا ہے

کانوں میں نقرئی بالیاں پہنے کندھوں بازوؤں ہاتھوں اور گردن پہ عجیب و غریب ٹیٹوز کھدوائے برانڈڈ کپڑوں جوتوں سے سجا قیمتی پرفیومز سے مہکتا کھسیانی ہنسی ہنستا بے چینی سے سر کھجاتا گھبراہٹ میں ٹانگیں ہلاتا پاؤں پٹختا باڈی بلڈر جیسا لمبا تڑنگا میکسیکن نا جاننے کے خوف سے ادھ موا عین ...

مزید پڑھیے

ال زائمر

لفظ بھول جاتا ہوں بات کہہ نہیں پاتا موتیوں سے پانی پر عکس تو بناتا ہوں کچھ میں یاد رکھتا ہوں کچھ میں بھول جاتا ہوں روشنی کو تکتا ہوں تھوڑی دیر چلتا ہوں دل میں بات جو بھی ہے تم سے کہہ نہیں پاتا لفظ بھول جاتا ہوں پھر یہ سوچ آتی ہے دل کی بات کرنے کو لفظ کیوں ضروری ہیں جو بھی تم کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1241 سے 6203