چہروں پہ لکھے لوگوں کے صدمے پڑھا کرو
چہروں پہ لکھے لوگوں کے صدمے پڑھا کرو قبروں پہ لکھے مردوں کے کتبے پڑھا کرو رکھتے ہیں کیا وہ بستوں میں بستے پڑھا کرو لکھتے ہیں کیا وہ پرچوں میں پرچے پڑھا کرو معلوم تو ہو مٹی کہ دلدل تھی پاؤں میں جو ہو سکے تو بوٹوں کے تسمے پڑھا کرو دکھ دینے کا جو سوچو کسی بھی عزیز کو تو پھر قریب سے ...