اس کو مل کر دیکھ شاید وہ ترا آئینہ ہو
اس کو مل کر دیکھ شاید وہ ترا آئینہ ہو غائبانہ ہی تری اس کی شناسائی نہ ہو مجھ پہ ظاہر ہے ترے جی میں ہیں کیا کیا خواہشیں بات ایسی کر کہ جس میں تیری رسوائی نہ ہو احتیاطاً دیکھتا چل اپنے سائے کی طرف اس طرح شاید تجھے احساس تنہائی نہ ہو آسماں اک دشت کی صورت ستارے ریت ہیں تو لب دریا ...