قومی زبان

ایک ساکت منظر

اسٹیشن پر جب مجھے چھوڑ کے وہ چل دیا میں دیکھتی رہی اسے جاتے ہوئے اچانک اس نے دیکھا مڑ کر میں اب تک واپس نہیں گئی تھی دور سے اس نے ہلایا ہاتھ میں نے ایک ایسے انداز سے اسے دیکھا کہ وہ میری طرف دوڑ کر واپس آنے لگا مجھے لگتا ہے میں شہر کے اسی اسٹیشن پہ کھڑی ہوں اور وہ کئی صدیوں سے میری ...

مزید پڑھیے

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا اور کچھ راستا نیا سا تھا جھوٹ اور سچ کے درمیاں تھا جو آج وہ پل بھی ٹوٹتا سا تھا جس سے سارے چراغ جلتے تھے وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا راس آئے نہ اس کے رسم و رواج شہر ہم سے خفا خفا سا تھا بت سمجھتے تھے جس کو سارے لوگ وہ مرے واسطے خدا سا تھا

مزید پڑھیے

کسی قسمت میں ایک گھر نکلا

کسی قسمت میں ایک گھر نکلا کسی تقدیر میں سفر نکلا زخم سے کچھ غزل کے شعر اگے شاخ سے پھوٹ کر ثمر نکلا دوست بن کر وفا نہ کی جس نے ہوا دشمن تو معتبر نکلا نئے آنسو تھے آستیں کے لئے دامن دل کبھی کا تر نکلا جب یہ مانا کہ دل میں ڈر ہے بہت تب کہیں جا کے دل سے ڈر نکلا

مزید پڑھیے

بے وجہ ظلم سہنے کی عادت نہیں رہی

بے وجہ ظلم سہنے کی عادت نہیں رہی اب ہم کو دشمنوں کی ضرورت نہیں رہی وہ بھی ہمارے نام سے بیگانے ہو گئے ہم کو بھی سچ ہے ان سے محبت نہیں رہی رہبر تمام ملک کے نظروں سے گر گئے آنکھیں کھلیں تو دل میں عقیدت نہیں رہی ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہ ہو مگر پہلے سا جوش پہلے سی شدت نہیں رہی قربت ...

مزید پڑھیے

جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں

جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں دل نے کیا کیا عذاب دیکھے ہیں آج کا دن بھی وہ نہیں جس کے ہر گھڑی ہم نے خواب دیکھے ہیں دوسرے کی کتاب کو نہ پڑھیں ایسے اہل کتاب دیکھے ہیں کیا بتائیں تمہیں کہ دنیا میں لوگ کتنے خراب دیکھے ہیں جھانکتے رات کے گریباں سے ہم نے سو آفتاب دیکھے ہیں ہم سمندر ...

مزید پڑھیے

درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں

درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں دل میں ہر سو چراغ جلتے ہیں کوئی شے ایک سی نہیں رہتی عمر ڈھلتی ہے غم بدلتے ہیں جو نہیں مانگتا کسی سے کچھ شہر کے لوگ اس سے جلتے ہیں اس کی منزل جدا ہماری جدا آج گو ساتھ ساتھ چلتے ہیں لکھنؤ شاعری شراب جنوں رشتے سو طرح کے نکلتے ہیں

مزید پڑھیے

میں تجھ سے لاکھ بچھڑ کر یہاں وہاں جاتا

میں تجھ سے لاکھ بچھڑ کر یہاں وہاں جاتا مری جبین سے سجدوں کا کب نشاں جاتا زمین مجھ کو سمجھتی نہ آسماں کوئی گناہ گار ہی کہلاتا میں جہاں جاتا نصیب سے تو ملے تھے فقط یہ خالی ہاتھ فراخ دل وہ نہ ہوتا تو میں کہاں جاتا مجھے خبر نہ تھی اس گھر میں کتنے کمرے ہیں میں کیسے لے کے وہاں ساری ...

مزید پڑھیے

کھل کے باتیں کریں سنائیں سب

کھل کے باتیں کریں سنائیں سب کوئی تو ہو جسے بتائیں سب رات پھر کشمکش میں گزری ہے تھوڑا بتلا دیں یا چھپائیں سب کچھ تو اپنے لئے بھی رکھنا ہے زخم اوروں کو کیوں دکھائیں سب لے چلوں آؤ تم کو منزل تک مجھ سے کہتی ہیں یہ دشائیں سب کام لوگوں کے دل کو بھا جائے دل اگر کام میں لگائیں سب

مزید پڑھیے

کیا دکھاتا ہے یہ سفر دیکھو

کیا دکھاتا ہے یہ سفر دیکھو اب کہاں رکتی ہے نظر دیکھو وقت ہر آئینے کا دشمن ہے پھر بھی کچھ روز بن سنور دیکھو خود کو گر دیکھو غیر آنکھوں سے عمر نے کیا کیا اثر دیکھو رات کے بعد رات آئے گی دل سے جاتا ہے کب یہ ڈر دیکھو آئے بھی اور گئے بھی خالی ہاتھ چھوڑو دنیا کو اور گھر دیکھو

مزید پڑھیے

آئے ہیں گھر مرا سجانے درد

آئے ہیں گھر مرا سجانے درد کچھ نئے اور کچھ پرانے درد ذکر جاناں کے باغ سے گزرے زخم مہکے ہوئے سہانے درد خوف اتنا خوشی کا تھا ہم کو بن گئے زیست کے بہانے درد درد کچھ اور دے کے لوٹے ہیں آئے تھے ہم سے جو بٹانے درد کب کوئی چاندنی میں دے آواز کب اٹھے دل میں پھر نہ جانے درد

مزید پڑھیے
صفحہ 1242 سے 6203