قومی زبان

ایسے خود پر یہاں خدائی کی

ایسے خود پر یہاں خدائی کی دل کی دیکھی نہ ہی سنائی کی بے قراری سی دل کو ہونے لگی جانے کس نے کہاں رسائی کی وہ ہی صد رنگ ہے جزیرہ نما میرے خوابوں کی کیوں رہائی کی تہمتیں دوسروں پہ دھرتے ہیں بات کرتے ہیں پارسائی کی میری آنکھوں کے جل پڑے تھے دئے آنسوؤں نے یوں جگ ہنسائی کی آج دامن ...

مزید پڑھیے

کھینچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے

کھینچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے دائرے ہی دائرے ہیں دائروں پر دائرے پانیوں کی کوکھ سے بھی پھوٹتا ہے دائرہ دیر تک پھر گھومتے رہتے ہیں اکثر دائرے اس کتاب زیست کے بھی آخری صفحے تلک کھینچ ڈالے قوس نے بھی زندگی پر دائرے جانے کیا کیا گھومتا ہے گرد کی آغوش میں جھانکتے ہیں آسمانوں ...

مزید پڑھیے

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا جان من کیسے بتائیں تمہیں کیا کیا دیکھا زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرا دیکھا میں نے لمحوں میں گزاری ہیں ہزاروں صدیاں وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا صبح روشن نے اتاری ہیں ستاری آنکھیں شاخ شمشاد نے گلشن کا ...

مزید پڑھیے

خواب کا درخت

تجھے لوٹا رہا ہوں زندگی کا ذرہ ذرہ عمر کی شاخوں سے جھڑتے پھول سوکھے ہاتھ مرجھائی رگیں مدتوں سے میں نے تیرے آتے جاتے موسموں کے رنگ پہنے بادلوں کا رس پیا روشن ہوائیں جسم نہلاتی رہیں میرے خوابوں کی جڑوں کا تیرے ٹھنڈے زرد سینے سے کوئی رشتہ نہ تھا

مزید پڑھیے

امید

یہاں سے آگے اداس جنگل کا راستہ ہے یہاں سے تم لوٹ جاؤ پلٹ کے دیکھو وہ جاگتا شہر رنگ میں تیرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے نشے میں ڈوبی ہوئی صدائیں خوشی سے بھرپور قہقہے وہاں منڈیروں پہ چاند پونم کا اپنی ٹھوڑی ٹکائے شفقت سے ہنس رہا ہے تم اس اندھیرے اداس رستے پہ کیوں میرے ساتھ آ رہی ہو میں ...

مزید پڑھیے

شام

شام ہے لمبی گلیوں میں اونچے مکانوں کی دیوار پر پھیلتے سائے ہیں دور افق پر سیہ رنگ بادل کے پیچھے سلگتی ہوئی دھوپ ہے ایسے ہی تیرے جیون کا ڈھلتا ہوا روپ ہے اس ہوا میں ترے درد کا گیت ہے ان درختوں کے گرتے ہوئے آنسوؤں میں کسی اور کا غم نہیں ایک تیرے سوا کوئی ماتم نہیں ایک لمحے میں یہ ...

مزید پڑھیے

گیا سال

گیا سال جاتے ہوئے میری دہلیز پر راکھ کا ڈھیر جھلسے ہوئے جسم ٹوٹے ہوئے عضو ستمبر کی بربادیوں پہ لکھے مرثیوں اور اخبار کی سرخیوں میں تراشوں میں لپٹی ہوئی زرد معصوم لاشیں ٹھٹھرتے ہوئے سرد سورج کی پہلی کرن میں بندھی ورلڈ آرڈر کی مٹتی ہوئی دستاویزوں کے انبار کو چھوڑ کر جا چکا ہے

مزید پڑھیے

شہر اور زنجیر

درد کی رات پھر آ گئی میرے پاؤں کی زنجیر پھر جانے مجھ کو کہاں لے چلے گی کبھی شہر کی نیم روشن سی ویران گلیاں خمیدہ سی دیوار کے سائے سائے میں پاؤں میں کنکر چبھوتا چلوں گا کبھی چوڑی چکی سی بل کھاتی سڑکوں کی ہنستی ہوئی رونقوں میں سلگتی ہوئی خوشبوؤں کی جنوں خیز لہروں کے ریلے میں بے بس ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی

من کی چھوٹی سی دنیا میں آشاؤں کا ایک میلا سا ہے اس کی نس نس میں اک آگ سی کروٹیں لے رہی ہے خیالوں میں سپنے سنہرے بسے ہیں ذرا کوئی اس سے پر اتنا تو کہہ دے کہ اے شوخ لڑکی تیرے بالوں میں گجرے کی خوشبو بڑی مست میٹھی سی ہے تیرے ہونٹوں پہ امرت کی دھاریں ہیں تو اپنی آنکھوں میں کاجل سجائے ...

مزید پڑھیے

خواہش کا شور

میں اس نگر کی تلاش میں ہوں جہاں پہ ہر شام چاند کی گود سے فضاؤں میں پھول اتریں ڈگر ڈگر کی اداس خوشبو دلوں کو میٹھا سا درد بخشے نشے میں کھوئی سی مست سانسوں میں خواہشوں کا اداس دھیما سا شور آنکھوں میں آرزو کی کتھا کہانی لرزتے آنسو خموش معصوم دھڑکنوں کی زبان کھولیں بہار سے آنچلوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1229 سے 6203