قومی زبان

پچھلے پہر کی رات

پچھلے پہر کی رات عجب حادثہ ہوا سونے سے پہلے چاند ہی بانہوں کو کھول کر جھک کر زمیں پہ آ گیا قدموں کو چھو لیا انگلی پکڑ کے ساتھ میں اپنے وہ لے گیا پہلے تو دیر تک مجھے وہ دیکھتا رہا پہلو میں رکھ کے سر مرے پھر سسکیاں بھریں پھر یوں ہوا کہ ٹوٹ کے رونے لگا تھا وہ شاید کسی کے ہجر کا مارا ہوا ...

مزید پڑھیے

بند حویلی

ایک حویلی بند پڑی تھی جانے کب سے بند پڑی تھی جانے کب تک بند رہے گی اس کے سارے دروازوں پر بٹوارے کے قفل پڑے تھے سناٹے کا شور اٹھائے ویرانی سی گونج رہی تھی بیچ حویلی کے آنگن کے بوڑھے برگد کی شاخوں پر خالی جھولا جھول رہا تھا دور افق پہ خوشبو بیٹھی ٹوٹے برتن جوڑ رہی تھی گھر کی ساری ...

مزید پڑھیے

وہم ہے یا اک گماں ہے زندگی

وہم ہے یا اک گماں ہے زندگی کن کا بس اک اک بیاں ہے زندگی زندگی کی شام سے پہلے تلک موج ہے بہتی رواں ہے زندگی سوز ہے جس میں نہ کوئی ساز ہے رائیگاں ہی رائیگاں ہے زندگی ڈوبتے سورج سے جا کے پوچھ لو آسماں پہ اک دھواں ہے زندگی کائناتی زندگی تفسیر ہے زندگی کی ترجماں ہے زندگی سانس لیتے ...

مزید پڑھیے

میں نے کہا کے چاند کی روشن مثال دو (ردیف .. ھ)

میں نے کہا کے چاند کی روشن مثال دو اس نے کہا کے آنکھ سے چلمن ہٹا کے دیکھ میں نے کہا کے رات کے آنچل میں کون تھا اس نے کہا کے زلف پہ شبنم گرا کے دیکھ میں نے کہا کے ہجر کی شاخوں پہ پھول کیوں اس نے کہا کے دید کی خوشبو ملا کے دیکھ میں نے کہا کے ریت کے پہلو میں کیا چھپا کہنے لگے کے دھوپ ...

مزید پڑھیے

محبت کے سبھی جذبے تمہارے نام کرتی ہوں

محبت کے سبھی جذبے تمہارے نام کرتی ہوں وفا کے دل نشیں قصے تمہارے نام کرتی ہوں بنایا ہے جنہیں میں نے محبت کے گلابوں سے تر و تازہ وہ گلدستے تمہارے نام کرتی ہوں نہیں کچھ اور پانے کی تمنا اب مرے دل میں جو دیکھے آج تک سپنے تمہارے نام کرتی ہوں تمہیں جی میں بسایا ہے تمہیں اپنا بنایا ...

مزید پڑھیے

بڑے ہی تیز چبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

بڑے ہی تیز چبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں مجھے اکثر یہ اپنوں کے رویے مار دیتے ہیں جسے اپنا سمجھتے ہیں وہی تکلیف دیتا ہے یہ در در جا پہ ہیں کھلتے دریچے مار دیتے ہیں جسے ہم طول دیتے ہیں تکلف بر طرف ہو کر تعلق سے بندھے اکثر وہ رشتے مار دیتے ہیں بہت تکلیف دیتے ہیں وہ قصے نا شناسی ...

مزید پڑھیے

اے ارض وطن ہم تجھے تعمیر کریں گے

اے ارض وطن ہم تجھے تعمیر کریں گے ہم تیرا مقدر تری تقدیر لکھیں گے ڈالی ہے کمند ہم نے ستاروں پہ ہمیشہ ہم راہ ثریا کی بھی زنجیر کریں گے خورشید وطن کو انہی ہاتھوں سے اجالا ہم چاند ستاروں کو بھی تسخیر کریں گے اقبال کے شاہین ہیں شہباز اسی کے دیکھے ہوئے ہر خواب کی تعبیر بنیں ...

مزید پڑھیے

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا جان من کیسے بتائیں تمہیں کیا کیا دیکھا زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرا دیکھا میں نے لمحوں میں گزاری ہیں ہزاروں صدیاں وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا صبح روشن نے اتاری ہیں ستاری آنکھیں شاخ شمشاد نے گلشن کا ...

مزید پڑھیے

آوارہ

کوئی یاد ایسی نہیں جو مجھے راہ چلتے ہوئے روک لے میرا دامن پکڑے مرے پاؤں میں ایک زنجیر سی ڈال دے کوئی بھی ایسا بیتا ہوا پل نہیں مست جھونکے کے مانند جو گنگناتا ہوا دور سے آئے ویران آنکھوں سے لپٹے کسی بھولی بسری ہوئی بات کا گیت گائے مرے سامنے ایک پھیلا ہوا جال ہے راستوں کا قطاریں ...

مزید پڑھیے

پا بہ گل

اک بھکاری کی مانند اک پیڑ ویران سے راستے پر کھڑا ہے کوئی بھولا بھٹکا مسافر جو گزرے کبھی ایک پل کو رکے نرم چھانو میں دم لے ذرا اور چلتا بنے رہ گزر پر وہ بے آسرا پیڑ چپ چاپ تکتا رہے اپنے دامن کو پھیلائے ہر جانے والے مسافر کو شاخیں پکاریں مگر کون آئے

مزید پڑھیے
صفحہ 1228 سے 6203