قومی زبان

خوشبو کا بدن

فرش بکھرا ہوا اس کا لباس رات کی ہر ایک کروٹ اس کی بانہوں چھاتیوں اس کی کمر کی سلوٹوں میں اب بھی جیتی جاگتی ہے سرسراتی سانس لیتی ہے یہاں ایک پاگل سرخ خوشبو کا لباس میری تنہائی کو پھر سے ڈھانپتا ہے

مزید پڑھیے

سوالوں کی زنجیر

بول اے میری کتاب تیرا چہرہ چومتا ہوں تیرے ماتھے کے سکوں میں ڈھونڈھتا ہوں آج پھر قسمت کا نقش کھولتا ہوں کانپتے ہاتھوں سے صحراؤں کا دروازہ پرانا جن کی اجلی ریت میں اگتے ہوئے موتی ہزاروں چاند تارے آفتاب مدتوں سے ایک لمحے کے سکوں میں کھو گئے ٹھہرے ہوئے ہیں ایک انگلی کے اشارے کے ...

مزید پڑھیے

بیمار لڑکی

شام کی گنگناتی ہواؤ مجھے ساتھ اپنے اڑاتے ہوئے لے چلو وہ جہاں اونچے اونچے درختوں کی غم ناک سی چھانو ہے چاند تاروں کے رستوں سے آگے مرا گاؤں ہے میرا گھر سونا گھر اپنے بازو بڑھائے مرا راستہ تک رہا ہے کوئی اجنبی سی صدا میرے کانوں میں آتی ہے مجھ کو بلاتی ہے جانے کہاں اونچے اونچے درختوں ...

مزید پڑھیے

سانس کی لکیریں

یہ ہوا کا کھیل ہے میں بھی نہیں تو بھی نہیں ہے شام کے رستے پہ اڑتی دھول کے خاکے ہیں ہم سانس الجھی سی لکیریں رنگ آوازوں کے دیواروں پہ مٹی کے پرانے نقش ہیں سرد سہ پہروں میں جلدی جلدی چلتی دھوپ کی طرح رواں ہیں ہونٹ اور یہ ہاتھ سارے بے نشاں ہیں شام کی دہلیز سے آگے پرانا سا کوئی گھر ...

مزید پڑھیے

ہو گیا سنسان سارا شہر ہر گھر سو گیا

ہو گیا سنسان سارا شہر ہر گھر سو گیا میری آنکھیں جاگتی ہیں سارا منظر سو گیا پھر وہ شہر اجنبی تنہائیوں کی سرد رات اوڑھ کر یادوں کی وہ میلی سی چادر سو گیا رات دن کے درمیاں گزری ہے ایسے زندگی ایک منظر جاگتا تھا ایک منظر سو گیا کشتیاں ساحل پہ لہروں کو ترستی رہ گئیں اور زمیں کی گود ...

مزید پڑھیے

مصور

لکیریں زندگی کی الجھنیں بھی ہیں لکیریں مست دھارے کا سکوں بھی ہیں لکیریں بھاگتے اور شور کرتے دن کا ہنگامہ لکیریں ریتیلے ساحل کی بھیگی رات کی ناگن کا سایہ بھی کبھی رنگوں کی آوازوں میں ہے اونچی منڈیروں کے عقب سے جھانکنے والے سنہرے چاند کا نغمہ نئی رت کونپلوں اور پتیوں پھولوں کی ...

مزید پڑھیے

اس کے بعد

پرانے گھر میں کوئی رہے کیا ہر ایک شے سے تمہاری بانہیں لپٹ رہی ہیں فضا میں اب تک تمہارے ملبوس اور بدن کی نشیلی خوشبو رچی ہوئی ہے ہر ایک گوشے میں ہلکی ہلکی تمہاری آواز تیرتی ہے خموش ویران آئینے میں تمہاری آنکھیں ہر آنے والے کو روکتی ہیں اداس گھر میں جو کوئی آئے تمہارے سانسوں کا شور ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا لباس

ہر طرف بکھرا ہوا اس کا بدن رات کی ہر ایک کروٹ اس کی بانہوں، چھاتیوں اس کی کمر کی سلوٹوں میں اب بھی جیتی جاگتی ہے سرسراتی، سانس لیتی ہے یہاں اور ایک پاگل سرخ خوشبو کا لباس میری تنہائی کو پھر سے ڈھانپتا ہے

مزید پڑھیے

چیخ

کبھی وہ صدا گنگناتی سبک رو ہواؤں کی آہٹ تھی دھیرے سے گرتی ہوئی نیند سے چور پلکوں کی لرزش تھی گنگ اور نیلی فضاؤں میں اڑتے ہوئے ایک پنچھی کی مستی بھری پھڑ پھڑاہٹ کا نغمہ کلی کے چٹکنے کی آواز تھی اب وہی اک صدا گونجتے گونجتے باؤلی رات کی چیخ میں ہے ہواؤں کی روتی ہوئی بانسری بادلوں کی ...

مزید پڑھیے

خوف

اس گھر کی سب سے اوپر کی منزل میں رہنے والی لڑکی مجھ کو سارا دن اپنی حیران آنکھوں سے تکتی رہتی ہے رات کو اس گھر کا دروازہ کھلتا ہے لمبے لمبے ناخنوں والی ایک چڑیل نکلتی ہے جو چیخ چیخ کر ہنستی ہے اور میری جانب بڑھتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1230 سے 6203