قومی زبان

سفر آغاز کرتے ہیں

سفر آغاز کرتے ہیں کسی انجان منزل کا سفر کے راستے میں دور تک صحرا ہی صحرا ہے جہاں سورج نئے دن کی مسافت سے ذرا پہلے وہ اپنی روشنی کا ملگجا سا رنگ پہنے آسماں کے نیلگوں پردوں سے لڑتا ہے تو صحرا کا حسیں منظر کسی پارس کے ٹکڑوں سے فضا رنگین کرتا ہے یکایک وہ حسیں منظر اسی پارس کے ٹکڑوں ...

مزید پڑھیے

راہ ملتی ہے گھر نہیں ملتا

راہ ملتی ہے گھر نہیں ملتا گھر ملے بھی تو در نہیں ملتا جس کو دیکھا تھا میں نے بچپن میں اب مجھے وہ نگر نہیں ملتا دیکھتا ہوں جو خود کو پانی میں جسم ملتا ہے سر نہیں ملتا مجھ کو ان زندگی کی راہوں میں کوئی بھی ہم سفر نہیں ملتا جانے کیا ہو گیا ہے موسم کو سبز کوئی شجر نہیں ملتا تجھ کو ...

مزید پڑھیے

اداس چہرے والی خوبصورت لڑکی کے لئے ایک نظم

ریستوران کی رنگا رنگ روشنیوں میں ڈوبا ثمر کے خوبصورت گیت کی مدھم لے میں میرے سامنے بیٹھی اداس چہرے والی اے خوبصورت لڑکی اب پیچھے مڑ کے مت دیکھو دیکھو تو ہمارے سامنے راستہ کتنا خوبصورت ہے ہمارے سروں پر سکھ اور شانتی کا کتنا گہرا بادل ہے اے اداس چہرے والی خوبصورت لڑکی لاؤ اپنا ...

مزید پڑھیے

جب شام شہر میں آتی ہے

جب شام شہر میں آتی ہے میں اس کو گھر لے آتا ہوں اور بیتے دنوں کی یادوں سے اپنے من کو بہلاتا ہوں ان یادوں میں کوئی اپنا سا چہرہ یہ مجھ سے کہتا ہے کیا بات ہے ہر پل دل تیرا کیوں کھویا کھویا رہتا ہے پھر پتھر کی دیواروں پر کچھ سائے سے لہراتے ہیں اور عجب طرح سے ہنس ہنس کر جانے کیوں مجھے ...

مزید پڑھیے

تجھ سے وابستہ زندگی مجھ میں

تجھ سے وابستہ زندگی مجھ میں ایک ہاری ہوئی خودی مجھ میں تیری آواز سن کے جاگ اٹھی ایک روٹھی ہوئی خوشی مجھ میں شوخ چنچل ہے شب کی تنہائی تو نے بھر دی ہے روشنی مجھ میں روح تجھ سے کلام کرتی ہے سانس لیتی ہے دل کشی مجھ میں فاصلے سارے مٹتے جاتے ہیں رقص کرتی ہے بے خودی مجھ میں رات کیا ...

مزید پڑھیے

ستارۂ لرزاں

ابھی تو یوں مری پلکوں پہ جھلملاتا ہے بکھر نہ جائے کہیں ٹوٹ کر یہ دامن میں یہی خیال مجھے بار بار آتا ہے بڑا سکوں بڑی عافیت ہے پلکوں کو حیات ان میں سمٹ آئی ہے زمانے کی خدا رکھے مرے ان در آب داروں کو مژہ پہ ہے مری شبنم بھی اور شرارہ بھی غموں کی بزم کا ہے اک حسین گلدستہ افق کے پار ...

مزید پڑھیے

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا جان من کیسے بتائیں تمہیں کیا کیا دیکھا زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرہ دیکھا میں نے لمحوں میں گزاری ہیں ہزاروں صدیاں وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا صبح روشن نے اتاری ہیں ستارہ آنکھیں شاخ شمشاد نے گلشن کا ...

مزید پڑھیے

اک شمع انجمن میں جلاتی رہی ہوں میں

اک شمع انجمن میں جلاتی رہی ہوں میں جل جل کے دیپ خود ہی بناتی رہی ہوں میں کیا پوچھتے ہو اب مری سانسوں کا رابطہ رو رو کے حال سب کو بتاتی رہی ہوں میں ہر بار زندگی نے دیا اک نیا فریب پھر زندگی سے آس لگاتی رہی ہوں میں شاخوں سے پوچھتی رہی ہے سر پھری ہوا کس کے لیے زمین سجاتی رہی ہوں ...

مزید پڑھیے

مرے ہم قدم مرے ہم نشیں مرے ساتھ چل

مرے ہم قدم مرے ہم نشیں مرے ساتھ چل مرے ہم سفر مرا کر یقیں مرے ساتھ چل شب ہجر میں جو تھی تلخیاں سبھی بھول جا مجھے دل میں رکھ مرا گھر یہیں مرے ساتھ چل میں ترے وجود کی شاخ ہوں مجھے کاٹ مت مجھے پاس رکھ میں گماں نہیں مرے ساتھ چل یہ جو لا مکان کے سلسلے تری ذات کے تری ذات میں ہوں نہاں ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ کو مانگتا ہے زیبائی چاہتا ہے

وہ مجھ کو مانگتا ہے زیبائی چاہتا ہے میرے خلاف مجھ سے پسپائی چاہتا ہے ہوگی قبول لیکن یہ شرط لازمی ہے مقبولیت کی خاطر گہرائی چاہتا ہے صحرا کی چھانتا ہے وہ خاک خاک ذرہ اک اجنبی سا غم ہے رسوائی چاہتا ہے مکر و فریب لے کر ہر شخص دیکھتا ہے دل سب سے بھر گیا ہے تنہائی چاہتا ہے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1227 سے 6203