قومی زبان

ترے غم میں جو سلگی جا رہی ہے

ترے غم میں جو سلگی جا رہی ہے مجھے سگریٹ وہ پیتی جا رہی ہے منایا جا رہا ہے غم تمہارا پرانی فلم دیکھی جا رہی ہے جو ڈیپی لگ گئی نمبر پہ تیرے وہ صبح و شام دیکھی جا رہی ہے جہاں باتوں میں کٹنی چاہیے تھی وہاں پر بات کاٹی جا رہی ہے نگاہوں سے وہ اوجھل ہو رہا ہے کوئی گاڑی ہے چھوٹی جا رہی ...

مزید پڑھیے

ہم تو پانی ہیں کسی شکل بھی ڈھل سکتے ہیں

ہم تو پانی ہیں کسی شکل بھی ڈھل سکتے ہیں اک ذرا آنچ دکھا دو تو ابل سکتے ہیں روز اول سے ہے مٹی کا سہارا مٹی آپ بیساکھیوں سے کتنا سنبھل سکتے ہیں آپ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے تعلق کا ریموٹ آپ چاہیں تو یہ چینل بھی بدل سکتے ہیں

مزید پڑھیے

اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے

اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے کام کرتا ہے مسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے میں ترے ہجر میں اس درجہ مگن ہوتا ہوں میرا دن بھی مری راتوں کی ...

مزید پڑھیے

سبھی کچھ دیکھ کر اندھے بنیں گے

سبھی کچھ دیکھ کر اندھے بنیں گے ہمارے حق میں سب گونگے بنیں گے ہمارے بعد یہ ہم کو یقیں ہے ہمارے نام سے کوچے بنیں گے جئے ہم روشنی بن کر ہمیشہ مرے تو مر کے بھی تارے بنیں تو اس کے غم سے ہم کو دور مت کر اسی کے غم میں ہم تیرے بنیں گے چلو دونوں بچھڑ جائیں یہیں پر بچھڑ کر کچھ نئے رشتے ...

مزید پڑھیے

لغت کے بے معنی الفاظ

محبت مروت خلوص اور الفت سخاوت کرم بخشش و مہربانی وفا پیار رحم اور ایثار و شفقت فرائض تعاون اور ایماں کے جذبے جو زینت لغت کے ابھی تک بنے ہیں وجود ان کا لیکن عمل میں کہاں ہے سحر کے بھی پر کیف لمحوں میں ڈھونڈھا چمکتی ہوئی دوپہر میں بھی پرکھا وہ سردی کی ٹھٹھری ہوئی رات میں بھی گرجتی ...

مزید پڑھیے

شب پرگی

زمین گول اگر ہے تو گول کیوں ہے یہ میں سوچتی ہوں اسے مستطیل ہونا تھا زمین چاند سے کیوں اس قدر ہے دوری پر اسے قریب بہت ہی قریب ہونا تھا یہ چاند رات کو کیوں نرم روشنی کی کرن بکھیرتا ہے زمیں کے سیاہ چہرے پر اسے تو گرم شعاعیں ہی لے کے آنا تھا سلاخ گرم کی مانند شعلہ رو سورج زمیں پہ آگ ...

مزید پڑھیے

رشتہ اپنے ماضی کا

سیکڑوں سال کا روز اور شب سے ہیں اپنے ماضی کے رشتے جڑے ساحل سندھ پر ایک دخانی کشتی رواں جس میں بیٹھے ہوئے کچھ حسیں نوجواں اک حسیں سا کنارا جو آیا نظر رک گئے لوگ سب اور حیرت سے ہر چیز دیکھا کئے سر اٹھائے کھجوروں کے کچھ پیڑ تھے سرسراتی ہوا پل رہی تھی جو بوئے محبت کی آغوش میں پتھروں ...

مزید پڑھیے

یہ پانی دیکھ کر حیرت زدہ ہے

یہ پانی دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ دل مچھلی کا اس سے بھر گیا ہے ہماری آنکھ میں آنسو نہیں ہیں بہانے کو فقط اب خوں بچا ہے ہمارے کھیل کی گڑیا تمہی ہو تمہارے کھیل کا گڈا نیا ہے جسے مجھ سے نہیں ہے کوئی مطلب میں سب سے بولتا ہوں وہ مرا ہے اگر کانوں کی بیساکھی ہٹا دو تو گونگا بھی برابر ...

مزید پڑھیے

غموں کی لسٹ میں جو انتہا میں رکھا گیا

غموں کی لسٹ میں جو انتہا میں رکھا گیا ہمارے واسطے وہ ابتدا میں رکھا گیا عجیب ڈھنگ سے مجھ کو ملی ہے آزادی پرندہ پنجرے میں پنجرہ ہوا میں رکھا گیا وہ غم گزارا گیا ہے کہ دل ہی جانتا ہے یہ وہ نگر ہے جسے کربلا میں رکھا گیا ہمارے کھیل سے یہ کھیل ہی پلٹ جاتا اسی لیے تو ہمیں ایکسٹرا میں ...

مزید پڑھیے

عشق مذہب کو مانتا ہی نہیں

عشق مذہب کو مانتا ہی نہیں عشق کا کوئی دیوتا ہی نہیں شرط دنیا سے لگ گئی ورنہ میں ترا نام پوچھتا ہی نہیں اس کو کچھ یاد آ گیا ہوگا ورنہ وہ فون کاٹتا ہی نہیں مطمئن ہوں میں سوچ کر تجھ کو تجھ سے آگے میں سوچتا ہی نہیں رات دن کو بنا لیا میں نے میں کبھی رات کاٹتا ہی نہیں یہ نیا جسم تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1226 سے 6203