دن بھر سورج آگ اگلتا رہتا ہے
دن بھر سورج آگ اگلتا رہتا ہے چاند بھی اپنے کام میں الجھا رہتا ہے جانے مجھ میں کون تڑپتا رہتا ہے میں جیتا ہوں پر وہ مارتا رہتا ہے دروازے پہ کنڈی لٹکی رہتی ہے کھڑکی سے وہ آتا جاتا رہتا ہے خاموشی کی بھاشا خوب سمجھتا ہے میں تو چپ ہوں پر وہ سنتا رہتا ہے میرے سارے بادل سوکھے سوکھے ...