قومی زبان

اظہار محبت اک پہاڑی راستہ ہے

اسے بس ایک ہی ضد ہے میں اس کی ذات سے منسوب اپنے خیالوں کا کوئی پیکر تراشوں اور اس کے سامنے رکھ دوں اسے بتلاؤں میں اس سے مجھے کتنی محبت ہے اسے کیسے بتاؤں میں زمیں سے آسماں تک اس محیط بیکراں کو اپنی مٹھی میں جکڑنا میرے بس میں ہی نہیں ہے مرے سر پر چمکتے مہرباں سورج کی کرنوں کا کوئی ...

مزید پڑھیے

رستے روٹھ جاتے ہیں

اگر پامال راہوں پر قدم رکھنے کی عادت ختم ہو جائے مشام جاں میں خوشبو کی بجائے درد در آئے وصال آمادہ شہ راہوں پہ فرقت کا بسیرا ہو اک ایسا وقت آ جائے جو تیرا ہو نہ میرا ہو محبت کی سنہری جھیل پر غم کی گھنیری رات چھائی ہو کناروں پر فقط نم دیدہ تنہائی کی کائی ہو چمکتے پانیوں پر ...

مزید پڑھیے

مجھے معجز بیاں کر دو

مری اطراف میں بکھرے ہوئے روشن جبیں لفظو مجھے ڈھونڈو عجب آشوب ہے میرے قلم میں روشنائی سوکھتی جاتی ہے اور سوچیں نئی اشکال میں ڈھلنے سے قاصر ہیں جو سوچوں لکھ نہیں پاتا جو لکھوں وہ کلیشے ہے مروج استعاروں اور تشبیہوں کی اترن سے مری نظموں کے پیراہن نہیں بنتے تعفن سے بھرے پیرایۂ اظہار ...

مزید پڑھیے

محمد کا آخری خطبہ

مرے عزیزو زمان حاضر کے منتخب بے مثال لوگو مری طریقت پہ چلنے والو مری معیت میں جس گزر گاہ پر چلے ہو بہت کٹھن تھی قدم قدم پر نئے حوادث تمہارے سچ کا خراج لینے تمہاری رہ میں کھڑے ہوئے تھے زوال آمادہ لوگ تم سے عروج کی اس گھڑی میں آ آ کے پوچھتے تھے کہ جلتے سورج تلے عقیدے کی چھاؤں کب تک ...

مزید پڑھیے

توجیہہ

بھلا قطع تعلق کی کوئی توجیہہ کیسے ہو تعلق ٹوٹنے کی نہج پر آ کر ہمیشہ ٹوٹ جاتا ہے لب بام تمنا ہاتھ اکثر چھوٹ جاتا ہے کبھی کچھ موڑ سیدھے راستوں کو موڑ دیتے ہیں کبھی لمبی مسافت کی تھکن شوق سفر کو ماند کرتی ہے کبھی یکسانیت کا خوف جذبوں کی لگامیں کھینچ لیتا ہے کبھی اک راہرو جلدی میں ...

مزید پڑھیے

مناجات

خداوندا! تری اقلیم میں رہتے ہوئے اک عمر گزری ہے مگر اب تک طریق بندگی مجھ کو نہیں آیا مرے جذبوں نے اب تک جذب کے معنی نہیں سیکھے ابھی تک خواہشوں کے پاس دل کو رہن رکھا ہے ابھی تک نیم شب کی ساعتوں کی برکتیں مجھ پر نہیں اتریں مری آنکھوں میں تیری روشنی کے خد و خال اب تک نہیں ابھرے مری ...

مزید پڑھیے

اے رخ یار ادھر دیکھ ذرا

ہم کہ واماندگی شوق کا لمحہ لے کر آ گئے ہیں ترے پیکر کے اجالوں کے قریب کتنی صدیوں کی مسافت لے کر ایک درماندہ تہی دست مسافر کی طرح آ کے ٹھہرے ہیں ترے پیار کے برگد نیچے ہم کہ مسحور طلسمات کدے ہیں تیرے تیری آنکھوں تیرے ہونٹوں تیری زلفوں کے اسیر تیری تمنا کے فقیر منتظر ہیں کہ ترے جسم ...

مزید پڑھیے

ارون دھتی رائے کے لئے

تم نے سوچا مدھم لفظوں کی دستک سے در کھلتے ہیں روشن اور آباد زبانوں کی جانب تم نے سوچا تہذیبوں کے جرم بتانے سے انسان برا ہوتا ہے تم نے سمجھا سچ کہہ دینا کافی ہے ہر جھوٹ کے آگے لیکن سچ کہہ دینے سے بھی کیا بدلے گا وقت زمانہ تہذیبیں لے آئیں گی اک جھوٹ نیا اور سچ کو پرانا فیشن جان کے لوگ ...

مزید پڑھیے

چے گویرا

اپنے قد سے بڑے بھی تو ہو سکتے ہیں لوگ وہ جن کا ہے کردار بلند ان کے افکار سے بھی لوگ جو اپنی سچائی میں سچ سے زیادہ ممکن ہیں لوگ جو اپنے ہونے سے بھی بڑھ کر اپنے وجود کی نیک گواہی دینے والے ہیں

مزید پڑھیے

قیدی

ہم سب اپنے اپنے عقیدوں کے قیدی ہیں جو کچھ ہم نے سمجھا اس کو بوجھ لیا ہے جو کچھ ہم نے دیکھا اس کو جان لیا ہے جو کچھ ہم نے چاہا اس کو مان لیا ہے ہم کب سوچ بھی سکتے ہیں دیوار سے آگے چھید کیے سینوں میں ہم نے اپنے عقیدوں کے خنجر سے ہم نے دلوں میں زہر بھرا ہے ہم نے فصیلوں کی دھاروں سے خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1221 سے 6203