قومی زبان

آنکھ ہے اک کٹورا پانی کا

آنکھ ہے اک کٹورا پانی کا اور یہ حاصل ہے زندگانی کا رائیگاں کر گیا مجھے آخر خوف ایسا تھا رائیگانی کا چل نکلتا ہے سلسلہ اکثر خوش گمانی سے بد گمانی کا درد بوتا ہوں زخم کھلتے ہیں ہے بہت شوق باغ بانی کا کیا ٹھکانہ غم و خوشی کا ہو دل علاقہ ہے لا مکانی کا جا کے دریا میں پھینک آیا ...

مزید پڑھیے

کئی سلسلوں سے جڑا ہوا یہ جو زندگی کا سفر رہا

کئی سلسلوں سے جڑا ہوا یہ جو زندگی کا سفر رہا نئی منزلوں کی تلاش میں یہ رہین راہ گزر رہا وہ جو لوگ میرے خلوص کا بڑا برملا سا جواز تھے جو نگاہ ناز کا زعم تھے میں انہی کا صرف نظر رہا میں دیار یار میں اجنبی جہاں عمر ساری گزر گئی جسے میں نے اپنا سمجھ لیا وہ نگر جہان دگر رہا کبھی ساز ...

مزید پڑھیے

سر طوفان غم اکثر سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں

سر طوفان غم اکثر سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں اداسی کے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ لیتے ہیں کبھی تو سامنے کی بات بھی ہم پر نہیں کھلتی کبھی تہداریوں میں گم اشارہ ڈھونڈ لیتے ہیں طبیعت رنگ میں آئے تو ہم چشم تصور سے کسی بے جان منظر میں نظارہ ڈھونڈھ لیتے ہیں بدل ڈالے ہیں کتنے گھر خوشی کے واسطے ...

مزید پڑھیے

جہان فکر میں مثل ہوا چلتا رہا ہوں میں

جہان فکر میں مثل ہوا چلتا رہا ہوں میں لئے گرد خرد چاروں دشا چلتا رہا ہوں میں سراغ آگہی کو میں کوئی منزل سمجھ بیٹھا سراب عقل کی جانب سدا چلتا رہا ہوں میں نورد کائنات نو ہوں لیکن اجنبی سا ہوں مشینی دور سے ہٹ کر ذرا چلتا رہا ہوں میں مجھے تعبیر کی خواہش تھی یا شاید نہیں بھی تھی علم ...

مزید پڑھیے

ہزار رنگ یہ وحشت قدم قدم پہ کھلی

ہزار رنگ یہ وحشت قدم قدم پہ کھلی کہ زندگی کی حقیقت قدم قدم پہ کھلی مرے وجود کا عقدہ کبھی بھی کھل نہ سکا مرے خیال کی وسعت قدم قدم پہ کھلی صراط جاں پہ ہمیشہ سفر طلب ہی رہے مسافتوں سے عقیدت قدم قدم پہ کھلی وفا کی راہ میں چپ چاپ چلتے رہنے سے گریز کوش محبت قدم قدم پہ کھلی دیار عشق ...

مزید پڑھیے

وقت اک محبوب ہے

عجب محبوبیت سی وقت کی فطرت میں ہوتی ہے کبھی دل کو لبھاتا ہے تو پھر اس کی عنایت کا تسلسل کم نہیں ہوتا مسلسل ابر رحمت کی طرح دل کی دراڑوں میں بھی رستا ہے محبت کی پیاسی سرزمیں سیراب کرتا ہے کبھی دن کی صباحت زیب تن کر کے اجالے بانٹتا ہے اور کبھی کالی ردائیں اوڑھ کر شب کے سکوت جاں فزا ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ تشنگی کو زیب تن رکھا

تمہیں ہم نے بتایا تھا تمنا کے سبک قدموں سے رستے طے نہیں ہوتے مگر تم کو ہماری بات پر ایمان ہی کب تھا ہمیں تھے جو تمہاری ان کہی باتوں کا بھی ادراک رکھتے تھے یہ ہم تھے جو تمہارے لفظ کی حرمت کو دل کی رحل میں رکھ کر دعائے نیم شب کے ساتھ پڑھتے تھے مگر شاید ہماری سب مناجاتیں تمہارے دل کی ...

مزید پڑھیے

مرے عزیزو

حیات سکھ ہے کہ موت کچھ فاصلے پہ رستے کو کاٹنے کے لیے کھڑی ہے یہ موت سکھ ہے کہ اختصار حیات ہی وجہ دل کشی ہے جہان زیر و زبر کے جھگڑوں سے ماورا ہو کے دیکھ لینا تمام سکھ ہے یہ خواہشوں کا حصیر کچھ دیر کو لپیٹو فریب سود و زیاں سے کچھ دیر خود کو تفریق کر کے سوچو جہاں کی ساری اکائیوں کو شمار ...

مزید پڑھیے

مجھے آواز مت دینا

نہایت صاف گوئی سے مجھے اس نے بتایا ہے مجھے آواز مت دینا کبھی پر نور صبحوں میں کبھی رنگین شاموں میں کبھی خوابیدہ خوابوں میں مجھے آواز مت دینا کہ صوت و حرف کے جتنے تعلق تم سے قائم تھے وہ سب نا معتبر ٹھہرے محبت کی جنوں خیزی تو بس اک عارضی شے تھی قبائے شوق کے سب رنگ کچے تھے سو میں نے اب ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے بعد کا عرصہ

پھر اس کے بعد کا عرصہ سنا اب تک یہی ہے جب زمیں چکی کے پاٹوں کی طرح گھومے مدار ذات کی اطراف میں جب رقص کرتی گھوم کر اپنی جگہ پہنچے تو دن تکمیل پاتا ہے مگر میں ایسی کیفیت میں زندہ ہوں جہاں تکمیلیت کی ساری تعریفیں زمانی گردشوں کے سب تصور خام رہتے ہیں جہاں شب کی سیاہی اور دن کی رو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1220 سے 6203