قومی زبان

میری نظمیں

ہم جو نا معلوم ازل اور لامتناہی ابد کے بیچ میں ہوتے ہیں ہم جو گزرنے والے ہیں ہم کو باقی رہ جانے کی فکر بھی کیوں لاحق رہتی ہے لوگ بھلا دیں گے اس ڈر سے میری بھی کچھ نظمیں ہیں قرطاس پہ جو تحریر ہوئیں لیکن یہ بھی جانتی ہوں میں میری قبر کے کتبے پر بھی شاید میرا نام نہ ہوگا

مزید پڑھیے

پر اسرار

جانے کتنے دکھ ہیں ان چہروں کے پیچھے جن کو سکھ بانٹتے میں نے دیکھا ہے جانے کتنی خوشیوں کے ہیں رنگ ان بولتی آنکھوں میں جو ہر لمحہ خاموش رہیں جانے کیسی گدلاہٹ ہے ان روحوں میں جن کی اجلی گہرائی میں ایک زمانہ ڈوب گیا

مزید پڑھیے

حصار تیرگی

خواہشوں کے لمس میں ڈوبی ہوئی دائروں میں گھومتی تنہائیاں احتباس و جبر کی تاریک شب مضطرب رنجور گندم گوں سحر ایسا لگتا ہے اندھیرا کہہ رہا ہو زیر لب اے کبود و کور چشم اے لعین تجھ کو بخشی تھی کرن از راہ دل سوزی مگر تو سمجھتا ہے کہ یہ جود و سخا لطف و عطف تیرا استحقاق ہے اور تو خدائے ...

مزید پڑھیے

ہمارا آشیاں جب سے بنا ہے

ہمارا آشیاں جب سے بنا ہے نظر میں بجلیوں کی کھل رہا ہے رویہ آپ کا بدلا ہے جب سے ہماری جان اس دن سے خفا ہے وفا کرنے سے پہلے سوچ لینا زمانہ آج کل کا بے وفا ہے دوانہ آپ کا کوئی کہے تو بتاؤ اس میں میری کیا خطا ہے مرا سلمانؔ چھوٹا گھر ہے لیکن مرا رتبہ زمانہ کو پتہ ہے

مزید پڑھیے

کسی کا گھر کسی کا دل جلا ہے

کسی کا گھر کسی کا دل جلا ہے محبت میں تو یہ ہوتا رہا ہے اندھیروں نے بھی ایسا کھیل کھیلا اجالا بھی اندھیرا ہو گیا ہے وہ اپنا مانتے ہیں پھر یہ کیا ہے ہمارے بیچ یہ کیسی خلا ہے ذرا اس کی سیاست بھی تو دیکھو وفا کے نام پر کرتا جفا ہے ہرا کیسے سکے گا اس کو کوئی وہ جس کی سائباں ماں کی دوا ...

مزید پڑھیے

یہ ملا ہے صلہ ندامت میں

یہ ملا ہے صلہ ندامت میں آ گیا میں بھی ابر رحمت میں بن پروں کے ہوا میں اڑتا ہے ایسا کیا ہے نشہ سیاست میں ہم ترے غم کو اپنا کہتے ہیں جان دے دیں گے اس محبت میں فیصلے سارے ان کے حق میں ہیں پھر بھی میرا یقیں عدالت میں اس کو سلمانؔ کیسے سمجھائے جس نے پا لی خودی وراثت میں

مزید پڑھیے

مجھ ناتواں پہ حشر میں وہم فغاں غلط

مجھ ناتواں پہ حشر میں وہم فغاں غلط میں گفتگو کی تاب رکھوں یہ گماں غلط تم بھی وہی کہو تو کہیں سب بجا درست میں بھی وہی کہوں تو کہے اک جہاں غلط گرمی سے اس کے حسن کی کس کا جگر جلا تشبیہ مہر و روئے نکوئے بتاں غلط کہئے اسیر خواہش سنبل کوئی ہوا دینی مثال کاکل عنبر فشاں غلط سچ ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کچھ تغیر مرے احوال پریشاں میں نہیں

کچھ تغیر مرے احوال پریشاں میں نہیں ایسے عالم میں ہوں جو عالم امکاں میں نہیں صبح محشر بھی دکھائی نہیں دیتی یا رب روز بد بھی تو نصیب شب ہجراں میں نہیں وحشت عشق کو ثابت قدمی بھی ہے ضرور قیس کا نقش قدم تک تو بیاباں میں نہیں ہو گیا ذوق فزائے خلش یاد مژہ کون کہتا ہے کہ لذت ترے پیکاں ...

مزید پڑھیے

بھٹکا مسافر

میں جب چھوٹا تھا اپنی ماں سے اکثر ضد یہ کرتا تھا سناؤ دوپہر میں تم مجھے کوئی کہانی کوئی ایسی کہانی جس میں شہزادی ہو تم جیسی کوئی ایسی کہانی سیمیا گر جس میں شہزادہ ہو مجھ جیسا وہ کہتی بے خبر معلوم بھی ہے سناتا ہے اگر دوپہر میں کوئی کہانی تو بے چارے مسافر گھر کا رستہ بھول جاتے ...

مزید پڑھیے

لب تنور

میں اکثر رات کی تنہائی سے یہ پوچھتا ہوں کہ میرا آج میرے کل سے کیوں کر مختلف ہے وہی میں ہوں وہی دیوانگی ہے وہی وحشت وہی فکر معیشت یہ بے چینی یہ ویرانی مجھے کیوں کھائے جاتی ہے مگر جذبوں سے عاری درد سے غافل یہ تنہائی سدا خاموش رہتی ہے مجھے لگتا ہے تنہائی فقط بہری نہیں گونگی بھی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1222 سے 6203