قومی زبان

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے بس ایک بار یاد نے تمہارا ساتھ چھو لیا پھر اس کے بعد تو کئی جمال ...

مزید پڑھیے

بے تحاشہ اسے سوچا جائے

بے تحاشہ اسے سوچا جائے زخم کو اور کریدا جائے جانے والے کو چلے جانا ہے پھر بھی رسماً ہی پکارا جائے ہم نے مانا کہ کبھی پی ہی نہیں پھر بھی خواہش کہ سنبھالا جائے آج تنہا نہیں جاگا جاتا رات کو ساتھ جگایا جائے حرف لکھنا ہی نہیں کافی ہے آؤ اب حرف مٹایا جائے

مزید پڑھیے

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں وہ رستہ بنتے جاتے ہیں کچھ اتنے در بناتی ہوں جو سارا دن مرے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہیں میں ان لمحوں کو سی کر رات کا بستر بناتی ہوں ہمارے دور میں رقاصہ کے پاؤں نہیں ہوتے ادھورے جسم لکھتی ہوں خمیدہ سر بناتی ہوں سمندر اور ساحل پیاس کی ...

مزید پڑھیے

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہوگی خرد کا کوہ وبال لے کر کہاں چلے ہو کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہوگے کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو نہا رہے ہو عذاب ہجراں کی بارشوں میں ذرا سی گرد وصال لے کر کہاں چلے ...

مزید پڑھیے

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے ہم کسی نئے دن کا انتظار کرتے ہیں دن پرانے سورج کا شام باسی باسی ...

مزید پڑھیے

کھونٹیوں پر خامشی لٹکائی ہے

کھونٹیوں پر خامشی لٹکائی ہے الگنی پر سوکھتی تنہائی ہے چاند کی اجلی ڈلی برگد تلے ہجر کی ست آسماں لے آئی ہے درد کی اک چپچپاتی گوند میں ڈیوڑھیوں تک چپ کی چھٹی آئی ہے اونچے لمبے ان ستونوں کے تلے ڈولتی ٹھنڈی ہوا سودائی ہے نیند کے خوابی پپوٹوں کے تلے پھانس سی چبھتی ہوئی پروائی ...

مزید پڑھیے

تنہائی نے پھر بزم سجا لی ہے تو کیا ہے

تنہائی نے پھر بزم سجا لی ہے تو کیا ہے چپ نے جو کہیں آگ جلالی ہے تو کیا ہے لو خاک نشینان بیابان چلے پھر منزل نے مری پیاس بجھا لی ہے تو کیا ہے شاید رگ جاں توڑ کے نکلی ہے تمنا خوابوں نے کوئی بزم سجا لی ہے تو کیا ہے پھر عکس بجھا جاتا ہے سورج کی ضیا سے آئینے سے وہ دھول اٹھا لی ہے تو کیا ...

مزید پڑھیے

ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو

ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو آگہی ڈھائے گئی ہے مجھ کو زندگی میرے سنورنے کے لیے درد پہنائے گئی ہے مجھ کو بے خودی آپ تلک لائی تھی سو وہی لائے گئی ہے مجھ کو آپ نے راکھ کیا اڑنے کو خاک دفنائے گئی ہے مجھ کو میرے ادراک کی مجبوری سے بات بہلائے گئی ہے مجھ کو چاند اس طور سے اترا شب ...

مزید پڑھیے

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے بڑی ادا سے وقت نے تباہ کر دیا مجھے منافقت کے شہر میں سزائیں حرف کو ملیں قلم کی روشنائی نے سیاہ کر دیا مجھے مرے لیے ہر اک نظر ملامتوں میں ڈھل گئی نہ کچھ کیا تو حیرت نگاہ کر دیا مجھے خوشی جو غم سے مل گئی تو پھول آگ ہو گئے جنون بندگی نے خود نگاہ کر ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی بس کرو ہجر مر رہا ہے کوئی کوئی اب کس طرح بتائے اسے تجھ سے امید کر رہا ہے کوئی اپنے زخموں کی بد مزاجی میں پٹریوں سا اکھڑ رہا ہے کوئی گرد ہوتی ہوئی صداؤں سے خامشی سے نتھر رہا ہے کوئی اپنی سانسوں کے خالی برتن میں مستقل پیاس بھر رہا ہے کوئی دیکھ چہرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1159 سے 6203