پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں
پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں تو ہی بتا اے گردش ایام کیا کریں اک پل کو لب پہ آئی ہنسی پھر پلٹ گئی یاد آ گیا ہو جیسے کوئی کام کیا کریں ہر آرزو کے ہونٹ زمانے نے سی دئے بجھنے لگا چراغ سر شام کیا کریں ڈر ہے کہ تیرے ہاتھ سے ساغر نہ چھین لیں ہم تشنہ لب اے ساقیٔ گلفام کیا کریں آؤ ...