شاعری

سرابوں کا سفر

دشت امکان میں جاری ہے سرابوں کا سفر ایک صحرائے جنوں حد نظر ہے حائل شاخ زیتون پہ آواز کا پنچھی گھائل دور پازیب کی چھم چھم ہے چمکتی شے ہے رہگزر کوئی نہیں دھند کے منظر کے سوا اک تری یادوں کے سوا ہر طرف ریت کے اٹھے ہیں بگولے حاتم نقش پا کوئی نہیں خون کے قطروں کے سو اک صدی بیت گئی ایک ...

مزید پڑھیے

اظہار تشکر

ہنر مند ہاتھوں کی مٹی سے میں نے بنایا جو بہتے ہوئے پانیوں پہ مکاں تو سچ یہ زمانے کو کڑوا لگا میں کہ مزدور تھا ایک مجبور تھا کوئی نایاب گوہر نہ تھا میں کہ آذر نہ تھا یہ تو اچھا ہوا اے خدا تو نے رکھیں سلامت مری انگلیاں

مزید پڑھیے

نیا لہجہ غزل کا مصرع ثانی میں رکھا ہے

نیا لہجہ غزل کا مصرع ثانی میں رکھا ہے ہوا کو مٹھیوں میں آگ کو پانی میں رکھا ہے نہ جانے کیا سمجھ کر چکھ لیا تھا دانۂ گندم ابھی اک بھول نے اب تک پشیمانی میں رکھا ہے وطن سے دور ہوں میں رزق کی خاطر مرے مولا مگر بستی کو تیری ہی نگہبانی میں رکھا ہے سفر میں بھی ڈرامائی عناصر کام آئے ...

مزید پڑھیے

عجب سا وہ ارادہ کر رہا ہے

عجب سا وہ ارادہ کر رہا ہے لکھے اوراق سادہ کر رہا ہے غزل میں گھولتا ہے رس لبوں کے ابھی تیکھی زیادہ کر رہا ہے تھی اس کے ہاتھ میں صندل سی لکڑی نہ جانے کیوں برادہ کر رہا ہے چھپانے سے نہیں چھپتا ہے لہجہ اگرچہ وہ ارادہ کر رہا ہے نہیں مابعد کا چکر نہیں ہے فقط اذہان تازہ کر رہا ہے

مزید پڑھیے

مکان جاں پہ بھلا کب مکیں کا حصہ ہے

مکان جاں پہ بھلا کب مکیں کا حصہ ہے یہ آسماں بھی سراسر زمیں کا حصہ ہے بدن کی ساری رگیں جل گئیں مگر اب تک جو جل نہ پایا کسی دل نشیں کا حصہ ہے ٹھہر بھی جاؤ کہ ہے بات کچھ مہینوں کی گماں کی ناف میں زندہ یقیں کا حصہ ہے چھپا ہوا نہیں رہتا ہے کچھ فقیروں کا چمک رہا ہے جو قشقہ جبیں کا حصہ ...

مزید پڑھیے

کھوٹا سکہ اک دن چل بھی سکتا ہے

کھوٹا سکہ اک دن چل بھی سکتا ہے راوی کا انداز بدل بھی سکتا ہے دو پل کا ہے ساتھ مگر تنہائی میں اندیشہ رسوائی کا پل بھی سکتا ہے ماچس کی اک تیلی جیسی آنکھوں سے حد نظر کا منظر جل بھی سکتا ہے دنیا اس کی مجبوری میں شامل ہے زیر زمیں وہ رہ کر پھل بھی سکتا ہے نیکی کا دریا سے گہرا رشتہ ...

مزید پڑھیے

ایک انچ مسکراہٹ

کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ جیوں بہت دنوں تک یہاں تک کہ جینے کا سلیقہ کھو بیٹھوں یہاں تک کہ دوڑتی بھاگتی زندگی کے ٹمپو پر اٹھنے والے میٹر کی پرواہ کرنا فضول سا لگنے لگے جس طرح فضول سا لگنے لگتا ہے بیساکھی کا سہارا لے کر جینا پھر بھی جئے جاتا ہوں کہ کبھی کبھی جینا پڑتا ہے یہاں محض ایک ...

مزید پڑھیے

مہاجر پرندے کا سفر

جہاں پہ ختم ہو ایسا سفر نہیں آیا وہ تیرگی ہے کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا وہ روشنی ہے کہ چشم غزال حیراں ہے نہیں ہے تاب کہ دیکھے ذرا بھی سوئے فلک کہاں سے آئی ہے روئے زمیں پہ ایسی چمک یہ راکٹوں کے دھماکے یہ عصری میزائل گماں ہے سمت سمندر بدل کے رکھ دیں گے ہرے بھرے سبھی منظر بدل کے رکھ دیں ...

مزید پڑھیے

سب سے پہلے تو عرض مطلع ہے

سب سے پہلے تو عرض مطلع ہے یوں سمجھئے کہ اس کا جلوہ ہے آئینہ جھوٹ بولنے کے لیے سو بہانے تلاش کرتا ہے زندہ رکھے گی شاعری مجھ کو کون کہتا ہے اس میں گھاٹا ہے دل شاعر بھی ہے پھسڈی ہی حسن کے پیچھے پیچھے رہتا ہے سچ زمینی کہ آسمانی ہو وہ بدن زندہ استعارہ ہے کوئی اچھا سا شعر ہو ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ گملے میں اگ رہا ہوں میں

یہ اور بات کہ گملے میں اگ رہا ہوں میں زبان بھول نہ پائے وہ ذائقہ ہوں میں اندھیری شب میں حرارت بدن کی روشن رکھ وہی کروں گا اشارہ جو کر رہا ہوں میں سخن سفر میں بدن اس نے کھول رکھے ہیں ذرا سا سایۂ دیوار چاہتا ہوں میں میں چاہتا ہوں کہوں ایک نک چڑھی سی غزل اگرچہ حلقۂ یاراں میں نک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 838 سے 5858