بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے
بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے دکھائی دیتا ہے پتھر کے آر پار مجھے مرا خدا ہے تو مجھ میں اتار دے مجھ کو کہ ایک عمر سے اپنا ہے انتظار مجھے میں لفظ لفظ بکھرتا رہا فضاؤں میں مری صدا سے وہ کرتا رہا شکار مجھے جو ڈھال دیتے ہیں پرچھائیوں کو پتھر میں اب ایسے سخت دلوں میں نہ کر شمار ...