شاعری

بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے

بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے دکھائی دیتا ہے پتھر کے آر پار مجھے مرا خدا ہے تو مجھ میں اتار دے مجھ کو کہ ایک عمر سے اپنا ہے انتظار مجھے میں لفظ لفظ بکھرتا رہا فضاؤں میں مری صدا سے وہ کرتا رہا شکار مجھے جو ڈھال دیتے ہیں پرچھائیوں کو پتھر میں اب ایسے سخت دلوں میں نہ کر شمار ...

مزید پڑھیے

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ ڈوبتی آنکھوں سے اپنے شہر کا منظر نہ دیکھ کیا پتہ زنجیر میں ڈھل جائے بستر کی شکن یہ سفر کا وقت ہے اب جانب بستر نہ دیکھ خاک و خوں میراث تیری خاک و خوں تیرا نصیب اس زیاں خانے میں اپنے پاؤں کا چکر نہ دیکھ تو نے جو پرچھائیاں چھوڑیں وہ صحرا بن ...

مزید پڑھیے

شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا

شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا مجھ کو اپنی روح کی ویرانیوں سے ڈر لگا ایک لمحے کی شرارت تھی کہ ہر لمحہ مجھے آپ اپنی سمت سے آتا ہوا پتھر لگا دھند سی پھیلی ہوئی تھی آسماں پر دور تک موجۂ ریگ رواں مجھ کو ترا پیکر لگا خانۂ دل کو سجانا بھی ہے اک شوق فضول کون جھانکے گا یہاں یہ آئینے ...

مزید پڑھیے

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو انجان رہ گزر ہے ذرا دیکھ کر چلو گزرا ادھر سے جو بھی وہ پتھر میں ڈھل گیا جادو کا یہ نگر ہے ذرا دیکھ کر چلو پتھر پگھل رہے ہیں تمازت سے دھوپ کی یہ دشت بے شجر ہے ذرا دیکھ کر چلو کرنے لگے ہیں رقص بگولے ہواؤں میں طوفان تیز تر ہے ذرا دیکھ کر چلو دامن ...

مزید پڑھیے

مہتابوں کا تو شہزادہ میرے ساتھ اندھیرے ہیں

مہتابوں کا تو شہزادہ میرے ساتھ اندھیرے ہیں شہر و شبستاں تیرے ہیں صحرا و بیاباں میرے ہیں میرے اجڑے دل میں ادھورے ارمانوں کے ڈیرے ہیں جاگتی آنکھوں میں جیسے ٹوٹے سپنوں کے گھیرے ہیں بے مفہومی دھندلے پیکر بکھرے بکھرے خواب و خیال اپنی باہوں کے حلقے میں جیسے مجھ کو گھیرے ہیں دھوپ ...

مزید پڑھیے

سچ بولنے کے جرم میں نیزے پہ سر رہا

سچ بولنے کے جرم میں نیزے پہ سر رہا قاتل بہ عز و جاہ بھی نا معتبر رہا کیا بارش بلا تھی کہ سب کچھ بہا گئی اچھا ہوا ملنگ بے دیوار و در رہا یا رب خطا معاف کہاں ڈھونڈھتا تجھے میں اپنی ہی تلاش میں شام و سحر رہا آزاد ہو چکا تھا قفس سے تو کیا ہوا اڑتا کہاں پرند جو بے بال و پر رہا چاروں ...

مزید پڑھیے

سلسلے پیار کے کچھ اور گھٹیں گے شاید

سلسلے پیار کے کچھ اور گھٹیں گے شاید فاصلے دل کے ابھی اور بڑھیں گے شاید اپنی ہی لاش اٹھائے ہوئے کوچہ کوچہ اپنے کاندھے پہ لئے لوگ پھریں گے شاید بارش سنگ ہمارے ہی سروں پر ہوگی اور پھر سر بھی ہمارے ہی کٹیں گے شاید اس زمیں پر ہے یہ صدیوں کی نشانی لیکن اس کے آثار مگر اب کے مٹیں گے ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے موسم گزرے یاد نہیں

کیسے کیسے موسم گزرے یاد نہیں سر پر کتنے پتھر برسے یاد نہیں زخم پہ اس نے مرہم رکھا یاد رہا دل میں کتنے نشتر ٹوٹے یاد نہیں میں بھی تھک کر ہانپ رہا ہوں رستے میں کتنے سنگی ساتھی بچھڑے یاد نہیں بیوی بچوں کا اب رونا دھونا کیا ہم کو تو خود اپنے نوحے یاد نہیں تم دنیا داری میں رہتے ہو ...

مزید پڑھیے

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو انجان رہ گزر ہے ذرا دیکھ کر چلو گزرا ادھر سے جو بھی وہ پتھر میں ڈھل گیا جادو کا یہ نگر ہے ذرا دیکھ کر چلو پتھر پگھل رہے ہیں تمازت سے دھوپ کی یہ دشت بے شجر ہے ذرا دیکھ کر چلو کرنے لگے ہیں رقص بگولے ہواؤں میں طوفان تیز تر ہے ذرا دیکھ کر چلو دامن ...

مزید پڑھیے

شمسؔ کہاں وہ الہامی تھی

شمسؔ کہاں وہ الہامی تھی سیدھی سی اک بات کہی تھی ساتھ ترے جو شب بیتی تھی مجھ پر کیسی مدہوشی تھی بارش سے میں بھیگ چکا تھا پھر بھی کیسی تشنہ لبی تھی میں لاشوں کے بیچ کھڑا تھا گھر کی ہر دیوار گری تھی ایک برہنہ پیڑ کھڑا تھا ٹوٹی اس کی ہر ڈالی تھی آگ بجھانے لوگ آئے تھے بستی جل کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 823 سے 5858