شاعری

دامن شب میں ستارے چمکے

دامن شب میں ستارے چمکے ناامیدی میں سہارے چمکے جو کبھی باعث رسوائی تھے اب وہی داغ ہمارے چمکے ایک خورشید ڈھلا سینے میں سر مژگاں کئی تارے چمکے بحر کس شان سے پایاب ہوا ہم جو ڈوبے تو کنارے چمکے مہر ابھرا تو سبھی روشن تھے کون سے آپ ہی نیارے چمکے عاشقی در بدری نغمہ گری ہم سے یہ ...

مزید پڑھیے

بدل بدل کے وہی صورتیں دکھائے کہیں

بدل بدل کے وہی صورتیں دکھائے کہیں یہ عہد نو بھی پرانے ہی دکھ نہ لائے کہیں پھر اس کے حسن کی رنگت نہ ہو بہاروں میں پھر اس کی زلف کی خوشبو ہوا نہ لائے کہیں نگاہ رک گئی کس پر کہ پھر ہٹی ہی نہیں قدم اکھڑ گئے ایسے کہ جم نہ پائے کہیں بہت ہے رند خرابات آج کل ہشیار کہ مے پئے یہ کہیں اور ...

مزید پڑھیے

کر کے شکایت غم حالات مت گنوا

کر کے شکایت غم حالات مت گنوا برسوں کے بعد کی یہ ملاقات مت گنوا عرفان کائنات بھی اظہار ذات ہے اے بے شعور اپنے مفادات مت گنوا موقع ملا تجھے تو لگا تو بھی قہقہے ہاتھ آئے ہیں جو سکھ کے یہ لمحات مت گنوا دفتر کے بعد بھی وہی دفتر کا تذکرہ دن تو گنوا دیا ہے مگر رات مت گنوا موسم کا خاک ...

مزید پڑھیے

دیدہ و دل میں اتر جاتا ہے

دیدہ و دل میں اتر جاتا ہے ہر عذاب آ کے ٹھہر جاتا ہے کوئی جی اٹھتا ہے مجھ میں ہر روز روز مجھ میں کوئی مر جاتا ہے یہ ملاقات ہے چوراہے کی دیکھیے کون کدھر جاتا ہے فکر گھر کی ہو تو وحشت چھوٹے کار وحشت ہو تو گھر جاتا ہے رات کس طرح مری جاں گزرے دن تو دفتر میں گزر جاتا ہے یہ جو طوفان ہے ...

مزید پڑھیے

دو ٹوک

شادی کے چند روز تو چھیڑی نہ کوئی بات حائل ہمارے بیچ رہے کچھ تکلفات پھر ایک دن جو ان سے مری گفتگو ہوئی دو ٹوک بات چیت ہوئی دو بدو ہوئی پوچھا کہ ناشتے کا کوئی انتظام ہے بولیں مجھے پتا ہو تو مجھ پر حرام ہے میں نے کہا کہ چائے کی پیالی عطا کریں کہنے لگیں کہ بات نہ ایسی کیا کریں میں نے ...

مزید پڑھیے

یہ شاخ سبز جو پیلی ہوئی ہے

یہ شاخ سبز جو پیلی ہوئی ہے ہر اک موسم میں تبدیلی ہوئی ہے ہوئی ہے شخصیت بے آب اپنی فقط پوشاک بھڑکیلی ہوئی ہے کیا جب بھی نظر انداز غم کو گرفت غم بہت ڈھیلی ہوئی ہے لگی ہے آگ جب بھی جھونپڑی میں تو دشمن ایک اک تیلی ہوئی ہے ہر اک آزاد ہے پابند سا کچھ گھٹاؤں میں ہوا سیلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اپنے دفتر سے نکلتے ہیں تو گھر جاتے ہیں

اپنے دفتر سے نکلتے ہیں تو گھر جاتے ہیں لوگ جینے کی تگ و دو میں بھی مر جاتے ہیں رات بھر ہوتے ہیں کس طرح نہ جانے یکجا صبح دم شہر کی سڑکوں پہ بکھر جاتے ہیں شاخ گل کتنی ہی فصلوں کے اٹھاتی ہے عذاب رنگ و بو پھول میں یوں ہی نہیں بھر جاتے ہیں حادثے رہتے ہیں یوں عمر رواں کے ہم راہ جیسے ...

مزید پڑھیے

بے مقصد خاکے مبہم تصویریں ہیں

بے مقصد خاکے مبہم تصویریں ہیں کاغذ پر کچھ نا معلوم لکیریں ہیں اک دریا میں اٹھتی ہیں لاکھوں موجیں اک انساں ہے اور کتنی تصویریں ہیں اچھا چہرہ اکثر دھوکا دیتا ہے عمدہ کاغذ پر گھٹیا تحریریں ہیں ان کی نظمیں خوب مرے اشعار فضول خواب ہیں یکساں الگ الگ تعبیریں ہیں عہد حاضر کا وحشی ...

مزید پڑھیے

ہر تماشا چند لمحوں میں پرانا ہو گیا

ہر تماشا چند لمحوں میں پرانا ہو گیا رفتہ رفتہ بند پھر اک اک دریچہ ہو گیا جانے کس جانب سے سورج کی کرن مجھ پر پڑی میرا سایا میرے قامت سے بھی اونچا ہو گیا آگہی اور عاشقی دیوانگی اور مے کشی تجربہ بائیس برسوں میں بہت سا ہو گیا یہ سزائے شوق ہے یا قیمت خود آگہی دل ہوا پر نور تو بے نور ...

مزید پڑھیے

ایسا محسوس کر رہا ہوں میں

ایسا محسوس کر رہا ہوں میں جیسے اس شہر میں نیا ہوں میں اپنی خوشبو سے خوف آتا ہے کن ہواؤں میں گھر گیا ہوں میں تیری کچھ اور بات ہے ورنہ ساتھ اپنے بھی کم رہا ہوں میں خال و خد پہ نہ اپنے غور کرو مجھ سے روٹھو کہ آئنہ ہوں میں اف یہ کیف فسانہ ہائے جنوں لکھ رہا ہوں مٹا رہا ہوں میں کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 811 سے 5858