شاعری

تری نگاہ سے جب بھی مری نگاہ ملی

تری نگاہ سے جب بھی مری نگاہ ملی مجھے تو گردش ایام سے پناہ ملی ہمیں تو تیرے تبسم پہ جان دینی ہے کلی کلی کو جو دیکھا تیری گواہ ملی رہ وفا میں ترے غم کی بخششیں کیا خوب دلوں کو سوز ملا ہے لبوں کو آہ ملی مجھے تو صرف یہ کہنا ہے اپنے دل کے لئے بھٹکنے والی وفا کو قیام گاہ ملی نہ جانے ...

مزید پڑھیے

دیدۂ شوق لیے جذبۂ بے تاب لئے

دیدۂ شوق لیے جذبۂ بے تاب لئے آج تو حسن بھی ہے عشق کے آداب لئے چشم مخمور لئے کاکل شب تاب لئے رشک ایماں بھی ہیں وہ کفر کے اسباب لئے ان کے ابرو پہ ہیں بل اور تبسم لب پر میرے افسانۂ ہستی کا نیا باب لئے اب تو یہ حال ہے دیکھے ہوئے مدت گزری کوئی گزرا ہی نہیں خندۂ شاداب لئے خواب کیا ...

مزید پڑھیے

تحریر بدلتی ہے تقدیر بدلتی ہے

تحریر بدلتی ہے تقدیر بدلتی ہے ماحول بدلنے سے تدبیر بدلتی ہے جب رنگ بدلتا ہے اس چشم فسوں گر کا ہر جرعۂ صہبا کی تاثیر بدلتی ہے یہ کیا تری نسبت سے ہر شے میں تلون ہے ہر لمحہ ترے غم کی تصویر بدلتی ہے ہوتا ہے اک عرصہ تک جب خون تمنا کا تب خواب محبت کی تعبیر بدلتی ہے وہ کچھ بھی کہیں ...

مزید پڑھیے

چشم الفت عجیب ہوتی ہے

چشم الفت عجیب ہوتی ہے مجھ سے ہر شے قریب ہوتی ہے بات جب بڑھ گئی محبت میں اپنی ہستی رقیب ہوتی ہے جس کو چاہے نہ کوئی دنیا میں اس کی دنیا عجیب ہوتی ہے ایسا ہوتا ہے یاد کچھ بھی نہیں یوں بھی یاد حبیب ہوتی ہے سامنے وہ ہوں اور بات نہ ہو وہ گھڑی بد نصیب ہوتی ہے ان کی باتوں سے زخم کھا کے ...

مزید پڑھیے

لکھا ہے گو تیری قسمت میں شوکتؔ چشم تر رکھنا

لکھا ہے گو تیری قسمت میں شوکتؔ چشم تر رکھنا مگر ظالم کسی کی آبرو پر بھی نظر رکھنا نہ بھولے گا نہ بھولے گا قیامت تک نہ بھولے گا کسی کا وہ محبت سے مرے سینہ پہ سر رکھنا نہ اٹھے گا دل نازک سے صدمہ رنج فرقت کا الٰہی میرے درد دل سے ان کو بے خبر رکھنا وہ کیا جانے بھلا ہوتی ہیں کیسی عیش ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے دیوار و در اجڑی ہوئی تھی میری چھت

ٹوٹے ہوئے دیوار و در اجڑی ہوئی تھی میری چھت اس نے کہا کیا حال ہے میں نے کہا سب خیریت بارات اک آتی ہوئی میت کوئی جاتی ہوئی یہ زندگی ہے تہ بہ تہ کھلتی نہیں اس کی پرت چہروں کی رنگت زرد سی محفل ہوئی کیوں سرد سی باقی اگرچہ ہم میں ہے اب بھی وہی تاب و سکت انساں پریشاں دہر میں وحشی درندے ...

مزید پڑھیے

ہر منظر ہستی پر کہتی ہے خرد کیا ہے

ہر منظر ہستی پر کہتی ہے خرد کیا ہے دیکھا ہے جو سچ ہے بھی یا خواب تمنا ہے آباد ترا کوچہ عشاق سے ہے تیرے اللہ رکھے تجھ کو تو ہے تو تماشہ ہے کیا حال کیا تو نے اپنا غم جاناں میں وحشت سی برستی ہے کس سوچ میں ڈوبا ہے آزاد پرندوں کی مانند جنوں میرا یا دشت میں آوارہ یا وسعت صحرا ہے یہ عقل ...

مزید پڑھیے

یہ کس گماں پہ توقع ہے اے بھلے صاحب

یہ کس گماں پہ توقع ہے اے بھلے صاحب دعائیں دے بھی وہی جس کا گھر جلے صاحب بس اس لیے کہ ہواؤں سے کھیلنا سیکھے ہم آندھیوں میں جلا کر دیا چلے صاحب ہمارا قتل کسی شب کی داستاں تو نہیں یہ سانحہ بھی ہوا اور دن ڈھلے صاحب کبوتروں پہ جھپٹنے کی خو کہاں ان میں کہ یہ عقاب تو زاغوں میں ہیں پلے ...

مزید پڑھیے

مٹھی میں چھپاتے ہیں گہر بولتے کم ہیں

مٹھی میں چھپاتے ہیں گہر بولتے کم ہیں جو لوگ کہ رکھتے ہیں ہنر بولتے کم ہیں اب شوخئ گفتار عزیزوں میں نہیں ہے ملتے ہیں سر راہ مگر بولتے کم ہیں اشکوں ہی سے کچھ حال عیاں ہو تو عیاں ہو عشاق تو اے دیدۂ تر بولتے کم ہیں لگتا ہے کہ غافل ہیں زمانے سے یہ درویش رکھتے ہیں دو عالم کی خبر بولتے ...

مزید پڑھیے

جب میں رویا ہوں وہ روئے ہیں یہ الفت میرے ساتھ

جب میں رویا ہوں وہ روئے ہیں یہ الفت میرے ساتھ مدتوں برسا کیا ہے ابر رحمت میرے ساتھ جان جائے یار ہے دل کو رہے گا پاس عشق قبر میں جائیں گے تیرے راز الفت میرے ساتھ دیتی ہے ترغیب نالے کی کہ ہر آزردہ‌ دوست دشمنی کرتی ہے اب میری محبت میرے ساتھ میں تو ہوں دل دادۂ الفت کہو میں کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 789 سے 5858