شاعری

چمن چمن ہی نہیں ہے جو لالہ زار نہیں

چمن چمن ہی نہیں ہے جو لالہ زار نہیں ہم اس کو دل نہیں کہتے جو داغدار نہیں میں چل رہا ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ مگر فضا زمانے کی پھر بھی تو سازگار نہیں رقیب جھوٹ کہے گا تو سچ سمجھ لو گے کہیں گے سچ بھی اگر ہم تو اعتبار نہیں میں ان کے حسن کو الزام دینے والا کون جب اپنے دل پہ مجھے خود ہی ...

مزید پڑھیے

غم دوست کو آسائش دنیا سے غرض کیا

غم دوست کو آسائش دنیا سے غرض کیا بیمار محبت کو مسیحا سے غرض کیا سر تا بہ قدم بندۂ تسلیم و رضا ہوں مجھ عاشق صادق کو تمنا سے غرض کیا کوچہ ہے ترا اور ہے دن رات کا چکر وحشی کو ترے گلشن و صحرا سے غرض کیا وعدہ نہ کرو جلوۂ دیدار دکھاؤ امروز کے مشتاق کو فردا سے غرض کیا تم باغ میں جاتے ہو ...

مزید پڑھیے

عشق کو کامیاب ہونا تھا

عشق کو کامیاب ہونا تھا آپ کو بے نقاب ہونا تھا کیا شکایت ترے تغافل کی ختم میرا شباب ہونا تھا آپ نے ہوش کھو دئے میرے آج ہی بے نقاب ہونا تھا کیوں نہ دل چھین کر وہ لے جاتے زندگی کو خراب ہونا تھا ان حسینوں کے ظلم سہنے کو میرا ہی انتخاب ہونا تھا کیوں زلیخا کا خواب بن نہ گیا گر مجھے ...

مزید پڑھیے

مجھے بخشی خدا نے کون روکے گا زباں میری

مجھے بخشی خدا نے کون روکے گا زباں میری تمہیں ہر حال میں سننی پڑے گی داستاں میری کبھی تو شاہراہ زندگی تھی کہکشاں میری مگر اب کارواں میرا نہ گرد کارواں میری ابھی لوگوں کے دل میں خار کی صورت کھٹکتا ہوں ابھی تک یاد ہے اہل چمن کو داستاں میری مرے گزرے ہوئے تیور ابھی بھولی نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے روٹھی مری تقدیر تھی وہ آج بھی ہے

مجھ سے روٹھی مری تقدیر تھی وہ آج بھی ہے آہ بیگانۂ تاثیر تھی وہ آج بھی ہے آپ کی چشم عنایت کے تصرف کی قسم بزم کی بزم جو دلگیر تھی وہ آج بھی ہے انقلابات کی یورش ہے الٰہی توبہ دل میں اک حسرت تعمیر تھی وہ آج بھی ہے وسعت خواب ازل اتنی سمجھ میں آئی روشنی کوشش تعبیر تھی وہ آج بھی ہے اس ...

مزید پڑھیے

غزل وہی ہے جو ہو شاخ گل نشاں کی طرح

غزل وہی ہے جو ہو شاخ گل نشاں کی طرح اثر ہو جس میں جمال پری رخاں کی طرح سمجھ رہے تھے کہ آساں ہے عشق کی منزل حواس اڑنے لگے گرد کارواں کی طرح اگر ہے دل میں کشش خود قریب آئیں گے ابھی تو دور ہیں وہ مجھ سے آسماں کی طرح مسرتوں کے خزینے بھی اس پہ قرباں ہیں عزیز مجھ کو ترا غم ہے اپنی جاں کی ...

مزید پڑھیے

قدرت ہے طرفہ کار تجھے کچھ خبر بھی ہے

قدرت ہے طرفہ کار تجھے کچھ خبر بھی ہے وہ آئنہ شکن بھی ہے آئینہ گر بھی ہے صحرا کو چھوڑ دیں تو کہاں جا کے یہ رہیں آوارگان عشق و محبت کا گھر بھی ہے مسجود کائنات ہو جیسے نظر نواز کتنا لطیف وقت طلوع سحر بھی ہے کعبہ کا احترام ہے اک فرض خوش گوار میں کیا کروں نظر میں ترا سنگ در بھی ...

مزید پڑھیے

جو بجھ سکے نہ کبھی دل میں ہے وہ آگ بھری

جو بجھ سکے نہ کبھی دل میں ہے وہ آگ بھری بلائے جاں ہے محبت میں فطرت بشری قفس میں ہم نے ہزاروں اسیر دیکھے ہیں رہا ہے کس کا سلامت غرور بال و پری ترے جمال کے اسرار کون سمجھے گا پناہ مانگ رہا ہے شعور دیدہ دری سفر عدم کا ہے دشوار تو اکیلا ہے مجھے بھی ساتھ لیے چل ستارۂ سحری بنا بنا کے ...

مزید پڑھیے

قاصد نہیں یہ وقت سوال و جواب کا

قاصد نہیں یہ وقت سوال و جواب کا اب حال غیر ہے دل خانہ خراب کا تم دیکھنے کی چیز ہو دیکھا کرے کوئی یہ حسن یہ جمال یہ عالم شباب کا تمہید بے خودی تھا کہاں تھا حواس و ہوش خلوت میں آ کے ان کا الٹنا نقاب کا کیا آتش فراق نے دل پر اثر کیا ان آنسوؤں میں میرے مزا ہے کباب کا ہم نے تو اپنی ...

مزید پڑھیے

ہم کو تو ربط خاص ہے دار و رسن کے ساتھ

ہم کو تو ربط خاص ہے دار و رسن کے ساتھ جینے کی آرزو ہے مگر بانکپن کے ساتھ دل میں ہمارے شوق ہے غم ہے امید ہے صحرا نوردیاں ہیں مگر انجمن کے ساتھ حیرت سے برہمی کی ادا دیکھتے رہے کتنی کہانیاں تھی جبیں پر شکن کے ساتھ اب خیریت کہاں ہے نگاہ شعور کی الجھی ہوئی ہے زلف شکن در شکن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 788 سے 5858