چمن چمن ہی نہیں ہے جو لالہ زار نہیں
چمن چمن ہی نہیں ہے جو لالہ زار نہیں ہم اس کو دل نہیں کہتے جو داغدار نہیں میں چل رہا ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ مگر فضا زمانے کی پھر بھی تو سازگار نہیں رقیب جھوٹ کہے گا تو سچ سمجھ لو گے کہیں گے سچ بھی اگر ہم تو اعتبار نہیں میں ان کے حسن کو الزام دینے والا کون جب اپنے دل پہ مجھے خود ہی ...