شاعری

سوئے منزل کوئی کارواں لٹ گیا

سوئے منزل کوئی کارواں لٹ گیا کس کی امید کا یہ جہاں لٹ گیا تو نے اف تک نہ کی دیکھتا رہ گیا تیرے کوچہ میں اک کارواں لٹ گیا کوئی حسرت نہ گلچیں کے دل میں رہی پھول مرجھا گئے گلستاں لٹ گیا تم تو ہشیار تھے کیوں ہوئے بے خبر دل تو نادان تھا ناگہاں لٹ گیا کوئی آئے مدد کے لئے اب مری گل ...

مزید پڑھیے

کسی کے لب پہ بھولے پن سے میرا نام ہے شاید

کسی کے لب پہ بھولے پن سے میرا نام ہے شاید مری بے چارگی سے پھر کسی کو کام ہے شاید یہ ہلچل سی مچی ہے آج جو سارے زمانے میں سنا ہے کچھ ہمارے واسطے پیغام ہے شاید تمہیں بھی راس آئے یا نہ آئے آج کا عالم تمہارا بھی ہماری ہی طرح انجام ہے شاید زمانے کو نہیں بھایا مرا خاموش سا رہنا خموشی ...

مزید پڑھیے

کس لیے گردش حالات کا رونا ہے میاں

کس لیے گردش حالات کا رونا ہے میاں وہ تو ہو کر ہی رہے گا کہ جو ہونا ہے میاں فیصلہ کر نہ سکی عقل کہ اس دنیا میں آدمی خود کوئی قوت کہ کھلونا ہے میاں میں کسی چیز کو پا کر بھی کبھی خوش نہ ہوا جانتا ہوں کہ ہر اک چیز کو کھونا ہے میاں اس کا کیا ذکر کہ محروم ثمر ہیں ہم لوگ نسل فردا کے لیے ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو اس سے جدائی کا سبب گھر جاؤ

کچھ بھی ہو اس سے جدائی کا سبب گھر جاؤ ڈھل چکی شام اندھیرا ہوا اب گھر جاؤ شب میں گھس آتے ہیں آسیب مرے شہروں میں تاک میں رہتی ہے یہ وحشت شب گھر جاؤ لوگ حق مانگنے پہنچے تھے شہنشاہ کے پاس نوک خنجر پہ ملا حکم کے سب گھر جاؤ نہیں یہ زخم قبیلے کے لیے باعث ناز قتل ہو لو کسی تلوار سے تب گھر ...

مزید پڑھیے

شہر میں کیسا خطر لگتا ہے

شہر میں کیسا خطر لگتا ہے اپنے سائے سے بھی ڈر لگتا ہے آج پھر دل ہے دعا پر مائل بند پھر باب اثر لگتا ہے کچھ وقار در و دیوار نہیں ہو مکیں گھر میں تو گھر لگتا ہے آشیاں جس میں پرندوں کے نہ ہوں کتنا تنہا وہ شجر لگتا ہے آسماں کتنا جھک آیا ہے شریفؔ سر اٹھاتا ہوں تو سر لگتا ہے

مزید پڑھیے

ایک شے تھی کہ جو پیکر میں نہیں ہے اپنے

ایک شے تھی کہ جو پیکر میں نہیں ہے اپنے جس کو دیتے ہو صدا گھر میں نہیں ہے اپنے تجھے پانے کی تمنا تجھے چھونے کا خیال ایسا سودا بھی کوئی سر میں نہیں ہے اپنے تو نے تلوار بھی دیکھی نگۂ یار بھی دیکھ یہ تب و تاب تو خنجر میں نہیں ہے اپنے کس قبیلے سے اڑا لائی ہے فوج اعدا ایسا جرار تو لشکر ...

مزید پڑھیے

کہانی میری بربادی کی جس نے بھی سنی ہوگی

کہانی میری بربادی کی جس نے بھی سنی ہوگی نظر میں اس کے اک تصویر حیرت کھنچ گئی ہوگی ستا لو جس قدر چاہو اداؤں سے جفاؤں سے قسم کھاتا ہوں گر ہوگی تمہیں سے دوستی ہوگی وفا کو بھی مری ہمدم جفا ہی جو سمجھتے ہیں مجھے معلوم ہے اک دن انہیں شرمندگی ہوگی ارے نادان تجھ کو کاش یہ معلوم ہو ...

مزید پڑھیے

دل کو نصیب سوز غم گلستاں کہاں

دل کو نصیب سوز غم گلستاں کہاں ہوتا تو آج ہوتا یہ درد نہاں کہاں ذوق بہار ہی ہے نہ خوف خزاں مجھے گم سم ہے اپنے حال میں طبع رواں کہاں جس سے گلوں کے ضبط کا دامن ہو تار تار ہے عندلیب تیرا وہ ذوق فغاں کہاں ہو جائے اب نہ ختم فسانہ فراق کا ہیں نور صبح رات کی نیرنگیاں کہاں لے جائے گی صبا ...

مزید پڑھیے

بیزار پھر نہ ہوں گے کبھی زندگی سے ہم

بیزار پھر نہ ہوں گے کبھی زندگی سے ہم ہو لیں ترے قریب جو خوش قسمتی سے ہم اے کاش ہم بھی ہوتے کبھی اتنے خوش نصیب غم بانٹتے کسی کا تو ہنستے کسی سے ہم تم نے بلا لیا تو چلے آئے بزم میں کب چاہتے تھے قرب حریفاں خوشی سے ہم انجام طور آج بھی اپنی نظر میں ہے غش کھا نہ جائیں آپ کی جلوہ گری سے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک بات پہ کیوں پیچ و تاب ہوتا ہے

ہر ایک بات پہ کیوں پیچ و تاب ہوتا ہے عزیزو جرم محبت عذاب ہوتا ہے فراز بام پہ دیکھا ہے جب کبھی ان کو نظر میں بیچ رخ ماہتاب ہوتا ہے فقط یہ عشق و محبت کی ہم پہ آفت ہے کہ جب بھی ہوتا ہے ہم پر عتاب ہوتا ہے جہاں پہ ظلم و ستم حد سے اپنی بڑھتے ہیں یقین مانو وہیں انقلاب ہوتا ہے نہ انجمن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 790 سے 5858