شاعری

ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا

ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا دھوکہ مجھے وہ عین جوانی میں دے گیا یہ اور بات مصرع اولیٰ میں کچھ نہیں لیکن وہ حسن مصرع ثانی میں دے گیا دریا نے تشنہ لب سے سیاست عجیب کی کچھ زہر بھی ملا کے وہ پانی میں دے گیا لایا ہزار خوشیاں مجھے سونپنے مگر پھر کیوں یہ رنج ریشہ داوانی میں دے ...

مزید پڑھیے

ویرانی

شب کی تاریک رہ گذاروں میں سوکھتے ہیں امید کے دھارے جل رہا ہے شباب کا خرمن ٹوٹتے ہیں امید کے تارے اس فضا میں مہیب پیکر ہیں دل کی بستی اجڑتی جاتی ہے اب ہوا ان حسین راہوں پر ایک عفریت بن کے آتی ہے

مزید پڑھیے

شعلہ ساز

کیف وصال کی وہی دنیا نصیب ہو ہمدم کبھی کبھی یہ دعا مانگتا ہوں میں مٹ جائے جسم و روح کی جس سے یہ غیریت بیگانۂ وفا یہ وفا مانگتا ہوں میں اس شعلہ ساز گیت کی شدت کو پا کے بھی کیوں مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا مانگتا ہوں میں

مزید پڑھیے

اجنبی راہگزر

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے ہر طرف درد کے لمبے سائے راستے پھیل گئے دور گئے دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی محجوب نظارہ ابھرے اور مجبور فقیروں کی طرح ہر قدم چلتی ہے دستک دستک ہر نفس ایک نئی راہ ہر اک سمت میں بھاگی لیکن جس طرح وصل کا ہر لمحہ ...

مزید پڑھیے

فریب نظر

سوز الفت کا آسرا لے کر عمر اتنی گزار دی میں نے حسن کی جاں گداز راہوں پر دل کی دنیا نثار کی میں نے زندگی کے حسین لمحوں میں میری محبوب گیت گاتی تھی چاندنی آبشار میں دھل کر ہدیۂ شوق لے کے آتی تھی تلخی زیست کا وجود نہ تھا پاس وادی میں تھی رہ تکمیل سرمدی زیست طوف کرتی تھی اپنی تخئیل ...

مزید پڑھیے

ماضی

زندگی کے حسن کا پیغام تھا پیغام شوق دیدۂ حیراں میں رقصاں تھی محبت کی بہار اس ہجوم کشمکش سے بے خبر تھی بزم ذوق مجھ کو تھا سب نو بہ نو رنگینیوں پر اختیار جب سحر کے پھوٹتے ہی شام کا تھا انتظار اک ہجوم شوق سے تھا جب ہمارا دل گداز ان دنوں کب زندگی کی تلخیاں تھیں آشکار کیف زا تھا دو ...

مزید پڑھیے

اندھیارا

اندھیارا اور خاموشی مل جاتے ہیں درد بہت بڑھ جاتا ہے دنیا پر وحشت چھا جاتی ہے کہنے کو باتیں ہیں با معنی بھی بے معنی بھی جب بات کا مطلب اڑ جائے الفاظ پریشاں ہو جائیں کیا جانے کیا کہنا کس سے کہنا کیا ہے پتھر پتھر ٹھوکر لگتی ہے رشتہ غائب ہو جاتا ہے اپنے سے یا اور کسی سے بندھن ...

مزید پڑھیے

جدائی

وہ سوز و ساز محبت وہ پر فسوں راتیں وہ ہلکا ہلکا ترنم وہ جاں فزا باتیں وہ ندیوں کا تلاطم وہ پتھروں کا خروش وہ ماہتاب جواں زرد پر سکوں خاموش وہ بہکے بہکے مناظر فسوں نواز ہوا وہ نیل کنٹھ وہ چشمے پہ شارکوں کی صدا طلسم عہد محبت کی مد بھری راہیں وفور کیف و جنوں کی حسیں جلو گاہیں مرے ...

مزید پڑھیے

تجسس

کائنات زیست پر افسردگی سی چھا گئی فرط غم سے دل مرا ویرانیوں میں کھو گیا اور میری بے بسی افسون دل کو پا گئی دیکھتے ہی دیکھتے کیا جانے یہ کیا ہو گیا اپنی حیرانی میں کوئی راہ جیسے کھو گیا جادۂ منزل سے کوسوں دور بے بزم خیال بیٹھے بیٹھے میں جہاں میں اک فسانہ ہو گیا کر دیا ہے اس ہجوم ...

مزید پڑھیے

ایشیا جاگ اٹھا

ایشیا جاگ اٹھا خواب گراں سے کیسے دل نشیں جسم میں اک زہر کا طوفان لئے کینچلی بدلے ہوئے سانپ کی پھنکار لئے ہر شقاوت کے لئے موت کا سامان لئے ایشیا جاگ اٹھا اہل مشرق کو نئی زیست کی پھر سے ہے تلاش یہ تڑپتے ہوئے گونگے یہ بلکتے حیواں اپنے آقاؤں کے دیرینہ غلاموں کی یہ لاش ظلم توڑا کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 706 سے 5858