شاعری

گیت خوشی کا گاؤ

پیار کی منزل دور ہے پیارے رگ رگ جاگے خون کا دھارا جب تک آس ہے باقی ساز پر رقص سناؤ گیت خوشی کا گاؤ ناحق درد لبادہ اوڑھے کب کب دکھ کا تحفہ دو گے دل خوں ہو جائے گا جو بھی ہے لے آؤ گیت خوشی کا گاؤ اونچا اونچا اڑنے والو پگلے پن سے حاصل کیا ہے دیکھو نیچے نیچے دیکھو جلدی جلدی آؤ گیت خوشی ...

مزید پڑھیے

آرزو

نہ جانے میرے دل کی خود فریبی کیوں نہیں جاتی تخیل سے حسیں خوابوں کے منظر گم نہیں ہوتے مری جاں سے فسون سوز و غم چھن کیوں نہیں جاتا نہ جانے میرے دل کی خود فریبی کیوں نہیں جاتی وہی غربت وہی مشکل وہی ویراں فضائیں ہیں وہی مظلوم انساں ہیں وہی بے بس دعائیں ہیں نظام بزم انساں میں وہی ظالم ...

مزید پڑھیے

سانس کی آس نگہباں ہے خبردار رہو

سانس کی آس نگہباں ہے خبردار رہو دل چراغ تہ داماں ہے خبردار رہو پھر دو عالم کے اجڑنے کی گھڑی آ پہنچی آج پھر حسن پشیماں ہے خبردار رہو جادۂ شہر تصور کہ رہا رشتۂ جاں صورت گرد پریشاں ہے خبردار رہو پھر کسی دل میں قیامت نے سکوں ڈھونڈ لیا آج پھر وا در زنداں ہے خبردار رہو رنگ و خوشبو ...

مزید پڑھیے

غم کی بھٹی میں بصد شوق اتر جاؤں گا

غم کی بھٹی میں بصد شوق اتر جاؤں گا تپ کے کندن سا میں اک روز نکھر جاؤں گا زندگی ڈھنگ سے میں کر کے بسر جاؤں گا کام نیکی کے زمانے میں میں کر جاؤں گا مر کے جانا ہے کہاں مجھ کو نہیں یہ معلوم رہ کے دنیا میں کوئی کام تو کر جاؤں گا غم اٹھا لوں گا جو بخشے گا زمانہ مجھ کو تیرے دامن کو تو ...

مزید پڑھیے

مسئلے کا حل نہ نکلا دیر تک

مسئلے کا حل نہ نکلا دیر تک رات بھر جاگ بھی سوچا دیر تک مسکرا کر اس نے دیکھا دیر تک دل ہمارا آج دھڑکا دیر تک آپ آئے ہیں تو یہ آیا خیال بام پر کیوں پنچھی چہکا دیر تک ٹوٹتے ہی ان سے امید وفا دل ہمارا پھر نہ دھڑکا دیر تک پھول اپنے رس سے ونچت ہو گیا پھول پر بھنورا جو بیٹھا دیر تک کھل ...

مزید پڑھیے

تیرے ملنے سے ہم کو خوشی مل گئی

تیرے ملنے سے ہم کو خوشی مل گئی یوں لگا اک نئی زندگی مل گئی آپ کے دم سے ہے زندگی زندگی آپ کیا مل گئے زندگی مل گئی ہم تو تنہا چلے تھے مگر راہ میں مل گئے ہم سفر دوستی مل گئی لوگ تاریکیوں میں بھٹکتے رہے دل جلا کر ہمیں روشنی مل گئی زر ملا ہے کسی کو کسی کو زمیں تیرے در کی ہمیں بندگی مل ...

مزید پڑھیے

ترے اعجاز سے

ترے اعجاز سے قائم مری دنیا کی رونق ہے تری دل بستگی سے شورشیں ہیں بزم ہستی میں ترے دم سے جہاں میں سرفرازی مجھ کو حاصل ہے میں تیرے گیت گاتا ہوں جہان کیف و مستی میں جنوں انگیز موسم کی قیامت خیز راتوں میں تبسم زا ستاروں کی قطاریں جب بکھرتی ہیں ردائے نیلگوں پر چاندنی جب کھیت کرتی ...

مزید پڑھیے

دکھ

اک جنگل ہے گھنیرا گہرا الجھی شاخوں کے رگ و پے میں سہمتے پتے ہر طرف دور تلک تیز ہوا چیختی ہے آبشار آتے ہیں صدا کی مانند اور شعلوں کے سمندر بن کر سانپ لہریں ہیں زباں کو کھولے ایک پر اسرار خموشی کی ہر اک سمت پکار ہر طرف دور بھی نزدیک بھی اوپر نیچے ایک گمبھیر اندھیرا صحرا

مزید پڑھیے

وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے

وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے یاد کرتے ہیں مگر لوگ فسانے تیرے کاش وہ دن نہ کبھی آئے کہ تو آ جائے راس آتے ہیں مرے جی کو بہانے تیرے ایسی افتاد پڑی اپنی خبر بھی نہ رہی ہم تو آئے تھے یہاں رنگ جمانے تیرے کل چھپا رکھتے تھے خود سے بھی محبت اپنی آج آئے ہیں تجھے داغ دکھانے تیرے خلق ...

مزید پڑھیے

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں لوگوں کی نگاہ سے بچا لوں کیوں تجھ پہ گمان بے وفائی کیوں اپنے ہی دل کی بد دعا لوں دیوار امید گر رہی ہے تصویر تری کہاں لگا لوں آئنے کی دھند صاف کر کے کیوں خود کو نہ حال دل سنا لوں یہ فاصلے کیسے ختم ہوں گے میں کیسے تجھے یہاں بلا لوں کٹتے ہی نہیں پہاڑ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 707 سے 5858