شاعری

ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا

ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا دھوکہ مجھے وہ عین جوانی میں دے گیا یہ اور بات مصرع اولیٰ میں کچھ نہیں لیکن وہ حسن مصرع ثانی میں دے گیا دریا نے تشنہ لب سے سیاست عجیب کی کچھ زہر بھی ملا کے وہ پانی میں دے گیا لایا ہزار خوشیاں مجھے سونپنے مگر پھر کیوں یہ رنج ریشہ داوانی میں دے ...

مزید پڑھیے

کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ

کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ لفظ لپٹے ہیں مرے حلقۂ زنجیر کے ساتھ خواب میں دیکھا تھا کل رات نظارہ کیسا ایک زنجیر بندھی تھی مری تصویر کے ساتھ حشر تک جیت کا ارمان لیے بیٹھا رہا وقت کی ناؤ پہ ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ بات ہم کو نہ سمجھ آئی تمہاری اب تک بات ہم کو ذرا سمجھاؤ تو ...

مزید پڑھیے

میرا وجود قابل صحرا تو ہے نہیں

میرا وجود قابل صحرا تو ہے نہیں سودا تمہارے عشق کا رکھا تو ہے نہیں بہتر ہے بھول جاؤں میں اس کی مخالفت اس سے نجات کا کوئی ذریعہ تو ہے نہیں اس دل میں ایک حلقۂ احباب اور ہے خالی تمہارے نام کا ٹھپہ تو ہے نہیں اگنی کے سات پھیرے لئے ہیں تمہارے ساتھ خالی یہ چند روز کا رشتہ تو ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی کے شکار کتنے ہیں

زندگی کے شکار کتنے ہیں اب بچے اور وار کتنے ہیں خوب ہنستے تھے پیٹھ کے پیچھے سامنے سوگوار کتنے ہیں ہم بھی سیراب ہو چکے غم سے اب یہاں روزگار کتنے ہیں جسم کی ٹوٹی سرحدوں کے پار دل کے باقی دیار کتنے ہیں میری آنکھو کے قید خانے سے خواب میرے فرار کتنے ہیں

مزید پڑھیے

ڈوب کر غم کی ندی میں مسکرانا چھوڑ دیں

ڈوب کر غم کی ندی میں مسکرانا چھوڑ دیں آپ کی خاطر یہ دیوانے زمانہ چھوڑ دیں پھر سمندر پر لگے گی نسل آدم کی قطار ابر دھرتی پر اگر پانی کو لانا چھوڑ دیں میری طاقوں میں دھرے میری غریبی کے چراغ سلسلہ سورج سے اپنا کیا بتانا چھوڑ دیں آپ کی رنگت بدلنے کا مجھے بس خوف ہے دھوپ سے اپنے تعلق ...

مزید پڑھیے

صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں

صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں بھر دو سمندروں کو ہمارے گلاس میں دل میں خیال خاک تمنا لیے ہوئے لیٹا ہوا ہے کون یہ میلے لباس میں موجوں کا لہجہ دیکھ کے محسوس یہ ہوا دریا نہیں ہے آج تو ہوش و حواس میں اپنے حسین خواب کی تعمیر کے لیے بیچا ہے خود کو میں نے مہاجن کے پاس ...

مزید پڑھیے

المیہ

زندگی تدبیر درماں کے سوا کچھ بھی نہیں ایک پیہم کاوش جاں کے سوا کچھ بھی نہیں اپنے بس میں روشنی ہے اپنے بس میں تیرگی زندگی خود سعیٔ انساں کے سوا کچھ بھی نہیں عقل لرزاں ہر قدم پر اپنی ناداری سے ہے جذبۂ دل شورش جاں کے سوا کچھ بھی نہیں علم و عرفاں کی ہم آہنگی صبور دل سے ہے عقل و دانش ...

مزید پڑھیے

آدرش

منتخب زیست کے لئے منزل کب سے کی ہے مری نگاہوں نے کب سے بخشی ہے زندگی مجھ کو فکر کی ان حسین راہوں نے میرے ہر سمت راہ میں حائل معصیت کی کشش معیشت کی میری قسمت ہے کاوش ہستی جستجو مجھ کو آدمیت کی یک قدم یک ہزار فرسنگ است

مزید پڑھیے

بنا کے چاروں طرف اک لکیر بیٹھا ہے

بنا کے چاروں طرف اک لکیر بیٹھا ہے گھنے درخت کے نیچے فقیر بیٹھا ہے کرے گا کون محبت یہاں دوبارہ دوست فریب عشق کلیجہ کو چیر بیٹھا ہے میں کیسے خود کو بچا پاتا تیری نظروں سے بڑا سٹیک نشانے پہ تیر بیٹھا ہے سبق کوئی نہیں دیتا دلوں کو جوڑنے کا اسی ملال میں ڈوبا کبیر بیٹھا ہے اٹھے گی ...

مزید پڑھیے

کان میں آ کے کوئی شخص صدا دیتا ہے

کان میں آ کے کوئی شخص صدا دیتا ہے خوف موہوم کی شدت کو بڑھا دیتا ہے چاندنی رات میں دیدار ترے پرتو کا میرے فرہاد کو شیریں سے ملا دیتا ہے ہجر کی رات میں وہ کیف تصور تیرا جو ارادوں میں نیا جوش جگا دیتا ہے بات کرنے کا ترے رنگ برنگا لہجہ زندگی کو مری رنگین بنا دیتا ہے میرا حالات سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 705 سے 5858