شاعری

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے مسکراتے موت کے سائے میں دیوانے ملے اہل دل چلنے لگے جب بھی سوئے دیر و حرم منتظر اس راہ میں ہر بار میخانے ملے دور ماضی جب چراغ یاد سے روشن ہوا وقت کی کھلتی ہوئی ہر تہ میں افسانے ملے بھول کر آزار دل حیرت میں پتھر ہو گئے دشمنوں کے بھیس میں جب ...

مزید پڑھیے

وہ پاس آئے تو دل بے قرار ہونے لگا

وہ پاس آئے تو دل بے قرار ہونے لگا سکون دل کا مرے انتشار ہونے لگا ہے راز کیا اے محبت بتا دے ہم کو ذرا قریب آنے پہ کیوں انتظار ہونے لگا ذرا سمجھنے دے ساقی یہ ماجرا کیا ہے کہ جام پینے سے پہلے خمار ہونے لگا پھر آسمان مقدر پہ کوئی ہلچل ہے کہ ناگہاں مرے دل پہ غبار ہونے لگا کبھی وہ آ ...

مزید پڑھیے

ہجوم یاس میں لینے وہ کب خبر آیا

ہجوم یاس میں لینے وہ کب خبر آیا اجل نہ آئی تو غش کس امید پر آیا بچھے ہیں کوئے ستم گر میں جا بجا خنجر رگ گلو کا لہو پاؤں میں اتر آیا دکھائی مرگ نے کیا کیا بلندی و پستی چلے زمیں کے تلے آسماں نظر آیا ہمیشہ عفو ترا ہے گناہ کا حامی ہمیشہ رحم تجھے میرے حال پر آیا بتوں میں کوئی بھلائی ...

مزید پڑھیے

ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا

ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا یہ حاصل کم نہیں دل کی لگی کا وہی راہیں اکیلی آج پھر میں بھرم سب مٹ گیا ہے دوستی کا یہ تنہائی یہ آزادی کا عالم مزہ آنے لگا ہے زندگی کا جہاں دل میں سمٹتے جا رہے ہیں تماشہ ہو رہا ہے بے خودی کا ہزاروں ساز دل میں بج رہے ہیں اثر ہونے لگا ہے بندگی کا ہماری ...

مزید پڑھیے

گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا

گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا غم تا دم حیات نکھرتا چلا گیا یادوں کی وادیوں میں جہاں رکھ دئے قدم ہر نقش زندگی کا ابھرتا چلا گیا لطف و کرم کا دور بھی آیا تو اس طرح جھونکا ہوا کا جیسے گزرتا چلا گیا سن لی اگر کسی کی کبھی آہ دل خراش نشتر سا ایک دل میں اترتا چلا گیا آغاز عشق کی فقط ...

مزید پڑھیے

فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے

فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے ہم بہت دور ہیں کناروں سے دل منور ہوا شراروں سے ہم کو نسبت ہے چاند تاروں سے خوب مہکے خزاں کے موسم میں زخم کھائے تھے جو بہاروں سے گلستاں آپ کو مبارک ہو اپنی عظمت سے ریگ زاروں سے پھول برسے ہیں بعد مرگ ان پر شغل کرتے رہے جو خاروں سے یاد پھر رنگ میں نظر ...

مزید پڑھیے

بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے

بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے مقام اور نہیں دوستی سے بھی آگے مریں تو ملیں زندگی کے اشارے مگر موت پھر زندگی سے بھی آگے بہت دور تک دب چلے روشنی میں اندھیرے ملے روشنی سے بھی آگے نہ اپنا پتہ ہے نہ ان کی خبر ہے کہاں آ گئے بے خودی سے بھی آگے نہ احساس مالک نہ احساس خدمت مقام آ گیا بندگی ...

مزید پڑھیے

نہ خون دل ہے نہ مے کا خمار آنکھوں میں

نہ خون دل ہے نہ مے کا خمار آنکھوں میں بسی ہوئی ہے تمہاری بہار آنکھوں میں پھری ہیں پتلیاں بیگانہ وار آنکھوں میں چھپا ہوا ہے کوئی پردہ دار آنکھوں میں امید جلوۂ دیدار بعد مرگ کہاں بھری ہے یاس نے خاک مزار آنکھوں میں دیے بغیر ترے باغ میں گلوں نے داغ چبھوئے نرگس شہلا نے خار آنکھوں ...

مزید پڑھیے

ضبط فغاں سے آ گئی ہونٹوں پہ جاں تلک

ضبط فغاں سے آ گئی ہونٹوں پہ جاں تلک دیکھو گے میرے صبر کی طاقت کہاں تلک غفلت شعارہا کے تغافل کہاں تلک جیتا رہے گا کون ترے امتحاں تلک وہ میری آرزو تھی جو گھٹ گھٹ کے رہ گئی وہ دل کی بات تھی جو نہ آئی زباں تلک گلشن میں آ کے تم تو عجب حال کر گئے بھولے ہوئے ہیں مرغ چمن آشیاں تلک پامال ...

مزید پڑھیے

دل کی بساط کیا تھی جو صرف فغاں رہا

دل کی بساط کیا تھی جو صرف فغاں رہا گھر میں ذرا سی آگ کا کتنا دھواں رہا شب بھر خیال گیسوئے عنبر فشاں رہا مہکا ہوا شمیم سے سارا مکاں رہا کیا کیا نہ کاوشوں پہ مری آسماں رہا بجلی گرائی مجھ پہ نہ جب آشیاں رہا محشر بھی کوئی درد ہے جو اٹھ کے رہ گیا شکوہ بھی کوئی غم ہے جو دل میں نہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 688 سے 5858