شاعری

نکال لایا ہے گھر سے خیال کا کیا ہو

نکال لایا ہے گھر سے خیال کا کیا ہو لگا ہے زخم تو اب اندمال کا کیا ہو لے آئے کوچہ دلبر سے دل کو سمجھا کر ہے بے قرار بہت دیکھ بھال کا کیا ہو لٹا کے ماضی نظر اس صدی پہ رکھی ہے پہ نقشہ دیکھیے تحصیل حال کا کیا ہو ابھی زمانۂ موجود کی گرفت میں ہوں میں سوچتا ہوں کہ فکر مآل کا کیا ہو تھا ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسی ٹوٹ کے شہر جنوں کی یاد آئی

کچھ ایسی ٹوٹ کے شہر جنوں کی یاد آئی دہائی دینے لگی آج میری تنہائی گلے ملی ہیں کئی آ کے دل ربا یادیں کہیں یہ ہو نہ تری شکل یاد فرمائی کچھ اس قدر تھے سہم ناک حادثات حیات کہ تاب دید نہ رکھتی تھی میری بینائی سیہ کیے ہیں ورق میں نے اس توقع پر کبھی تو ہوگی مرے درد کی پذیرائی بدن سے ...

مزید پڑھیے

یہ روز و شب کا تسلسل رواں دواں ہی رہا

یہ روز و شب کا تسلسل رواں دواں ہی رہا یہ غم رسیدوں کی تقدیر میں زیاں ہی رہا تری زباں تھی مرے واسطے پہ دل کہیں اور تری روش کا یہ انداز درمیاں ہی رہا اٹھائے پھرتے رہے ہم یہ درد کی گٹھری مگر یہ درد محبت کہ بے اماں ہی رہا جب آئی رات امنڈ آئے یاد کے جگنو پھر اس کے بعد تو اک جشن کا سماں ...

مزید پڑھیے

شہر صحرا ہے گھر بیاباں ہے

شہر صحرا ہے گھر بیاباں ہے دل کسی انجمن کا خواہاں ہے مجھ سے کہتی ہیں وہ اداس آنکھیں زندگی بھر کی سب تھکن یاں ہے خواب ٹوٹے پڑے ہیں سب میرے میں ہوں اور حیرتوں کا ساماں ہے ہر مسرت گندھی ہوئی دکھ میں ارض اضداد دشت امکاں ہے تو سمندر کی بے کناری دیکھ اس میں معیار ظرف پنہاں ہے ہیں ...

مزید پڑھیے

چلتے چلتے چلے آئے ہیں پریشانی میں

چلتے چلتے چلے آئے ہیں پریشانی میں خواب تو دب چکے اس کوچے کی ویرانی میں توڑ کر پاؤں پڑے ہیں کہ وہ ہمت نہ رہی اڑتے بادل تھے کبھی چاک گریبانی میں ہجر کی راہ میں چلتے رہے گرتے پڑتے ساتھ کچھ بھی نہ لیا بے سر و سامانی میں اس شہنشاہ کو میں کیسے شہنشاہ کہوں سرحدیں ٹوٹتی ہوں جس کی جہاں ...

مزید پڑھیے

شوق آوارہ یوں ہی خاک بسر جائے گا

شوق آوارہ یوں ہی خاک بسر جائے گا چاند چپکے سے کسی گھر میں اتر جائے گا اس کی صحبت بھی ہے اک خواب سرا میں رہنا وہ جو چل دے گا تو یہ خواب بکھر جائے گا وقت ہر زخم کا مرہم ہے پہ لازم تو نہیں زخم جو اس نے دیا ہے کبھی بھر جائے گا جنس تازہ کے خریدار پڑے ہیں ہر سو کیسے بے کار مرا حرف ہنر ...

مزید پڑھیے

ہوں کس مقام پہ دل میں ترے خبر نہ لگے

ہوں کس مقام پہ دل میں ترے خبر نہ لگے ترے سلیقۂ گفتار کو نظر نہ لگے گھرا ہوا تھا تو کچھ ناگوار لوگوں میں ملال یہ ہے کہ اس وقت ہم کو پر نہ لگے اسیر قریۂ وحشت ہوں ایک مدت سے خرد کی راہ کسی طور معتبر نہ لگے مکاں وہی ہے پر اس کا مکین کیا اٹھا سحر بھی ہو تو وہ پہلی سی اب سحر نہ ...

مزید پڑھیے

فغان روح کوئی کس طرح سنائے اسے

فغان روح کوئی کس طرح سنائے اسے کہ زخم زخم بدن تو نظر نہ آئے اسے نہ دیکھنے کی سزا وار جس کو آنکھ ہوئی کوئی پیاسا بھلا ہاتھ کیا لگائے اسے سرور لذت حاصل کا کچھ سوا ہوگا چلن عطا کا اگر خسروانہ آئے اسے مرے لہو میں اتر آئیں گے نئے موسم چنی ہے دل میں جو دیوار سی وہ ڈھائے اسے کھلا نہ اس ...

مزید پڑھیے

ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے

ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے درد ہونٹوں پہ ہنسی بن کے بکھر جاتا ہے رنگ بھر جاتا ہے پھر عشق کے افسانے میں اشک بن بن کے اگر خون جگر جاتا ہے آج تک عالم وحشت میں پئے جاتے ہیں کتنی مدت میں گھٹاؤں کا اثر جاتا ہے جام پی لیتے ہیں سب دیکھنا ہے ظرف مگر کون کس وقت اٹھا اور کدھر جاتا ...

مزید پڑھیے

جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں

جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں نہ جانے ہے کتنا فسوں اس نظر میں تری جستجو ہی مری زندگی ہے مرے نقش پا میں ہر اک رہ گزر میں مری راہ منزل نے کیوں روک لی ہے ابھی لطف آنے لگا تھا سفر میں زمیں بن گئی آسماں بن گئے ہیں خدا جانے کیا خوبیاں ہیں بشر میں اسے دہر فانی سے پھر کیا تعلق مقدر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 687 سے 5858