علاج
دکھ کے آکاش میں پیار کا چیرہ لگا کے امید نے پوچھا اب کیسا لگ رہا ہے
دکھ کے آکاش میں پیار کا چیرہ لگا کے امید نے پوچھا اب کیسا لگ رہا ہے
اوندھے پڑے آکاش نے سیدھے منہ لیٹے آدمی سے کہا کتنے اکیلے ہو تم ایک پھسپھساہٹ ہوئی تم بھی تو پھر دونوں ہنسنے لگے
کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سے یہ وہ شمع تھی جو بھڑک اٹھی مری آہ نیم کشیدہ سے مری وحشتوں کی ہے انتہا کہ کسی کا حسن ہے رونما کبھی میرے دامن چاک سے کبھی میری جیب دریدہ سے میں نمود حسن الست ہوں میں چراغ عشق بدست ہوں یہ تجلیات بہار ہیں مرے رنگ و بوئے پریدہ سے تری یاد ...
عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیا شمع کوئی خاموش ہوئی یا کوئی ستارا ٹوٹ گیا کھیل رہی ہے برق تبسم پھول سے نازک ہونٹوں پر جانیے کس کی موت آئی ہے کس کا مقدر پھوٹ گیا کون تھا یہ بیمار محبت جس کی بالیں پر آ کر حسن بھی دریا دریا رویا عشق بھی سینہ کوٹ گیا تیری بھی تصویر ...
پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاں اب میں خزاں رسیدہ کہاں اور چمن کہاں اس دور میں وفا کی رسوم کہن کہاں منصور بھی اب آئے تو دار و رسن کہاں آتا ہے کون ہجر میں اے ذوق انتظار دور خزاں میں صدر نشین چمن کہاں میرے غرور عشق میں بے گانگی سہی لیکن تری نگاہ کا بیگانہ پن کہاں خود ہی مٹا سکے ...
ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا وقت اپنا زر خرید تھا ہنگام مے کشی لمحے کو طول دے کے ابد ہم نے کر دیا دل پند واعظاں سے ہوا ہے اثر پذیر اس کو خراب صحبت بد ہم نے کر دیا تسبیح سے سبو کو بدل کر خدا کو آج بالاتر از شمار و عدد ہم نے کر دیا بادہ تھا ...
ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوں تلاش حسن ہے شمع جوانی لے کے آیا ہوں تری محفل سے حسرت کی نشانی لے کے آیا ہوں وفا کی آرزو تھی سرگرانی لے کے آیا ہوں جہاں میں ذوق حسن جاودانی لے کے آیا ہوں کہاں کی کس خرابے میں کہانی لے کے آیا ہوں مری ہستی زمانے کے مٹائے سے نہیں مٹتی ازل سے میں ...
شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں رقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں ساتھ اگر باد سحر دے تو پس محمل یار اک بھٹکتی ہوئی آواز فغاں ہو جاؤں اب یہ احساس کا عالم ہے کہ شاید کسی رات نفس سرد سے بھی شعلہ بجاں ہو جاؤں لا صراحی کہ کروں وہم و گماں غرق شراب اس سے پہلے کہ میں خود وہم و ...
در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچے ہم غزالوں کے تعاقب میں ختن تک پہنچے ہاتھ مے خواروں کے بے قصد اٹھے تھے لیکن اتفاقاً ترے گیسو کی شکن تک پہنچے مدرسے میں کہاں اس زلف کا موضوع جدید لوگ پہنچے تو روایات کہن تک پہنچے راستہ ایک تھا ہم عشق کے دیوانوں کا قد و گیسو سے چلے دار و رسن تک ...
یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے مجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے آ ہم بھی رقص شوق کریں رقص مل کے ساتھ اے گردش زماں میرے ہاتھوں میں ہات دے اپنا سبو بھی آئنۂ جم سے کم نہیں رکھیں جو رو بہ رو خبر شش جہات دے اے دست راز مرکب دوراں ہے سست رو لا میرے ہاتھ میں رسن کائنات دے کچھ تو کھلے کہ ...