اے دوست نہ پوچھ مجھ سے کیا ہے
اے دوست نہ پوچھ مجھ سے کیا ہے بے تابیٔ عشق کا فسانہ انسان کی زندگی ہے فانی اور دل کی تڑپ ہے جاودانہ
اے دوست نہ پوچھ مجھ سے کیا ہے بے تابیٔ عشق کا فسانہ انسان کی زندگی ہے فانی اور دل کی تڑپ ہے جاودانہ
آنسوؤں میں الم کا رنگ نہ تھا قہقہوں میں خوشی کی بات نہ تھی تھے عجب ڈھنگ زندگانی کے کوئی بھی زندگی کی بات نہ تھی
اٹھاتے ہیں مزے جور و ستم کے کچھ ایسے خوگر بیدار ہیں ہم قفس کی تیلیاں ٹوٹیں تو پھر کیا اسیر الفت صیاد ہیں ہم
تمنا کچھ تو لے آتی ہے لب پر یہ کچھ قصے سناتی ہے نظر سے مگر ہے آنکھ ایسی راز پرور نظر کو بھی چھپاتی ہے نظر سے
عشق کی ابتدا ہے سوز دروں عشق کی انتہا ہے ذوق نگاہ دل اگر سرد ہے تو عشق جنوں اور اگر پست ہے نظر تو گناہ
دل کی ہر آرزو ہے خوابیدہ اب نہ وہ کیفیت نہ سوز نہ رنگ ہر نظر ایک شعلۂ بے نور ہر نفس ایک ساز بے آہنگ
لہو فقیروں کا سوز یقیں سے تھا جب گرم وہ نوچتے تھے گریبان بادشاہوں کے رہی نہ سینے میں جس دم حرارت ایماں سمٹ کے رہ گئے گوشوں میں خانقاہوں کے
جوانی کے زمانے یاد آئے محبت کے فسانے یاد آئے بھلانے پر بھی ان کی یاد آئی مجھے وہ ہر بہانے یاد آئے
ترے فراق میں زہراب غم پیے جاؤں ہزار موت کے صدمے سہوں جیے جاؤں بغیر دوست کے جینا گناہ ہے لیکن جو تو کہے تو میں یہ بھی گناہ کیے جاؤں
نہ جانے کٹ گیا کس بے خودی کے عالم میں وہ ایک لمحہ گزرتے جسے زمانہ لگے وہ ذوق و شوق محبت کی واردات نہ پوچھ جو آج خود بھی سنوں میں تو اک فسانہ لگے