یہ شوق شراب و جام و مینا کیسا
یہ شوق شراب و جام و مینا کیسا ساقی نہیں تو اگر تو پینا کیسا آنکھوں سے نہاں ہے تو تو ہستی کیا ہے آغوش میں تو نہیں تو جینا کیسا
یہ شوق شراب و جام و مینا کیسا ساقی نہیں تو اگر تو پینا کیسا آنکھوں سے نہاں ہے تو تو ہستی کیا ہے آغوش میں تو نہیں تو جینا کیسا
ہے فطرت زن رمیدہ آہو کی طرح چھو لو تو لرز جائے لجا لو کی طرح اس حسن کے پھول کو سنبھل کر دیکھو اڑ جائے نہ کہیں یہ بھی خوشبو کی طرح
برسات کی چھا گئیں گھٹائیں ساقی مے خانہ بہ دوش ہیں ہوائیں ساقی ہر ذرہ سرور کی بنا ہے تصویر آ ہم بھی ذرا پئیں پلائیں ساقی
یوں کون سی چیز ہے جو دنیا میں نہیں آنسو ساگر جہان پیدا میں نہیں اس قطرے میں کائنات غم ہے پنہاں اس قطرے کی وسعتیں تو دریا میں نہیں
پوچھتا کیا ہے ہم نشیں مجھ سے کس لیے ضبط آہ کرتا ہوں کہہ تو دوں تجھ سے حال دل اپنا تیری غم خواریوں سے ڈرتا ہوں
یہ ہوائیں تو موافق تھیں بہت کیوں ہواؤں نے ڈبو دی کشتی ایک طوفاں کے شناور نے کہا ناخداؤں نے ڈبو دی کشتی
کتنی ہنگامہ خو تمنائیں مضمحل ہو کے رہ گئیں دل میں جیسے طوفاں کی مضطرب موجیں سو گئی ہوں کنار ساحل میں
علم کے تھے بہت حجاب مگر حسن کا سحر پر فسوں ہی رہا عقل نے لاکھ کی عناں گیری عشق آمادۂ جنوں ہی رہا
آنکھوں میں خمار شوق افزا لے کر جذبات کی اک خموش دنیا لے کر آ جائے کوئی پیوں پلاؤں جھوموں بیٹھا ہوں سبو و جام و صہبا لے کر
آساں نہیں حال دل عیاں ہو جانا خاموشی سے تم نہ بد گماں ہو جانا خودداریٔ عشق نے سکھایا مجھ کو دل دے کے کسی کو بے زباں ہو جانا